سیاسی و مذہبی مضامین

خوابوں کی تعبیر اور ان کی حقیقت

جب نصرانی نے سونے کا محل خواب میں دیکھا

ایک بار عاشورہ کے روز قاضی کے پاس ایک فقیر آیا اور اس نے کہا کہ اس دن کے حق سے مجھے کچھ دو اس نے روگردانی کی لیکن ایک نصرانی نے اسے دیکھ کراتنا دیا کہ وہ راضی ہوگیا جب رات ہوئی تو قاضی نے خواب دیکھا کہ ایک سونے کا محل ہے اور ایک سرخ یاقوت کا، اس نے پوچھا کہ یہ دونوں محل کس کے لئے ہیں جواب ملا کہ تھے تو تمہارے ہی لئے اگر تم اس فقیر کی حاجت پوری کردیتے جب تم نے اسے نہ دیا تو فلاں نصرانی کو یہ دونوں مل گئے۔ وہ سہما ہوا اٹھا اور نصرانی کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا شب گزشتہ کو جو فقیر کو تونے دیا تھا اس کا ثواب میرے ہاتھ ایک لاکھ میں بیچ ڈال، اس نے جواب دیا کہ اگرتو ان دونوں محلوں کے چوکھٹ کی قیمت بھی ایک لاکھ دے گا تو تجھے نہ دوں گا میں شہادت دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور مسلمان ہوگیا۔

ماں کی خدمت پر اللہ تعالیٰ کا انعام

ابو یزید بسطامیؒ کہتے ہیں کہ ایک بار میری ماں نے پانی مانگا میں جو لایا تو ماں کو سوتا پایا میں اپنی ماں کی بیداری کے انتظار میں کھڑا رہا۔ جب میری ماں بیدار ہوئیں تو پوچھا کہ پانی کہاں ہے؟ میں نے آبخورہ دیدیا، میری انگلی پر تھوڑا ساپانی بہ کر گر پڑا تھا اور سردی کی شدت سے اس پر جم گیا پھر جو میں نے آبخورہ لیا تو میری انگلی کی کھال اڑگئی اور خون بہنے لگا، ماں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے حال بیان کیا تو کہنے لگیں اللہ تعالیٰ میں اس سے راضی ہوں آپ بھی اس سے راضی رہئے اور جب وہ پیٹ میں تھے تو ان کی ماں کبھی شبہ کا کھانا نہ کھاتی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب میں بیس برس کا تھا تو ایک رات میری ماں مجھ کو اپنے پاس سلانے کیلئے بلایا اور میرا جی شب بیداری کے لئے لگ گیا تھا۔

میں نے ان کا کہا مان لیا ایک ہاتھ ان کے نیچے رکھا اور دوسرا ان کے حکم کے موافق ان کی پشت پر رکھ کر لیٹ گیا اور قُلْ ہُوَاللّٰہُ اَحَدْ پڑھتا رہا اسی میں میرا ہاتھ سن ہوگیا میں نے کہا کہ ہاتھ تو میرا ہے اور والدہ کا حق خدا کیلئے ہے۔ چنانچہ میں نے اس پر صبرکیا یہاں تک کہ صبح طلوع ہوگئی میں نے اتنے عرصے میں دس ہزار بار قل ہواللہ احد پڑھی تھی اور اس کے بعد میں ہاتھ سے جو سن پڑگیا تھا کام نہ لے سکا جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان کے کسی ساتھی نے ان کو خواب میں دیکھا کہ جنت میں اڑتے پھر تے ہیں اور رحمن کی تسبیح میں مشغول ہیں ان سے پوچھا اس مرتبہ تک آپ کس وجہ سے پہنچ گئے، انہوں نے جواب دیا ماں باپ کے ساتھ سلوک کرنے سے اور مصیبتوں پر صبر کرنے سے۔ اور حضرت نبی ﷺ سے مروی ہے کہ اپنے والدین کا فرماں بردار بندہ اور پروردگار عالم کا فرمانبردار بندہ یہ دونوں اعلی علیین میں ہوںگے۔

مہلک تعبیرسے ایک شخص ہلاک

زمانۂ نبوت میں ایک شخص نے خواب دیکھا کہ وہ چارپائی (پلنگ) کو نگل گیاہے اس نے اپنے ایک دوست سے یہ خواب بیان کیا اس دوست نے مزاحاً کہہ دیا تو پھر تیرا پیٹ پھٹ جائے گا، کچھ دیر بعد اس کی موت واقع ہوگئی، نبی کریم eکو جب اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تو آپe نے ارشاد فرمایا اس کے دوست کی تعبیر نے اس کو ہلاک کردیا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایااس خواب کی تعبیر یہ نہ تھی جو بیان کی گئی بلکہ اس خواب میں اشارہ تھا کہ اس شخص کی شہرت اطرافِ عالم میں پھیل جائے گی۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کسی موقع پر ایک شخص کے خواب کی تعبیر بیان کی اس پر نبی کریم e نے فرمایاتھا:اَصَبْتَ بعضاً وَاَخْطأ تَ بعضاً۔ اے ابوبکر تم نے تعبیر کا بعض حصہ صحیح بیان کیا اور بعض میں غلطی کی، اس حدیث سے تعبیر خواب کی اہمیت پر روشنی پڑتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button