سیاسی و مذہبی مضامین

امیرشریعت مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی ادبی خدمات ✍️محمدشارب ضیاء رحمانی

امیرشریعت سابع مفکراسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی حیثیت عرفی، باکمال عالم دین،شاندارمنتظم،بہترین مدبر،تحریکی شخصیت ،قانونی باریکیوں کے ماہر، سجادہ نشیں، ماہرتعلیم ،مرشد،بے باک،خطیب العصراورمنفردسیاسی رہنماکی رہی ہے،لیکن ان کی شخصیت کایہ پہلوزیادہ عام نہیں ہے کہ وہ بے باک صحافی،صاحب طرز مصنف، منفرد نثر نگاراورشاعر بھی تھے۔انھوں نے تحقیقی ،ادبی اورعلمی کتابوں اورمضامین کابڑاذخیرہ چھوڑاہے۔ان کے چھوڑے ہوئے سبھی ادبی مہ پارے منظر عام پرآئیں تویہ ادب میںقابل قدراضافہ ہوگا۔

مکاتیب وخطوط:ادب میںخطوط ومکاتیب کی مستقل اہمیت ہے ۔آپؒ کے خطوط سائل کی باتوں کے تشفی بخش جواب ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کے شہکارہیں۔ بانی النخیل مولاناابن الحسن عباسیؒ کوان کی کتاب’یادگارزمانہ شخصیات کااحوالِ مطالعہ‘ کی اشاعت پرآپ نے ۲۶اکتوبر،۲۰۲۰کوجوتہنیتی خط لکھا،یہاں اس کے چندجملے بطورمثا ل پیش کیے جارہے ہیں۔مولانالکھتے ہیں:

’’لانباعرصہ شوق دیدمیں گزرا،اب مرحلۂ زیارت ہے۔جناب مولانامحمدعمرین محفوظ صاحب رحمانی کی کرم فرمائی سے کل یہ کتاب مونگیرپہنچی اورمیرے سامنے آئی۔ انھوں نے کرم یہ کیاکہ پچیس جلدیں مزیدمجھے بھجوادیں تاکہ باذوق مفت خوروں تک پہنچ جائیں۔آپ نے بہت بڑاکام کیا اور اناسی (۷۹) تجربہ کاربڑے ذی علم اور قلم کے امانت دارحضرات کے مطالعہ کے طریقے اورکتابوں کی سیرکوانھیں کے الفاظ میں کاغذپراتاردیا ہے۔میری نظرمیں یہ کتاب نظر کشا ہے،تجرباتی اورعلمی خزانہ ہے اورآنے والوں کے لیے ہدایت نامہ ہے۔

رہ وفاکے مسافرکریں میری تقلید دلیل راہ ہوں میں گردکارواں کی طرح

آپ کو،آپ کے ساتھیوں کواس کوہ کنی کے لیے دلی مبارک باد،اس کام کا بدلہ اورکچھ نہیں ہوسکتا بجزجزاک اللہ۔‘‘
چند سطورکے بعد تحریرفرماتے ہیں:

’’آپ کی عنایت ہے کہ آپ نے اس شرف باریابی کوقبولیت سے نوازا اورمیری تحریرکومجموعہ میں جگہ دی،اب میں جرأت کروں گاکہ لوگوں کو کہہ سکوں کہ اگرچہ ’’جو لکھا پڑھا تھا نیازنے،اسے صاف دل سے بھلا دیا‘‘مگرپڑھے لکھے لوگ اب بھی مجھے پڑھا لکھا سمجھتے ہیں۔

پچاس سال سے زیادہ کاعرصہ گزرا۔میں نے ایک کتاب ’درس زندگی‘پڑھی تھی جولاہورسے شائع ہوئی تھی،پطرس بخاری نے اسے اردوقالب میں ڈھالاتھا،بے نظیر چیزتھی،میں نے باربارکتاب پڑھی اورکامیاب لوگوں کاتصورزندگی اورطریقہ زندگی سمجھنے کی کوشش کی،یہ سارے ماہرین علم وفن ،کامیاب زندگی والے مغربی دنیاکے باشندہ تھے،اسی وقت سے جی چاہ رہاتھاکہ مشرقی دنیاکے اساطین علم وفن سے مددلی جائے اورایسی ہی بیش بہاکتاب تیارکی جائے،اللہ کافضل ہے کہ میر ا وہ خیال اس شکل میں آج سامنے ہے اورعلماء کرام کی حدتک آپ نے کام مکمل کردیا۔اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کی طرف سے قبول فرمائے،آپ کوبہترین بدلہ دے اورپھاواہم لوگوں کے حصہ میں بھی آجائے۔آمین۔‘‘(ماہنامہ النخیل،ص ۵۸،۵۹)

’مکاتیبِ ولی‘(زیرِطبع،مرتبہ حافظ محمدامتیازرحمانی) میں آپ کے خطوط کوجمع کیا گیا ہے جوادب کے شاہکار ہیں ۔ان کے علاوہ آپ نے متعددکتابوں کے مقدمے تحریرکیے۔ اگران مقدمات کوجمع کردیاجائے توبڑاعلمی کام ہوگا۔ شخصیات پربھی آپ نے تحریریں لکھی ہیںجوادبی سرمایے کی حیثیت رکھتی ہیں۔شخصیات پرلکھے مقالوں کا مجموعہ’آئی جوان کی یادتوآتی چلی گئی‘ زیرطبع ہے ۔اسی طرح حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ پر لکھے مقالے کی علم وادب کی اہم ہستیوں نے پذیرائی کی ہے۔

تنقیدی نقوش:آپ کی تحریروں میں تنقیدی نقوش بھی ملتے ہیں۔متعدد اہل قلم کی تحریروں پر آپ نے تنقیدی رائے دی ہے۔ آپ کے زیرِمطالعہ رہ چکی کتابوں پر درج تنقیدی تبصرے اور تحریریں اہمیت کی حامل ہیں ۔ان کے جمع و ترتیب کاکام جاری ہے۔ ان کے علاوہ آپ کے دل چسپ،تحقیقی اورمعلوماتی مضامین کی طویل فہرست ہے جن میں ’ربط آیات قرآنی اور حضرت شاہ ولی اللہ‘،’تصوف اورحضرت شاہ ولی اللہ‘ ،’مولاناآزاد:کئی دماغوں کا ایک انسان ‘کے علاوہ’ تصور خدا اور آخرت‘، ’بقرعید چند مناظر، چند مشاہدات‘، ’انکارخدا کی تحریک:مرض واسباب‘،’اقرارخدا‘،’ڈراون کی جدوجہد‘،’قرآن:علمی بحث ، اجتہاد‘، ’اصحاب فیل پرکس ذریعہ سے عذاب بھیجاگیا‘،’میراشوق مطالعہ‘،’تعلیم کے سلسلے میں کرنے کاایک کام‘،’مسلمانوں سے متعلق حکومت کے فیصلے کس طرح ہوتے ہیں‘،اور’وہ جو بیچتے تھے دوائے دل‘اہم اورقابل مطالعہ ہیں،اگران سب کویکجاکردیاجائے توبڑاادبی اورنثری سرمایہ ہوگا۔

مولانارحمانی بحیثیت مصنف:مولاناکی تصانیف کی تعداد۲۸ہے جوسیاست،قانون کے موضوعات کے علاوہ سماجی،قانونی،دینی،اصلاحی وسوانحی نوعیت کی ہیں۔آپ کے مشہور رسائل میں ’بیعت عہد نبویؐ میں‘،’ آپ کی منزل یہ ہے ‘،’ شہنشاہ کونینؐ کے دربارمیں‘،’دینی مدارس میں صنعت وحرفت کی تعلیم‘،’ لڑکیوں کا قتل عام‘، ’مجموعہ رسائل رحمانی ‘، ’تصوف اورحضرت شاہ ولی اللہ‘،’ ممبئی ہائی کورٹ کا تازہ فیصلہ، عدالتی روایات کے پس منظر میں‘،’کیا۱۸۵۷ء پہلی جنگ آزادی تھی‘، ’حضرت سجاد- مفکر اسلام‘،’مفت اور لازمی حصول تعلیم بچوں کا قانونی حق‘،’ مسلم پرسنل لا بورڈاورہندوستانی قانون‘، ’یادوں کاکارواں‘،’ اقلیتوں کی تعلیم اور حکومت ہند کوچند عملی مشورے‘،’ اقلیتی تعلیمی کمیشن ایکٹ: مختصر جائزہ‘،’صبح ایک زندہ حقیقت ہے،یقیناًہوگی‘،’اصلاح معاشرہ کی شاہ راہ‘اور’اپنے بچوں کی تعلیم کا عمدہ انتظام کیجیے‘ اہم اورمقبول عام ہیں۔ ان سے علمی گہرائی،حالات حاضرہ پر درک،قانونی نکات پرزبردست گرفت اورتحریری اسلوب کی انفرادیت واضح ہوجاتی ہے ۔یہ تمام کتابیں اہل علم وتحقیق کے لیے مفید ہیں۔

مولانارحمانی کااسلوب نگارش:تحریرکی زبان گفتگوکی زبان کی طرح آسان اورروزمرہ اورعام بول چال کے قریب،بے ساختہ ،شستہ اور ہموار تھی،ان میںلطافت ،نزاکت ،حلاوت ، مزاح کاحسین امتزاج ہے۔پڑھیے توپڑھتے چلے جائیے،’صحیفہ ‘ میں شائع آپ کے مضامین سے آپ کے سادہ اوربے ساختہ اسلوب نگارش کا اندازہ ہوجائے گا۔آپ کی تحریرکی بے ساختگی دیکھنی ہوتودیارنبی صلی اللہ علیہ وسلم کاسفرنامہ’شہنشاہ کونینؐ کے دربار میں‘پڑھ جایئے۔ابتداسے سے انتہا تک شدت عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کااحساس اورایسااحساس گویاہم دیارِرسول صلی اللہ علیہ وسلم پہونچ گئے ہیں۔یہ کتاب ایک عاشق رسول امتی کی عقیدت کا مظہر ہے اوریقین ہے کہ یہ عقیدت نامہ آپؒ کے درجات کی بلندی کاذریعہ ہوگا۔ چلیے،عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معطرآپؒ کے جملوں کے ذریعہ’ روضۃ من ریاض الجنۃ‘ کی سیرکرتے ہیں:

’’جنت کی اس کیاری میں قدم رکھنے و الا ٹھٹھک جاتاہے ، یہیں پڑے ہوں گے میرے آقا کے قدم،ان کے صحابہؓ کے قدم، وہ جھجھکتا بھی ہے کہ کیسے رکھے یہ گنہگارقدم ان نقوش پر، جنہیں زمین نے شہنشاہ کونین کا نشان قدم سمجھ کر اپنے سینہ میں محفوظ کر رکھا ہے۔ مگر اسے حوصلہ ملتاہے اس تعلیم سے کہ رسول کے نقش قدم پر چلو، وہ بے تابانہ قدم جماتاہے۔‘‘

’’رہ رہ کر خیال آتا، کیا یہ قدم اس پاک سرزمین سے لگنے کے لائق ہے ؟ دل سے آواز آئی ،جب تک ندامت کے آنسو قدموں کو نہ دھو ڈالیں، یہ قدم اس پاک سر زمین پر رکھنے کے قابل نہیں ، دل کی آواز پر ایسے نازک مرحلہ میں کون لبیک نہیں کہتا، آنکھوں نے دل کا ساتھ دیا اورجب اشک ندامت نے گناہوں کے بوجھ کوذراہلکا کیا تو قدم آگے بڑھے۔

آرزوئوں کے درسے دربار نبویؐمیں حاضری ہوئی، دورکعت نمازپڑھی، سورج نصف النہار پر نہیں پہنچا تھا ، اللہ کو یاد کرنے والے ابھی دو گھڑی کے لیے آرام کررہے تھے ، ایک گنہگار امتی آقا کے دربار میں سلام پیش کرنے کے لیے بڑھ رہا تھا، عجیب کیفیت تھی دل کی ، کبھی درود ، کبھی نعت کا کوئی مصرع اورکبھی الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ، شوق، قدم کو تیز بڑھا تا، احترام ، قدم کو تھا م لیتا،’’ریاض الجنۃ‘‘ میںجگہ خالی تھی ، جی چاہا دورکعت پڑھ لی جائے پھر حاضر ہوکر سلام پیش کیا جائے گا، دل نے کہا کہ پہلے سلام پیش کیا جانا چاہیے، ایک سلام قبول ہوگیا تو حاضری مقبول، ایک سلام بھاگیا تو کون سا مرحلہ پھر رہ جاتا ہے۔‘‘

کاش احساسات کو زبان مل جاتی ، کاش کیفیتوں کے اظہارکے لیے الفاظ ہوتے تو بتا تا کہ کیا بیتی اور اس دور خرافات میں بھی گنہگار ان عالم جب درباررسالت مآب میں پہونچتے ہیں تو کیسے کیسے مرحلوں سے گذرتے ہیں ، کیسے سوز و گداز سے واسطہ پڑتاہے ۔‘‘(شہنشاہ کونین کے دربار میں، ص۵،۶)

مولانا رحمانی کاشاعرانہ رنگ:مولانامحمدولی رحمانی جتنے اچھے نثرنگارتھے،اتنے ہی عمدہ شاعربھی تھے۔الگ بات ہے کہ ملی کازنے ان کے اندر کے شاعرکوزیادہ موقعہ نہیں دیالیکن جب موقعہ ملتا،عمدہ اوربرجستہ شعرکہتے۔نثرکے باب میںجہاںمولانامحمدولی رحمانیؒ، رشیداحمدصدیقی اور مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے اسیرتھے،وہیں شعرکے باب میںخواجہ میر درد اور جگرمرادآبادی کے قدر داں تھے۔چوں کہ مولانا کا میدان تصوف بھی تھا لہٰذا سمجھا جاسکتا ہے کہ صوفی شاعر میر دردسے مولانا کا لگائو فطری ہوگا۔لفظی بازی گری اور لفظوں کے الٹ پھیرسے مختلف معانی پیداکرنا اورتغزل جگرکی خصوصیت ہے۔مولانا محمدولی رحمانی ان کی اس لفظی بازی گری اورتغزل کے دل دادہ تھے۔

جیسا کہ ذکرکیا گیا،جب جب موقعہ ملا،آپ کے اندرکا شاعربیدارہوگیا۔چنانچہ جامعہ رحمانی کے ایام طالب علمی میں ایک واقعہ کاراقم الحروف خودعینی شاہدہے۔ عصرکے بعدآپ جامعہ رحمانی کاجائزہ لینے تشریف لائے،ہم طلبہ بھی ساتھ ہولیے۔نیچے کی منزل میں مولانامنظرقاسمی رحمانی رہاکرتے تھے، ( جواس وقت ہفتم عربی کے طالب علم تھے)وہ ہردوتین دن پرکوئی شعراپنے دروازے پرآویزاں کردیتے تھے۔اس دن کلیم عاجزکا یہ شعرآویزاں تھا:
میرے حق میں دوستوں کایہی فیصلہ ہے عاجز کہ گناہ سے ہے بڑھ کرتیراجرم بے گناہی

مولانا کی نگاہ جوں ہی اس آویزاں شعرپرپڑی،آپ نے فوراََاسی زمین میں چند اشعارلکھ ڈالے،جوبتانے کے لیے کافی ہیں کہ مولاناکتنے پختہ اور فطری شاعر تھے۔ آپ نے وہیں رقم فرمایا:

تیراجرم بے گناہی ،ہے ہراک گنہ سے بڑھ کر کہ نہ زندگی کوسمجھا،نہ عطائے حق برتر
دیااس نے خَلق اچھا،دیااس نے خُلق بہتر ملالحن بھی سجیلا،حلق میں نوروجوہر
تیری زندگی کامقصد،ہے حصول علم وحکمت تیراجرم بس یہی ہے،کہ رہاسبق سے بچ کر
میری آرزویہی ہے،تیری زندگی ہوروشن میرادردتوسمجھ لے،میری سن لے رب برتر

اندازہ لگایے،پیغام سے لبریزکس قدرپختہ اورنپاتلاکلام ہے جوبتانے کے لیے کافی ہے کہ مولاناکاشعری ذوق کتنا بلند تھا۔مولانا منظرقاسمی رحمانی نے آپ کی یہ تحریر بطور یادگاراس وقت فریم کرالی تھی۔

نعت گوئی دو دھاری تلوارہے جہاںجذبات کوقابورکھنے کے ساتھ مقام الوہیت ورسالت کے فرق کوملحوظ رکھنا ہوتا ہے ،مولانا رحمانی نے اس فن میں بھی کامیاب طبع آزمائی کی ہے :

ہرسانس میں وہ خوشبو،ہرفکرمیں وہ روشن ہرگام پروہ پیکر،ہرذرہ میں وہ روشن
ہرسمت وہی جلوہ،ہرنقش میں بس وہ ہے ہرلفظ میں ہے پنہاں،ہرخیرکاوہ خرمن
وہ شہرجمال اللہ،جس شہرکی راہوں میں اک نوردکھائی دے،ہرروزن وہرچلمن
آیاہوں یہاں تک تو،اب ویسے نہ لوٹوں گا بس دیکھ لوں جی بھرکے،من چاہے ترادرشن
اک راہی سوئے بطحا،ناکارہ وآوارہ دنیاکی نہیں چاہت ،قربان ہیں تن من دھن
حاضرہے حضوری کو،آقاکی زیارت کو ٹک دیکھتاجاتاہے،ہٹ جائے ذراچلمن
تھوڑاساسرک جاتا،کچھ دیرکھسک جاتا عقبیٰ بھی سنورجاتی،کرلیتاترے درشن
للہ کرم کیجیے،بندہ پہ رحم کیجیے ہوجائے نظردل پر،بن جائے ترادرپن

اسی طرح رحمانی فائونڈیشن بیلن بازارمونگیرمیں منعقدہ ’یوم بہار‘کی تقریب کے موقعہ پرآپ کے پرمزاح اوردل چسپ منظوم کلام نے سامعین کوخوب محظوظ کیا۔یہ کلام بہادرشاہ ظفرکی مشہورغزل(لگتانہیں ہے دل مرااب اجڑے دیارمیں) کی زمین میں ہے لیکن مزاحیہ رنگ اکبرالہ آبادی کانمایاں ہے۔ظفراوراکبردونوں کے کلام کالطف ایک ہی جگہ ملاحظہ فرمایے:

کیا کیا ہوا ہے دوستو!یوم بہارمیں بجلی گئی ہوئی ہے تمنائے یارمیں
چا ول چنے کاریٹ بھی مت پوچھیے حضور ابلی غذا کو کھا کے جیوپھربہارمیں
رشوت کاشورسن کے میرے کان پک گئے ہم بازآئے ایسی ترقی کے غارمیں
لیکن سڑک کاحال بہت خوب ہے حضور گھرچھوڑکے سڑک پہ بسواک قطارمیں
پڑھوالیا ہے شعر،سفرخرچ ہے کہاں کھائے بغیرسوئیں گے بیلن بازارمیں

آپ نے اپنے اشعارکوایک ڈائری میں بھی جمع کردیا تھا،کاش وہ ڈائری مل جاتی توان کا بڑا شعری سرمایہ منظرعام پرآتا۔لیکن جوکچھ ہے،خواہ وہ مکاتیب کے حوالے سے ہویاشعری ،نثری اورتصنیفی خدمات کی فہرست ہو،مولاناکے ادبی قدوقامت کی تعیین اوران کی ادبی حیثیت کوتسلیم کرنے کے لیے کافی ہے۔ اہل علم و تحقیق اس سمت میں مزید کام کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button