جدید اعلی تعلیم یافتہ لوگوں ، ہیرو، ہیروئنوں اور بڑے کاروباریوں میں پہلے سے یہ برائی ہوتی چلی آرہی ہے، جس میں پیار محبت اور عشق کی کارفرمائی ہوا کرتی تھی ایسے ہی کریکٹر لیس لوگوں کی دیکھا دیکھی یہ وباء اب عام ہوتی جارہی ہےمگر افسوس اس کا ہے آج یہ خبر جو عام ہوتی جارہی ہے کہ فلاں مسلم لڑکی فلاں ہندو دوست کے ساتھ بھاگ کر شادی کر لی ہے، یا فلاں لڑکی اپنے ہندو کلاس میٹ کے ساتھ کورٹ میرج کرلی یہ کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہےحالیہ دنوں میں مسلمان لڑکیوں میں ہندوؤں سے شادی کرنے کی جیسے لہر آئی ہوئی ہےجسے سن کر دل مسوس کر رہ جاتا ہے۔
کیا امیر کیا غریب، کیا پڑھا لکھا کیا گنوار، کیا شہری کیا دیہاتی یہ ایسی آندھی ہے جس نے مسلم معاشرے کے ہر طبقہ کو بے انتہا متاثر کر رکھا ہے، جو ہم سب کے لیے لمحہ فکر ہے۔غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ مسلم لڑکیوں کی اسکول و کالج کی مخلوط تعلیم بھی ہے، جس کی آڑ میں ہمارے معاشرے کی لڑکیاں دینی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف دوسرے کے مذہب سے متاثر ہورہی ہیں، بلکہ ان کے غیر معمولی تعلقات بھی بڑھ رہے ہیں، اور نوبت کورٹ میرج تک پہنچ رہی ہے غیر مسلم لڑکوں کے غلبے میں مسلم لڑکیاں مذہب اسلام سے مرتد ہورہی ہیں، جس کے چند دلخراش واقعات حال ہی میں رونما ہوئے ہیں۔
کاش! ان کے والدین کے ذریعے اگر بچوں کو بچپن سے اسکول و مدارس اور کالجوں میں ایمان کا صحیح تصور ، شعور، دین کا فہم، اللہ کی توحید کا عقیدہ راسخ کیا جاتا،اور مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کو سمجھایا جاتا اور انہیں صوم و صلوۃ کا پابند بنایا جاتا تو اس چیلنج سے نمٹا جاسکتا تھا اور یہ ذہن نشین کرایا جاتا کہ مشرکین سے نکاح مذہب اسلام میں سختی سے ممنوع قرار دیا ہےاس عقیدہ کو دماغ میں راسخ کیا جاتا کہ اس حرام راستے پر جانے کے انجام کتنے بھیانک وخطرناک اور دل دہلانے والے ہیں تو ایسے تمام راستوں کو بند کیا جاسکتا تھا۔
اس کے علاوہ مزید ایسے چیلنجز ہیں، اس کے لیے امت کے اہل علم اور باثر طبقہ کو سامنے آکر اپنا اہم کردار نبھانا ہوگا مسلم تنظیموں کو سوچنا ہوگا کہ کس طرح مسلم بچیوں کو کفر کی آگ سے بچایا جاسکتا ہے کیونکہ لگی ہے آگ تو کئی گھر زد میں آسکتے ہیں اس لئے معاشرے کو ایک پاکیزہ اسلامی ماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے دوسری طرف ہمارے معاشرے کے شادی شدہ جوڑے پر بھی کئی گھریلو ذمہ داریاں ہیں جس سے شادی شدہ جوڑے چھوٹے چھوٹے باتوں کو لیکر اپنا گھر بگاڑ لیتے ہیں انھیں چاہیے کہ گھر کے ماحول کو پرسکون بنائیں خاص کر بیوی کو چاہیے کہ شوہر اور ساس سسر کے ساتھ ہمیشہ اپنا لہجہ نرم رکھیں۔
تلخ کلامی لڑائی جھگڑے ہر گھر میں ہو جاتے ہیں لیکن جہاں بیوی شوہر کے ساتھ بدتمیزی، بدکلامی اور بداخلاقی شروع کردے اپنی آواز کوشوہر کی آواز سے بلند کر دے تو یہاں آکر بیوی شوہر کے دل سے اترنا شروع ہوجاتی ہےخواہ شوہر کی ہی غلطی ہواپنے شوہر کے لیے تیار ہونے کی فرصت نہیں جھگڑا بعض اوقات یہیں سے شروع ہوتا ہے عورت کا زیب وزینت صرف شوہر کیلیے ہی ہونا چاہیے لہذا مذکورہ باتوں پر عمل کرکے گھر کو جنت بنائیں نماز کی پابندی لازم کرےجو عورت پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرے گی اس کے گھر میں بے شمار برکتیں ورحمتیں نازل ہوتی ہیں۔افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین ان باتوں سے مکمل محروم ہیں جو کہ ازدواجی زندگی کو خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان باتوں کو اپنائیں اور خوشگوار زندگی گزاریں۔



