دشمنان خدا اور ان سے دوستی✍️مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی
اسی سورہ کی آیت 13 میں فرمایا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان لوگوں کو دوست نہ بناو جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے‘‘
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔مذکورہ بالاآیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ چار باتیں بیان فرمائے ہیں۔
۱۔ ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو رفیق نہ بناو
۲۔ یہود نصاری ایکد وسرے کے دوست ہیں۔
۳۔ جوکوئی بھی یہودیوں اور عیسائیوں کی دوستی کی چکر میں پڑا اس کا شمار انہی میں ہے۔
۴۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو سیدھی راہ نہیں بتاتے۔
یہودی و نصرانی اور کافروں سے دوستی کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ، اس کے بغیر اہل ایمان کی زندگی اور اسلامی اجتماعیت کو ہمیشہ خطرہ لگا رہتا ہے۔ کیونکہ باطل پرست ہر اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جس میں اسلام کو اہل ایمان کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔
اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف موقوں پر حسب ضرورت اور خاص طور پر اہل ایمان کا نام لیتے ہوئے فرمایا کہ یہود و نصاری مشرکین وغیرہ سے ہوشیار رہنا اور ان کو ہمراز نہ بنانا اور نہ ہی ان کو اپنا رفیق بنانا۔
سورہ المائدہ آیت 57 میں فرمایا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے پیشرو اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنالیا ہے انہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائو‘‘۔
سورہ توبہ آیت 23 میں فرمایا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں‘‘۔
سورہ الممتحنہ آیت۔۱۔ میں فرمایا ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کیلئے اور میری رضا جوئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو‘‘۔
اسی سورہ کی آیت 13 میں فرمایا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان لوگوں کو دوست نہ بناو جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے‘‘۔غرض کہ مضمون ہذا کیلئے جو آیت پیش کی گئی ہے اس میں بھی وہی بات آرہی ہے کہ اے ایمان والو دیکھو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو۔
عبداللہ بن ابی بن سلول جو کہ جنگ بدر کے بعد اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا لیکن اس کا اسلام لانا ،مسلمان ہونا ظاہری تھا اور اس کے دل میں اسلام، مسلمان ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں اتری تھی مگر اپنے مسلمان ہونے کا دعوی کیا کرتا تھا تو دوسری طرف یہود سے اس کی گہری دوستی تھی صرف عبداللہ بن ابی ہی نہیں بلکہ اس کے پیرو (دیگر منافقین ) کا بھی یہی کچھ رویہ تھا۔
فرمان خدا تعالیٰ
ایسے حالات میںاحکام خدا وندی کا نزول ہورہا ہے کہ اے ایمان والو یہود و نصاری کو اپنا رفیق نہ بنائو، کیونکہ یہ تمہارے دوست، رفیق و ہمراز نہیں ہوسکتے اصل میں یہ صرف اپنے حلقوں تک ہی دوستی کا حق ادا کرتے ہیں یعنی یہودی یہودی کے درمیان۔ نصاری، نصاری کے ہی دوست ہوسکتے ہیں۔ اور یہ کہ یہود و نصاری اسلام کے خلاف متحد ہوتے ، پھر کس طرح تمہارا ان کا میل جول ہوسکتاہے جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ اسلام کو مٹانے دعوت حق کودبانے، اسلامی تحریک کو ختم کرنے کیلئے رات دن سازشیں کیا کرتے ہیں۔
لہذا آیت کے اس فقرے میں اہل ایمان کو حکم دیا جارہا ہے کہ یہود و نصاری سے (گاڑی دوستی نہ کریں) ابتک جو موالات تھے اسے ترک کریں۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیراحمد عثمانیؒ اس سلسلہ میں تحریر فرماتے ہیںکہ ’’مرو ‘‘ اور ’’حْسن سلوک ‘‘ یا ’’رواداری ‘‘ کا برتائو ان کفار کے ساتھ ہوسکتا ہے جو جماعت اسلام کے مقابلہ میں دشمنی اور عناد کا مظاہرہ نہ کریں۔ جیسا کہ سورہ ’’ممتحنہ‘‘ میں اس کی تصریح ہے۔
مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو سورہ النساء کی آیات 144 تا 145اس میں تفصیلی طور پر بیان کیا گیا علاوہ ازیں سورہ ال عمران میں بھی اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔



