سیاسی و مذہبی مضامین

بڑھاپا عمر ہی تو ہے✍️ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان

اس بات کا وسوق سے اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے دور ء برطانیہ میں وزارت پر فائز معتبرحضرات آیاں بوڑھے ہوتے تھے یا جوان بہر کیف آزاد بھارت میں عمر دراز بوڑھے حضرات کو ہمیشہ سے فوقیت حاصل رہی ہیں، گویا نوجوان یا جوانوں میں قیادت و صلاحیت کا فقدان ہیں یا یہ جز سرے سے موجود نہیں ہے، سیاسی بوڑھے حضرات کو نوجوانوں میں کوئی عنصر نظر نہیں آتا بھارت کی تاریخ میں ہر اعلیٰ عہدے پر فائز کوئی عمر دراز بوڑھا شخص ہی رہا ہے، خواہ وہ صدر کا عہدہ ہو خواہ وزیراعظم کا عہدہ ہو یا وزیراعلیٰ ہر سیاسی بڑے عہدے پر بوڑھا شخص تخت نشین ہیں۔

شاید ان عہدوں کو تشکیل ہی بوڑھے و عمر رسیدہ افراد کو اپنے زندگی کے آخری ایام میں کچھ وقت کے لئے عیش و عشرت حکومتی سطح پر ارسال کریں، ملک کے بڑے بڑے سیاسی عہدے ضیف العمر افراد کے لئے مخصوص ہے، کسی نوجوان کو ایسے عہدوں تک رسائی بلکل ممکن نہیں ہے، ملک کی آبادی برسوں سے بھارت کے بڑے بڑے سیاسی عہدوں پر ضیف حضرات کو ہی تسلیم کرتی چلی آرہی ہے، نئ سوچ، نئ سمت، نئ امنگ کہی نظر نہیں آتی قیادت کرتے سیاسی بوڑھے حکمران ملک کو کوئی ترقی نہیں دے سکے، ایک سو پینتیس کروڑ لوگوں پر مسلط ایسے بوڑھے سیاسی رہنما ہو چکے جنہیں صرف تخریب کاری میں دلچسپی ہیں فلاحی ریاست صرف جملہ بازی تک محدود ہو کر رہ گئی۔

اسے لوگ بھارت کی قیادت کرتے نظر آرہے جن کی زندگی کے ایام مختصر ہیں شعور، عقل و فہم، سے مبرا سیاسی جماعتوں کے بوڑھے اشخاص ملک کو بھی بوڑھا کرچکے، بھارت میں نوجوانوں کا جم غفیر ملازمت ڈھونڈنے، نئے کاروبار میں زور آزما رہنے نیز بے روزگاری کے قصے لامحالہ بیان کرنے میں اپنی زندگی کا بہترین دور ضائع کر رہا ہے، سرکاری ملازمتوں کی آرزو میں جانے کتنے افراد حسرتیں لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے، سرکاری ملازمت حاصل کرنا انتہائی دشوار ترین معاملہ ہے، طویل جد وجہد مشکل مراحل، رابطہ و وسیلہ اس پر حکمران کی نظر عنایت سبھی شاملِ حال ہونا چاہئے۔

اتنی سخت مشکل ترین راہ سے گزر کر کوئی خوش بخت نا اہل کسی سرکاری عہدے پر فائز ہوتا ہے، اس شخص کے تیور میں یقینا جبلتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہے، موصوف خود کو کوئلے کے ذخائر میں ہیرا تصور کرتے ہیں، ہیرے کی صفات اس شخص پر کبھی آشکارا نہیں ہوتی، ایسے سرکاری ملازمین اپنے چھوٹے سے عہدے پر نازاں ہو کر چھوٹے خدا بن کر فائز رہتے ہیں، جس طرح ملازمت حاصل کرنے میں حضرت پریشان رہے تھے، وہی خصوصیت کو برقرار رکھتے ہوئے ملازمت کا لطف اٹھائیں چلتے ہیں۔

موصوف دوسروں کو بھی اسی طرح پریشان کرتے رہتے ہیں، ہر کام میں پریشانی کا انبار لگانا انہیں بلکل آسان لگتا ہے، جو کوئی ان کے رابطے میں آتا ہے پریشان رہتا ہے، آزادی کے بعد سے ملک میں سیاسی بوڑھے حکمران کی اجارہ داری قائم رہی ہے، درمیان میں ایک نوجوان وزیراعظم محترم مرحوم راجیو گاندھی کی شکل میں طلوع آفتاب ہوا، اپنی مختصر سی معیار پوری کرکے سیاسی بوڑھوں کے ہاتھوں یہ افتاب غروب کردیا گیا، قلیل عرصہ پر محیط اس نوجوان وزیراعظم نے ملک کو کافی وسعت دی، ترقی کے راستے کھولے، اسی اثناء یہ نوجوان وزیراعظم سیاسی بوڑھوں کی خواہشات کو پایا تکمیل تک لے جانے میں غلط راستہ اختیار کر گیا۔

بابری مسجد کا قفل کھول کر ایسی غلطی کی جسے آج تک درست نہیں کیا جاسکا، کچھ عرصہ بعد محترم راجیو گاندھی کو بھی قتل کر دیا گیا، بابری مسجد شہید کر دی گئی، سیاسی جماعت جس کے دور میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا اس سیاسی جماعت کا زوال شروع ہوا حتیٰ کہ نوبت ایوانوں میں مخالف سیاسی لیڈر کی حیثیت تک سے محروم کر دی گئی ، اسی اثناء گجرات سے جاری ناقص العقل سیاسی رہنما کا سیاسی سفر حیات انتہائی تاریک تر رہا، متعد خون ریزی کے معاملے، نیز خونی فسادات پر مشتمل موصوف کا سیاسی سفر اب تک جاری ہے، گزشتہ ٢٣ سالوں سے حضرت بڑے و اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اپنے درندہ صفت خیالات و نظریات کو عمدہ لباس زیب تن کیے چھپاۓ رکھنا ماہر فن میں شمار ہوتا ہے۔

یہی فن موصوف کی تخریبی قوتوں کو خوبصورتی سے چھپا کر عوام کو سبز باغ دکھاتا ہے، ملک میں بے روزگاری، مہنگائی، غریبی جسے مسائل پر موصوف کبھی بھی لب کشائی نہیں کرتے، پس نہ ہی انہیں کوئی فکر لاحق ہے، عوام کی خستہ حال زندگی سے انہیں کچھ سروکار نہیں، اپنی سیاسی چمک کو بھگوا رنگ پہنانا بس یہی کچھ یہ کرتے چلے آرہے ہیں، ضیف حکمران اپنے زندگی کے تمام مراحل عبور کرکے بوڑھا ہو چکا ہے، تاہم بوڑھے جسم میں ذہین انسانیت کے خلاف عمل کرنے والے تمام اجزاء سے لبریز ہے فرعون و نمرود کی صفت فلاح وبہبود کے لئے کوشاں کیسے ہو سکتی ہے، ملک میں بسے اکثریت عوام کو بنیادی ضروریات تک فراہم نہ کرسکنے والا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر عوام کو ہراساں کرنے میں کامیاب ہیں، بے گھر خستہ حال عوام خود ہی حالات سے مقابلہ کرتے رہتے ہیں،

انہیں حکومت سے کوئی خاطر خواہ سہولیات تک میسر نہیں، مزہب کے متوالے جنون میں انسان کو انسان سے معرکہ کرنے پر اکساتے ہیں، بہر کیف بھارت ایک وسیع ملک ہے سیاسی جماعتوں کا بحران ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا چکا، بھارت دنیا پوری میں ایسا ملک ہے جہاں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بوڑھاپا کیا ہے علم نہیں، صرف سیاست میں انسان بوڑھا نہیں ہوتا ملک کے دیگر تمام شعبوں میں سیاسی بوڑھے حکمران اداروں کو اپنی جاگیر سمجھ کر ان کے ملازمین پر حکمرانی کرتے ہیں، نوجوان ملازمین سیاسی بوڑھے حکمران کے ماتحت رہ کر ان ہی کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، وقت کی ضرورت ہے بھارت میں نوجوان حکمران کی جس میں جوش امنگ ہو عوام کی فلاح و بہبود پر کام کرنے کی صلاحیت ہو، ملک کا آئن سیکولر طرز پر تعمیر کیا گیا ہے، پس سیکولر آئن پر حلف برداری کی تقاریب میں عہدے بحال کیے جاتے ہیں،

تاہم سیکولر عہدوں پر فائز عہدے دار سیکولر ہرگیز نہیں ہوتے ملک کی فضاء کو زہر آلودہ بیانات سے خراب کرتے رہتے ہیں، ملک کے شہریوں کو آپس میں لڑاکر انہیں نفرتوں کی آگ میں جھونکنے کا فن رکھنے والے سیاست کے میدان میں بوڑھے ہوچکے افراد کو سبق دوش کرنا ملک کی سلامتی کے لئے ضروری ہے، مختصر ترین زندگی میں اخلاق کے اعلیٰ مقام پر کیسے پہنچا جاتاہے، اس کے لئے رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا نیز رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرز زندگی کو عام کرنا وقت کی ضرورت ہے، ورنہ بوڑھے ناقص العقل سیاسی حکمران ظلمتوں کو گلے لگائے عوام کی زندگی کو اجیرن کرتے رہے گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button