قرب قیامت اور فتنۂ دجال✍️حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی
قیامت کب قائم ہوگی اِس کا صحیح علم اللہ ہی کو ہے ۔ ایک مرتبہ جبرئیل علیہ السلام نے حضورﷺ سے دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس سے پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا‘‘۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ یعنی ’’اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے‘‘۔
البتہ حضورﷺ نے اِس کی نشانیاں بیان فرمادی ہیں۔ اس وقت مجھے ان نشانیوں اور علامتوں میں سب سے خطرناک علامت فتنہ دجّال کے متعلق عرض کرنا ہے۔ جتنے بھی نبی تشریف لائے ہر ایک نے اپنی امت کو اِس کے فتنہ سے ڈرایا۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس کی دا ہنی آنکھ بالکل سپاٹ ہوگی اور بائیں آنکھ انگور کے مانند ابھری ہوئی ہوگی، بال بڑے ہی گھنگھریالے ہوں گے، انتہائی بد شکل ہوگا، اس کی ہر چیز اِس بات پر دلالت کر رہی ہوگی کہ یہ خدا نہیں ہے حتی کہ اس کا گدھا بھی اس سے خوبصورت ہوگا جس پر سوار ہو کر چالیس دن میں تقریباً پوری دنیا کی سیر کر لے گا ۔
سارے یہودی اس کے گرویدہ ہو جائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ اس کو غیر معمولی اختیارات بھی دے دیں گے۔ زمین سے خزانے نکال دے گا، بارش برسائیگا اور کوئی شخص اس کو قتل کرنے کی طاقت و قدرت نہیں رکھے گا ، سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ پوری دنیا میں فساد برپا کر ے گا،جنت و دوزخ وہ اپنے ساتھ لیے پھرے گا، اپنے معتقدین کو جنت میں اور غیر معتقدین کو جہنم میں ڈالے گا، لیکن درحقیقت وہ اِس کا اُلٹا ہوگا، جس کو جنت میں ڈالے گا وہ جہنمی ہوگا اور جس کو جہنم میں ڈالے گا وہ جنتی ہوگا، اس کے فتنہ سے وہی شخص بچ سکے گا جس کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال ہوگی۔
حضور اکرم ﷺ نے دجّال کا ذکر فرمایا
حضرت نواس بن سمعانؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن صبح کے وقت دجّال کا تذکرہ فرمایا اور تذکرہ فرماتے ہوئے بعض باتیں اُس کے متعلق ایسی فرمائیں کہ جن سے اُس کا حقیرو ذلیل ہونا معلوم ہوتا تھا(مثلاً یہ کہ وہ کانا ہے) اور بعض باتیں اُس کے متعلق ایسی فرمائیں کہ جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اُس کا فتنہ سخت اور عظیم ہے (مثلاً جنت و دوزخ کا اُس کے ساتھ ہونا اور دوسرے خوارقِ عادات) آپ کے بیان سے(ہم پر ایسا خوف طاری ہوا کہ) گویا دجّال کھجوروں کے جھنڈ میں ہے(یعنی قریب ہی موجود ہے) ،
جب ہم شام کو حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے قلبی تاثرات کو بھانپ لیا اور پوچھا کہ تم نے کیا سمجھا؟ ہم نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے دجال کا تذکرہ فرمایا اور بعض باتیں اس کے متعلق ایسی فرمائیں جن سے اس کا معاملہ حقیر اور آسان معلوم ہوتا تھا، اور بعض باتیں ایسی فرمائیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بڑی قوت ہوگی اس کا فتنہ بڑا عظیم ہے، ہمیں تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہمارے قریب ہی وہ کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے، حضور ﷺ فرمانے لگے، تمہارے بارے میں جن فتنوں کا مجھے خوف ہے ان میں دجّال کی بہ نسبت دوسرے فتنے زیادہ قابلِ خوف ہیں، (یعنی دجّال کا فتنہ اتنا عظیم نہیں جتنا تم نے سمجھ لیا ہے) اگر میری موجودگی میں وہ نکلا تو میں اس کا مقابلہ خود کروں گا، (تمہیں اِس کی فکر کی ضرورت نہیں ) اور اگر وہ میرے بعد آیا توہرشخص اپنی ہمت کے موافق اس کو مغلوب کرنے کی کوشش کرے گا،
حق تعالیٰ میری غیر موجودگی میں ہر مسلمان کا ناصر اور مددگار ہے، (اس کی علامت یہ ہے) کہ وہ نوجوان سخت پیچدار بالوں والا ہے، اس کی ایک آنکھ اوپر کو اُبھری ہوئی ہے ، (اور دوسری آنکھ سے کانا ہے، جیسا کہ دوسری روایات میں ہے) اور اگر میں (اس کی قبیح صورت میں) اس کو کسی کے ساتھ تشبیہ دے سکتا ہوں تو وہ عبد العزّٰی بن قطن ہے (یہ زمانۂ جاہلیت میں بنو خزاعہ قبیلہ کا ایک بد شکل شخص تھا) اگر تم میں سے کسی مسلمان کا دجّال کے ساتھ سامنا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ سورۂ کہف کی ابتدائی آیات پڑھ لے،(اس سے دجّال کے فتنہ سے محفوظ ہو جائے گا) ،دجّال شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور ہر طرف فساد مچائے گا، اے اللہ کے بندو! اس کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا۔
دجال کتنے دن زمین پر رہے گا
صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ زمین پر کتنی مدّت رہے گا، آپﷺنے فرمایا وہ چالیس دن رہے گا، لیکن پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا، اور دوسرا دن ایک ماہ کے برابر ہوگا اور تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی دن عام دنوں کے برابر ہوں گے، ہم نے عرض کیا یا رسولﷺ اللہ جو دن ایک سال کے برابر ہوگا، کیا ہم اِس میں صرف ایک دن کی (پانچ نمازیں) پڑھیں گے؟ آپe نے فرمایا نہیں، بلکہ وقت کا اندازہ کرکے پورے سال کی نمازیں ادا کرنا ہوں گی،
پھر ہم نے عرض کیا یا رسولﷺ اللہ وہ زمین میں کس قدر سرعت کے ساتھ سفر کرے گا فرمایا اس ابر کے مانند تیز چلے گا جس کے پیچھے موافق ہوا لگی ہوئی ہو، پس دجّال کسی قوم کے پاس سے گذرے گا ان کو اپنے باطل عقائد کی دعوت دے گا، وہ اس پر ایمان لائیں گے تو وہ بادلوں کو حکم دے گا تو وہ برسنے لگیں گے، اور زمین کو حکم دے گا تو وہ سرسبز و شاداب ہو جائے گی، (اور ان کے مویشی اس میں چریں گے) اور شام کو جب واپس آئیں گے تو ان کے کوہان پہلے کی بہ نسبت بہت اونچے ہوں گے او ر تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہوں گے اور ان کی کوکھیں پُر ہوں گی۔
پھر دجّال کسی دوسری قوم کے پاس سے گذرے گا اور ان کو بھی اپنے کفر وضلالت کی دعوت دے گا، لیکن وہ اس کی باتوں کو رد کر دیں گے، وہ ان سے مایوس ہوکر چلاجائے گا تو یہ مسلمان لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو جائیںگے اور ان کے پاس کچھ مال نہ رہے گا اور ویران زمین کے پاس سے اس کا گذر ہوگا، تو وہ اس کو خطاب کرے گا کہ اپنے خزانوں کو باہر لے آ، چنانچہ زمین کے خزانے اس کے پیچھے پیچھے ہو لیں گے، جیسا کہ شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے ہو لیتی ہیں، پھر دجّال ایک آدمی کو بلائے گا۔
جس کا شباب پورے زوروں پر ہوگا، اس کو تلوار مار کر دو ٹکڑے کر دے گا اور دونوں ٹکڑے اس قدر فاصلہ پر کردیے جائیں گے جس قدر تیر مارنے والے اور نشانہ کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے، پھر وہ اس کو بلائے گا، وہ (زندہ ہوکر)دجّال کی طرف اِس فعل پر ہنستا ہوا روشن چہرے کے ساتھ آجائے گا ، دریں اثناء حق تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے، چنانچہ وہ دو رنگ دار چادریں پہنے ہوئے جامع دمشق کی مشرقی جانب کے سفید مینارہ پر اس طرح نزول فرمائیں گے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو فرشتوں کے پردوں پر رکھے ہوئے ہوں گے ، جب اپنے سر مبارک کو نیچے کریں گے تو اس سے پانی کے قطرات جھڑیں گے(جیسے کوئی ابھی غسل کرکے آیا ہو) اور جب سر کو اوپر کریں گے تو اس وقت بھی پانی کے متفرق قطرات جو موتیوں کی طرح صاف ہوں گے گریں گے،
جس کافر کو آپ کے سانس کی ہوا پہنچے گی وہ وہیں مر جائے گا، اور آپ کا سانس اس قدر دور پہنچے گا، جس قدر دور آپ کی نگاہ جائے گی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجّال کو تلاش کریں گے، یہاں تک کہ آپ اُسے بابُ اللُّدّ پر جا پکڑیں گے( یہ بستی اب بھی بیت المقدس کے قریب اسی نام سے موجود ہے) وہاں اس کو قتل کردیں گے، پھر عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کے پاس تشریف لائیں گے، اور (بطورِ شفقت کے) ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور جنت میں اعلیٰ درجات کی ان کو خوش خبری سنائیں گے۔
کافر کانا دجّال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتا
دجّال کے متعلق حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ دجّال مدینہ منوّرہ سے دور رہے گا اور مدینہ کے راستوں پر بھی اس کا آنا ممکن نہ ہوگا،مدینہ کے قریب ایک شور زمین کی طرف آئے گا،اس وقت ایک آدمی دجّال کے پاس آئے گا اور وہ آدمی اس وقت کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا اور اس کو خطاب کر کے کہے گا کہ میں یقین سے کہتا ہوں کہ تو وہی دجّال ہے جس کی ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی ،(یہ سن کر) دجّال کہے گا ،لوگو!مجھے یہ بتلائو کہ اگر میں اس آدمی کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کردوں تو میرے خدا ہونے میں شک کرو گے؟وہ جواب دیں گے، نہیں ،چنانچہ وہ اس آدمی کو قتل کرے گااور پھر اس کو زندہ کردے گا،تو وہ دجّال کو کہے گا کہ اب مجھے تیرے دجّال ہونے کا پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا ہے۔دجّال اس کو دوبارہ قتل کرنے کا ارادہ کرے گا ،لیکن وہ اس پرقادر نہ ہوسکے گا۔ (صحیح مسلم) اللہ تعالیٰ ساری امت کو فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے۔ آمین!



