سیاسی و مذہبی مضامین

سوالوں میں اُلجھا بچپن اور خاموش✍️شاہ تاج خان (پونہ)

مچھلی پانی کے اندر کیسے زندہ رہتی ہے؟ہم پلکیں کیوں جھپکتے ہیں؟رات میں سورج کہاں چلا جاتا ہے؟ہچکی کیوں آتی ہے؟ہمیں نیند کیوں آتی ہے؟بجلی کے تاروں پر بیٹھے پرندوں کو کرنٹ کیوں نہیں لگتا؟بارش کیسے ہوتی ہے؟

مچھلی پانی کے اندر کیسے زندہ رہتی ہے؟ہم پلکیں کیوں جھپکتے ہیں؟رات میں سورج کہاں چلا جاتا ہے؟ہچکی کیوں آتی ہے؟ہمیں نیند کیوں آتی ہے؟بجلی کے تاروں پر بیٹھے پرندوں کو کرنٹ کیوں نہیں لگتا؟بارش کیسے ہوتی ہے؟ہم اندھیرے میں کیوں نہیں دیکھ پاتے؟ایسے معصوم سوالوں سے اکثر سامنا ہوتا ہے۔ایسے میں والدین کے پاس کبھی معلومات کا فقدان تو کبھی وقت کی قلت بچوں کو صرف بہلانے کا کام کرتی ہے۔یا پھر بچوں کو ڈانٹ کرکہا جاتا ہے کہ فضول کی باتوں پر دھیان دینے کی بجائے گنتی پہاڑے یاد (رٹو) کرئیے۔

ABCD یاد کرئیے۔کل ملا کر سمجھنے کی جگہ رٹنے پر،بچے کو اپنی ساری طاقت جھونک دینے کی تلقین کی جاتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ اپنی سب سے پروڈکٹو عمر کو رٹنے میں خرچ کر تا جاتا ہے۔رفتہ رفتہ سوالات کی آمد کم ہوتی جاتی ہے اور معصوم بچہ سوال پوچھنا بند کر دیتا ہے کیونکہ اُسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ گنتی پہاڑے اور یاد کی گئی مختلف پوئم سنا کر اسے داد ملتی ہے جبکہ سوال پوچھنے پر ڈانٹ۔

ایک بچہ اپنے اطراف کی چیزوں کو سمجھنا اور محسوس کرنا،دنیا میں آنکھ کھولتے ہی شروع کردیتا ہے۔باقاعدہ تعلیم کے آغاز سے بہت پہلے اُس کے ذہن میںسوالات کا انبار لگ جاتا ہے۔تجسس سے پُر سوالات کی آمد والدین کے لیے مسئلہ بنتی ہے۔مشکل یہ ہے کہ ایک عام پڑھے لکھے شخص کو بھی سائنس کی بنیادی معلومات نہیں ہیں۔سائنسی معلومات نہ ہونے کے سبب والدین جواب دینے سے کتراتے ہیں۔ ایسے وقت میں اردو ادبِ اطفال بچے کے معصوم اور پُر تجسس سوالوں کے جواب دے سکتا ہے ،لیکن ہوتا یہ ہے کہ اردو ادبِ اطفال شہزادے شہزادیوں،مافوق الفطری کہانیوں اور نصیحتوں کے دفتر کھولے نمودار ہوتا ہے۔

جو بچے کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔بچہ جاننا کچھ چاہتا ہے اور اُس کے سامنے کچھ غیر دلچسپ مواد پیش کر دیا جاتا ہے۔سائنسی سوالوںکے خیالی جواب بچے کو مطمئن نہیں کر پاتے۔ایسے میں بچے کے ہاتھ معلومات نہیں بلکہ مایوسی لگتی ہے۔اگر بچے کی عقل وفہم اور ضرورت کے مطابق،اُس کے تجسس کو نظر میں رکھتے ہوئے ادب تخلیق کیا جائے توبہت آسانی کے ساتھ بچوں کو ان کے ابتدائی دور کے سوالوں کے سائنس کی بنیاد پر جواب ملنا ممکن ہے۔

ایک سوال بار بار ذہن میں اُبھرتا ہے کہ کیا ادبِ اطفال میں سائنس کے تصورات اور مواد کا بچوں کی نشوونما کے مابین کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟ممکن ہے ،لیکن یہ تعلق تبھی قائم ہوسکتا ہے جب ایک پُر تجسس ذہن اور اس کی قابلیت کو درست سمت دینے کے لیے تخلیق کارکمر کس لیں۔ ادیب الاطفال بچے کے اسکول جانے سے بھی پہلے اُن کی تعلیم اور تربیت کی ذمّہ داری سنبھال سکتے ہیں۔سائنس کے موضوعات پر مبنی چھوٹی چھوٹی کہانیاں،چند الفاظ اور ڈھیروں خوبصورت رنگ برنگی تصاویر کے ساتھ تیار کتابیں بچوں کی ہمسفر بن سکتی ہیں۔

بچے کی عمر اور تجسس کے مطابق کہانیوں کا معیار بڑھایا جا ئے۔زیرو سے لیکر سولہ سال کی عمر تک کے بچوں کو اُن کی ضرورت کے مطابق ادب تخلیق کیا جائے تو کتب بینی کی عادت بچے کی پوری زندگی میں مطالعہ کو معمول بنا دے گی۔اور ایک بچہ ادبِ اطفال سے ادبِ عالیہ تک کا سفر کتابوں کی دنیا میں آہستگی کے ساتھ طے کرتا جائے گا۔اور ممکن ہے کہ قاری سے قلم کار بننے کی جانب سفر کا آغاز ہو۔

بر خلاف اِس کے اکثر افراد کے لیے سائنس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ کچھ حقائق ہیں جنہیں اسکول جاکر یاد کر لینا ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو حیاتیات،طبیعیات اور کیمیا کو ہی سائنس سمجھتے ہیں۔لیکن یہ میدان بہت وسیع ہے۔ اِس میں طِب،نباتات،حیوانات،ارضیات، فلکیات، ماحولیات،جغرافیہ، موسمیات، علم استدلال،شماریات وغیرہ شامل ہیں۔ایک طویل فہرست ہے جو باور کراتی ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں سائنس کا عمل دخل ہے۔زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کرنے والے اہم ترین سائنسی موضوعات کا اردو ادبِ اطفال میں فقدان ہے۔سائنس سے ادبِ اطفال کی دوری نے معصوم قاری کوبلند پرواز کے لیے پنکھ نہیں دئیے بلکہ اسے نصیحتوں اور خیالی دنیا کے جال میں جکڑ کر رکھ دیا ہے۔اسے بدقسمتی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ بچوں کے ادب میں سائنس کو وہ مقبولیت نہیں مل سکی جو اسے ملنا چاہئے تھی۔

آواز،عملِ انہضام ، ماحولیات، جگر،پروٹین۔وٹامن،نیند جیسے زندگی کے قریب ترین موضوعات اردو ادیب الاطفال کے لیے قابلِ توجہ نہیں رہے۔غلطی سے کسی نے کچھ لکھ بھی دیا تو قلمکار کو ہی یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ تحریر کس عمر کے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے۔جبکہ اِس بات کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے کہ بچے کی سمجھ اور فہم کو ہر وقت ذہن میں رکھا جائے لیکن اِسے اردو والے کسی خاطر میں ہی نہیں لاتے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے سائنس میں دلچسپی لیں تو اولین ترجیح کی بنیاد پر سائنس کی کہانیاں لکھنے کا رواج اردو ادبِ اطفال میں قائم کرنا ہوگا۔تب ایک بچے کو مواصلات کی مہارت،باہمی تعاون،ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت،استقامت،استدلال کی مہارت،تجزیہ کرنے کی قابلیت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت وغیرہ سکھانے اور سمجھانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔کیونکہ سائنس میں دلچسپی رکھنے والا بچہ خود بہ خود یہ سب سیکھ جائے گا۔بس کرنا صرف یہ ہے کہ بچوں میں سائنسی مزاج کو پروان چڑھایا جائے۔باقی کام اپنے آپ ہو جائے گا۔

ہر عمر کے بچے کے لیے اُن کی دلچسپی کے سائنسی موضوعات پر مشتمل کتابوں کی دستیابی آسان نہیں ہے۔سائنسی موضوعات کو بچوں کے لیے مختصر کہانیوں کی شکل میں کم ہی برتا گیا ہے۔لکھا ضرور گیا ہے لیکن اردو ادبِ اطفال میں اُس کا تناسب فکر کا باعث ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جس توجہ اور تیزی کے ساتھ کام ہونا چاہئے اُس کا آج بھی فقدان ہے۔سائنس کے موضوعات پر بچوں کے لیے قلم اُٹھانے والوں کو اگر شمار کیا جائے توہماری انگلیوں کی تعداد زیادہ ثابت ہوگی۔اردو میں شاعری اور ناصحانہ مواد جس وافر مقدار میں ہر روز منظرِعام پر آتا ہے اُس رفتار کا مقابلہ تو سائنسی موضوعات کر ہی نہیں سکتے۔

کیونکہ سائنس کے کسی موضوع پر مختصر لکھنے کے لیے بھی بہت ریسرچ کی ضرورت ہوتی ہے۔جس کے لئے تخلیق کار کو گہرائی سے شدید مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔معلومات یکجا کرنے کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے کہ کہیں کوئی نئی تحقیق تو سامنے نہیں آگئی ہے۔کیونکہ سائنس میں ہر روز کوئی نہ کوئی نئی ریسرچ سامنے آتی رہتی ہے۔ معلومات زیادہ اور لکھنا بہت ہی کم۔اُس پر آسان زبان،مختصر جملے،صاف،واضح اور درست معلومات تخلیق کار کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں۔چونکہ یہ موضوعات خیالات کے گھوڑے کی لگام کھینچ کر رکھتے ہیں۔اِس لیے قلمکار کو بقراطیت جھاڑنے کا بھی کوئی موقع نہیں ملتا۔

اِن مسائل کے باوجود اردو ادیب الاطفال کی یہ ذمّہ داری بنتی ہے کہ وہ مقبول سائنس یعنی پاپولر سائنس پر توجہ دے۔آج یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ بچوں کے سامنے سائنسی حقائق خوبصورت پیرائے میں بیان کیے جائیں۔نا صرف نثر بلکہ شاعری میں بھی اِن موضوعات کو باندھا جائے۔یہ آج کے بچے ہیں۔یہ آپ کی سوچ سے کہیں زیادہ سمجھ دار اور قابلیت رکھتے ہیں۔برائے مہربانی اِن کی قابلیت کو کم کرکے نہ آنکیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے اِس دور میں بچوں کو سائنس کے مشکل موضوعات متوجہ کرتے ہیں۔

شرط صرف اتنی ہے کہ آپ کی تخلیق بچے کو بہلائے نہیں بلکہ سائنس کے ٹھوس تجربات کی بنیاد پرموضوع سمجھنے کا موقع فراہم کر ے ۔کسی بھی قلمکار کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ آپ کی تحریر کو مختلف پلیٹ فارم پر پرکھنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ جس طرح سائنس کسی بھی تجربے میں ایک بھی غلطی کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ٹھیک اُسی طرح قلم سے نکلی بے بنیاد بات پوری تحریر کو زمین دوز کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔بچوں کو خلائی سفر پر لے جائیے لیکن اسپیس شٹل اور راکٹ میں بٹھا کر۔تو اٹھائیے قلم اور بچوں کو سائنسی معلومات سے پُر تخلیقات دے کر جوش اور خود اعتمادی سے بھر دیجئے۔

کیونکہ آپ کے ہاتھوں میں قلم کا جادو ہے جو بچے کے تخیل کی اُڑان میں اُس کا ہم سفر اور دوست بن کر ایک راہنما کا کردار نبھا سکتا ہے۔بچے کو خواب دیکھنے دیجئے اور اور آپ یعنی ادیب الاطفال اُن خوابوں میں حقیقت کے رنگ بھر دیجئے۔تو پھر کیوں نہ ہم آج ہی سے سائنس کے مختلف موضوعات کا مطالعہ شروع کریں؟کیونکہ سائنسی ادب تخلیق کے عمل سے گزرنے سے قبل گہرے مطالعہ کا متقاضی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button