سیاسی و مذہبی مضامین

مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمات کو عام کرنےکی اشد ضرورت✍️محمد ہاشم القاسمی

لہذا ملک کے تمام اداروں اور تعلیمی مراکز کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ قومی یوم تعلیم کو نہایت جوش وخروش کے ساتھ منائیں اور مولانا کو سچی اور حقیقی خراجِ عقیدت پیش کریں۔

ستمبر 2008 میں وزارت ترقی انسانی وسائل کی جانب سے یو پی اے حکومت میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ تعلیم کے میدان میں ملک کے اس عظیم سپوت، مجاہد آزادی، مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃاللہ علیہ کی گراں قدر خدمات کی یاد گار کو باقی رکھنے اور نئی نسل کو ان سے واقف کرانے کے لیے ہر سال ۱۱ نومبر کو "قومی یوم تعلیم” کے طور پر منایا جائے گا ۔ تب سے ہر سال اس دن کو پورے ملک میں قومی یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے۔

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ ان کے والد بزرگوار مولانا محمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔

مولانا ابوالکلام آزاد 1888ء میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین افغانی سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے تھے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی ۔

1857ء کی جنگ آزادی میں مولانا ابوالکلام آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنی پڑی تھی اور کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گذرا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر(مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے والد مولانا خیرالدین سنہ 1898 کے دوران اپنے خاندان سمیت پھر ہندوستان لوٹے اور کلکتہ میں رہنے لگے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو بچپن سے ہی کتابوں کا شوق تھا۔ جب وہ 12 سال کے تھے تو انھوں نے بچوں کے رسالوں میں مضامین لکھنا شروع کر دیے تھے۔

سنہ 1912 میں آپ نے ’الہلال‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالنا شروع کیا۔ یہ رسالہ اپنے انقلابی مضامین کی وجہ سے کافی زیر بحث رہا اور انگریزی حکومت نے دو سال کے اندر اندر اس کی سکیورٹی منی یعنی حفاظتی رقم ضبط کر لی اور بھاری جرمانے لگا کر اسے بند کر دیا۔

مولانا ابوالکلام آزاد کو سنہ 1916 تک بنگال چھوڑنے کا حکم دیا گیا اور انھیں آج کی ریاست جھاڑکھنڈ کے شہر رانچی میں نظر بند کر دیا گیا۔

مولانا آزاد جنوری 1920 میں ہندوستانی نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے۔ ستمبر 1923 میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر بنائے گئے۔

محمد علی جناح کے برخلاف، مولانا آزاد نے مذہب پر مبنی علیحدہ علیحدہ انتخابی حلقوں کے خاتمے کی بھی وکالت کی اور سیکولرازم کے لئے پرعزم ایک ہی قوم کا مطالبہ کیا۔ 1930 میں، مولانا آزاد کو گاندھی جی کے نمک ستیہ گرہ کے حصے کے طور پر نمک قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ انہیں ڈیڑھ سال تک میروت جیل میں رکھا گیا، نیز جنگ آزادی کی خاطر انہوں نے دس برس سات مہینے ملک کی مختلف جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں اور مشقتیں برداشت کیں لیکن مولانا کے پائے ثبات میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی۔

15 اگست 1947 کو جب ہند کے افق پر آزادی کا سورج طلوع ہوا تو مولانا آزاد کے عبقری صلاحتیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں آزاد ہندوستان کا پہلا وزیر تعلیم بنایا گیا۔ اس باوقار منصب پر فائز ہو کر مولانا نے اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں ملک کو خود کفیل بنانے کے لئے جو کارنامے انجام دیئے انھیں ہندوستانی عوام تاقیامت فراموش نہیں کرپائے گی۔ مولانا ابوالکلام آزاد جہاں ایک طرف بابائے قوم مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ مل کر ہماری متحدہ قومیت کی بنیادیں مستحکم کیں۔ وہیں دوسری جانب قرآن کی تفسیر لکھ کر قوم مشرق کو زندگی کے آداب اور قرینے بھی سکھائے۔ اپنی اس ہمہ جہت شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے جو الفاظ کہے وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں. ان کا کہنا تھا کہ

"میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہوں۔ اسلام کی تیرہ سو برس کی شاندار روایتیں میرے ورثے میں آئی ہیں۔ میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع کردوں۔ اسلام کی تعلیم، اسلام کی تاریخ، اسلام کے علوم وفنون، اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں۔ بحیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی کلچر کے دائرے میں اپنی ایک خاص ہستی رکھتا ہوں اور میں برداشت نہیں کرسکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے، لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا ہے۔

اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی اور اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے۔ میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں۔ میں ہندوستان کی ایک اور ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا عنصر ہوں۔ میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رو جاتا ہے، میں اس کی تکوین (بناوٹ) کا ایک ناگزیر عامل ہوں۔ میں اپنے اس دعوی سے کبھی دستبردار نہیں ہوسکتا ہوں”.

اسی مقصد کے پیش نظر مولانا نے چہارنکاتی منصوبہ بنایاتھا۔ مولانا آزاد کے قائم کردہ چند تعلیمی، سائنسی، ادبی اور تہذیبی ادارے اور تنظیموں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:-

(1) سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن۔ (2) سنٹرل ایڈوائزری بورڈ آف ایجوکیشن۔ (3) آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس۔ (4) میوزیم ایسوسی ایشنس آف انڈیا۔ (5) انڈین ہسٹوریکل ریکارڈس کمیشن۔ (6) سنٹرل ایڈوائزری بورڈ آف آرکیالوجی۔ (7) آل انڈیا کانفرنس آن آرٹس۔ (8) انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنس۔ (9) آل انڈیا کانفرنس آن لیٹرس۔ (10) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی۔ (11) نیشنل آرٹ ٹریزرس فنڈ۔ (12) سنٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ۔ (13) انڈین اکیڈمی آف ڈانس، ڈرامہ اینڈ میوزک۔ (14) نیشنل لائبریری، علی پور۔ (15) آل انڈیا کونسل فار ٹیکنالوجی ایجوکیشن۔ (16) سنٹرل بلڈنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، روڑکی۔ (17) دی کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ۔ (18) یونیورسٹی گرانٹس کمیشن۔ (19) ساہتیہ اکیڈمی۔ (20) للت کلا اکیڈمی۔ (21) یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن۔ (22) سکنڈری ایجوکیشن کمیشن۔ (23) کھڑگپور انسٹی ٹیوٹ آف ہائیر ٹیکنالوجی۔ (24) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس۔ (25) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلور۔ (26) ڈلہی پالیٹیکنک۔ (27) ویسٹرن ہائیر ٹیکنولوجیکل انسٹی ٹیوٹ، ممبئی۔

مولانا ابوالکلام آزاد وزیر تعلیم کی حیثیت سے بے لوث خدمت کو دیکھتے ہوئے یہ بات بجاطور پر کہی جاسکتی ہے کہ ہر اسکول، کالج، یونیورسٹی اور ہر ادارہ پر مولانا آزاد کا بے شمار احسانات ہیں ۔

آپ کی معرکۃ الآراء تصانیف میں 1 ترجمان القرآن 2 تصورات قرآن 3 قرآن کا قانون عروج و زوال 4 یاجوج ماجوج 5 رسول رحمت ( سیرت رسول ﷺ پر مشتمل مقالات کا مجموعہ ) 6 سیرت رسول ﷺ کے عملی پہلو 7 صدائے حق 8 حقیقت زکوٰۃ 9 حقیقت حج 10 حقیقت الصلوٰۃ 11 جامع الشواہد فی دخول غیر المسلم فی المساجد 12 تحریک آزادی 13 ایمان اورعقل 14اولیاء اللہ و اولیاء الشیطان15 انسانیت موت کے دروازے پر 16 اسلام میں آزادی کا تصور 17 ارکان اسلام 18 رسالہ عزیمت و دعوت [19] ہجر و وصال 20 ہماری آزادی 21 غبار خاطر 22 حیات سرمد 23 آزادئ ہند (Indian wins freedom) 24 تحریک نظم جماعت 25 اسلام اور نیشنلزم 26 عروج و زوال کے فطری اصول 27 اسلام کا نظریہ جنگ 28 شہادت حسین 29 مسئلہ خلافت 30 غضب ناک محبوبہ (ایک افسانہ کا ترجمہ) 31 صدائے رفعت 32 ذکرٰی 33 درس وفا 34 قول فیصل. شامل ہیں.

1 مولانا ابو الکلام آزاد کی قرآنی خدمت (افضل حق قرشی)

2 مولانا ابو الکلام آزاد بحیثیت صحافی و مفسر (عبد الرشید عراقی)

3 نقوش ابوالکلام و مقالات آزاد (عبد المجید سوہدروی)

4 تذکرہ آزاد (عبد الرشید عراقی)

5 ذکر آزاد (عبد الرزاق ملیح آبادی)

6 امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد (ابوعلی اثری)

7 خطوط ابوالکلام آزاد (مالک رام)

8 مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت (ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہاں پوری)

9 ابو الکلام آزاد (شورش کاشمیری )

10ملفوظات آزاد (محمد اجمل خان) ۔

مولانا ابو الکلام آزاد کے زیر ادارت چلنے والے مختلف اخبارو رسائل یہ ہیں ، اخبار : الہلال اور البلاغ ۔ رسائل : لسان الصدق اور نیرنگ عالم۔وغیرہ،

مولانا ابوالکلام آزاد کی شادی بارہ سال کی عمر میں نو سال کی لڑکی زلیخا بیگم سے ہوئی تھی ، وہ اپنے شوھر کی خدمت کرنے میں ہی اپنا وقار سمجھتی تھی ، اور بڑی مہمان نواز تھی، 8 اگست 1942ء گوالیار ٹینک بمبئی میں جب ” بھارت چھوڑو تحریک " چلائی گئی تب مولانا آزاد گرفتار کرلئے گئے تھے ، پنڈت نہرو اور مولانا آزاد کو احمد نگر جیل میں رکھا گیا تھا، اس وقت زلیخا بیگم سخت بیمار پڑگئی، ڈاکٹر بی سی رائے اور دوسرے ڈاکٹر ان کا علاج کررہے تھے۔

3؍ اپریل 1943ء کو ڈاکٹر بی سی رائے جب انہیں دیکھنے گئے تو بس یہی کہا کہ خدا کے لئے مولانا کو دکھادو ، نہ تو وقت پر انہیں دوا ملتی تھی اور نہ کھانا ، بالآخر زلیخا بیگم 49 سال کی عمر میں 9؍ اپریل 1943ء میں اس دنیا سے چل بسیں ۔ جب جنازہ میں شامل ہونے کے لئے مولانا آزاد کی رہائی کے واسطے ایک تار جیل کے افسر کو ملا مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں” جس دن تار ملا اس کے دوسرے دن سپرنٹنڈنٹ میرے پاس آیا اور کہنے لگا اگر تم اس بارے میں حکومت سے کچھ کہنا چاہو تو میں اسے فورا بمبئی بھیج دوں گا ، وہ صورت حال سے بہت متأثر تھا اور اپنی ہمدردی کا یقین دلانا چاہتا تھا ، لیکن میں نے اسے صاف صاف کہدیا کہ میں حکومت سے کوئی درخواست کرنا نہیں چاہتا ہوں ، وہ پھر جواہر لال نہرو کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں گفتگو کی وہ سہ پہر میرے پاس آئے اور بہت دیر تک اس بارے میں مجھ سے گفتگو کرتے رہے ، لیکن میں نے ان سے بھی وہی بات کہی جو سپرنٹنڈنٹ سے کہی تھی ، بعد میں معلوم ہوا کہ سپرنٹنڈنٹ نے یہ بات حکومت بمبئی کے ایما پر ہی کہی تھی، مگر پھر بھی آپ کو رہائی نصیب نہیں ہوئی ۔

آخر ہزاروں ہندوستانیوں نے نم آنکھوں سے زلیخا بیگم کے جنازہ کی نماز ادا کی ، اور دوسرے مذاھب کے لوگوں نے انہیں آنسوؤں سے خراج عقیدت پیش کیا. جب آپ 3 سال کے بعد یعنی 15؍ جون 1945ء میں جیل سے رہا ہوئے تو ہاؤڑہ ریلوے اسٹیشن پر ہزاروں لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی ، آپ جیل سے رہا ہوکر سیدھے قبرستان کی طرف چلے ، سارا ہجوم آپ کے ساتھ چل رہا تھا ، زلیخا بیگم کی قبر پر گئے، فاتحہ پڑھی، آپ کے ساتھ ہزاروں لوگوں کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں، مرحومہ زلیخا بیگم کی یہ قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی.

لہذا ملک کے تمام اداروں اور تعلیمی مراکز کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ قومی یوم تعلیم کو نہایت جوش وخروش کے ساتھ منائیں اور مولانا کو سچی اور حقیقی خراجِ عقیدت پیش کریں۔

اگر یہ کہا جائے کہ آج کے اس نفرت اور تعصب بھرے ماحول میں جہاں انگریزوں کی پالیسی ’’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘‘ کے پیروکار ، ہندوستان کی گنگا،جمنی تہذیب کے دشمن، فرقہ پرست عناصر اور زعفرانی جراثیم پھیلانے والے گروہ جو مذہبی جنون پھیلا کر ملک کی قومی یکجہتی اور سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مولانا ابوالکلام آزاد جیسے محب وطن اور جنگ آزادی کے سرخیل کی تعلیمات کو عام کرنے اور ان سے سبق حاصل کر نے کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button