سیاسی و مذہبی مضامین

توبہ کی فضیلت✍️محمد محفوظ قادری

گناہوں سے توبہ کرنا ہرمسلمان مرد اور عورت پرواجب ہے جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ’’یایھاالذ ین اٰمنوا توبوا الی اللہ توبۃ نصوحاً۰‘‘اے ایمان والو اللہ سے سچی توبہ کرو۔

گناہوں سے توبہ کرنا ہرمسلمان مرد اور عورت پرواجب ہے جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ’’یایھاالذ ین اٰمنوا توبوا الی اللہ توبۃ نصوحاً۰‘‘اے ایمان والو اللہ سے سچی توبہ کرو۔اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ’’ولا تکونوا کالذ ین نسواللہ‘‘ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا ۔یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا کہ جنہوں نے اللہ کی کتابوں کو پس پشت ڈال دیا اور ان کو اپنے حال پر رحم نہیں آیا اور اپنے آپ کو گناہوں سے نہیں بچایا اور آخرت کیلئے انہوں نے کوئی نیکی نہیں کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کرنا پسند فرماتا ہے اور جو اللہ سے ملناپسند نہیں کرتا تواللہ اس سے ملنا پسند نہیں فرماتا ۔حقیقی اورسچی توبہ یہ ہے کہ بندہ اللہ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کا اقرا رکرے اور نادم وشرمندہ ہوکر آئندہ گناہوں کونہ کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے اللہ رب العزت سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے ۔

ایسی توبہ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔اور ایسی ہی توبہ گناہوں کومٹانے کاذریعہ ثابت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان اور رحم وکرم فرمانے والا ہے اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے ہوتا ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس حال میں کہ وہ زنا سے حاملہ تھی ،اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی!میں حد کے جرم کی مرتکب ہوچکی ہوں ،پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد جاری کریں ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کوبلایا اور اس کو حکم دیا کہ اس کو اچھی طرح رکھنا ،جب بچہ کی پیدائش ہوجائے تو اس کو میرے پاس لے آنا ،پس اس نے ایسا ہی کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو سنگسار کردیا جائے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔

یہ عمل دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی یارسول اللہ !آپ اس کی نمازجنازہ پڑھاتے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا تھا ۔(یہ سن کر)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیشک !اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کی جائے تو ان کوکافی ہوجائے اور کیا تم نے اس سے افضل توبہ پائی ہے ؟کہ اس نے اپنے آپ کو اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کیلئے پیش کردیا۔(مسلم شریف)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے جس بندئہ مومن کو سچے دل سے توبہ کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے وہ بہت خوش نصیب بندہ ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ،محافظ فرشتے اس کے ماضی کے گناہوں کو بھول جاتے ہیں ،اس کے اعضائے جسمانی اس کی خطائوں کو بھول جاتے ہیں ،

زمین کا وہ ٹکڑا کہ جس پر اس نے گناہ کیا اور آسمان کا وہ حصہ کہ جس کے نیچے اس نے گناہ کیا اس کے گناہوں کو بھول جاتے ہیں ،جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس گناہوں پر گواہی دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔(مکاشفتہ القلوب) ۔جب بندہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق زندگی گزارتا ہے پھر بتقضائے بشریت اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت رات میں اپنی رحمت کووسیع کرتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والے توبہ کریںاور اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے،اسی طرح دن میں اپنی رحمت کو دراز فرماتا ہے تاکہ رات کے گناہ گاروں کی توبہ قبول فرمائے یہاں تک کہ مغرب سے سورج طلوع ہوگا۔

انسان گناہوں کا پتلا ہے اس سے ہر وقت چھوٹے بڑے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں کوئی بھی انسان چاہے وہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو لیکن وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہے ۔عقل مند بندئہ مومن کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ جب اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ فوراً اس بات کااحساس کرتے ہوئے کہ میری اس خطاپر کوئی پکڑ کرنے والا ہے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے مغفرت طلب کرتا ہے۔قرآن ایسے لوگوں کی صفت بیان کرتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش ہے اور وہ جنتیں ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button