نظم : کسان
سورج کی لالی ماتھے پر سجائے
ذمہ داری کی پگڑی سر پر تھامے
کاندھے پر پیٹ بھرنے کا بوجھ لادے
ننگے پاؤں …….
زمین کا بوسہ لیتے آبلے پاؤں
وہ نکل پڑتا تھا ہل اٹھائے
امید کے کھیتوں کی طرف
لہلہاتے کھیتوں میں اگے
امیدوں کے پودوں میں
وہ سینچتا تھا اپنے خوابوں کو
چہرے کی جھریوں میں قید
مسکراتا ہندستان
مسکراتا کسان
جس کی زندگی کھیت کھلیان سے
چولہے کی روٹی تک سمٹی
دن رات قرض کا بوجھ اتارنے کی فکر
دو وقت کی روٹی ملنے کی تمنا
جسے نہ عیش و عشرت کی حسرت
نہ خواہش سیاست یاتاج کی
نظر آسمان پر بارش کے انتظار کی
دل میں دعائیں اچھی فصل ہونے کی
معصوم دل میں معصوم ہندستان
لیکن افسوس
بھسم ہو گیا کسان بھی
سیاست کی آہوتی میں
چھین کر ہل ،پھاوڑا ،کدار
کھڑا کر دیا سیاست کے مایا جال میں
خواب دکھا کر ترقی کا
تجارت کا پاٹھ پڑھاتے ہے
نفع نقصان کے کھیل میں
الجھا دیا کسانوں کو
بیچ کر ہندستان کے سرمائے کو
اب کسانوں کی بولی لگاتے ہیں
لاچار ،لاعلم کسان ،بے بس کسان
لڑ رہا ہے اپنے ہی ملک میں جنگ
اپنے ہی کھیت کھلیانوں کے لیے
اپنے ہی چنے سیاستدانوں کے سامنے
گڑ گڑ ا رہا ہے ،
نہ کوئی سننے والا ،نہ کوئی سمجھنے والا
ان کے دکھ کو ان کے درد کو ،ان کی فریاد کو
ٹھٹھرتی ٹھنڈی میں
کھلے آسمان میں بیٹھے
انصاف کی آس لگائے
موت کی گھاٹ اتر رہا ہے کسان
ہائے رے ہندستان
تیری سنہری کتاب میں
رقم ہو نے کو ہے ایک سیاہ باب
ڈاکٹر صالحہ صدیقی (الٰہ آباد)


