سیاسی و مذہبی مضامین

کیا موجودہ "جمہوری نظام” جمہوریت پر قایم ہے ؟

کیا موجودہ "جمہوری نظام” جمہوریت پر قایم ہے ؟   

 جمھوری
ایس. ایم. عارف حسین

جمہوریت یا "جمہوری نظام” انسانی تعداد کی اکثریتی راے پر منحصر ہوتا ہے تاکہ ریاست و ملک میں امن قایم رہے اور تمام باشندے ہر لحاظ سے یعنی سماجی-مذہبی- تعلیمی- تجارتی- و تہزیبی آزادی کیساتھ زندگی گذار سکیں جو انسانی حق ہے۔کیا آج کسی ریاست یا ملک کا انتظامیہ یا حکمرانی جمھوریت کے زیر سایہ کامیاب  ہے؟  کیا وہاں کی عوام کو سماجی-معاشرتی۔مذہبی۔تجارتی و انفرادی ذہنی سکون میسر ہے ؟ ایک سوالیہ نشان نظر آتا ہے۔افسوس کہ موجودہ دور کا جمھوری نظام سب سے پہلے تعلیمی یافتہ نمایندوں سے بہت دور ہے جبکہ  مذکورہ نظام کو چلانے کیلیے  تعلیم کی شدید ضرورت ہے. 

یہ بات بھی عیاں ہیکہ دور حاضر کےعوامی منتخبہ نمایندے اکثریت میں غیر تعلیم یافتہ کے ساتھ ساتھ مجرمانہ تاریخ رکھتے ہیں. یوں کہا جاے تو بیجا نہ ہوگا کہ مزکورہ بالا صفات کے ساتھ  دولت کی طاقت کی بنیاد پر جمھوری نظام کے انتخابات میں کامیابی حاصل کیجارہی ہے جسپر کوئ قانونی گرفت  نہیں ہے.ایسے ماحول میں کیوں کر کسی ریاست و ملک میں بہتر اور پرسکون انتظامیہ کی امید کیجاسکتی ہے.

    تعلیم کے بغیر صرف اکثریتی تعداد کی  بنیاد پر جمھوریت کی بقاء کسی بھی ریاست یا ملک کیلیے مناسب نہیں ہوتی.  جن جن ریاستوں  و ممالک میں  صرف تعداد و دولت کی بنیاد پر جمھوریت قایم ہوئ زمانہ شاہد ہیکہ وہاں بار بار آئین میں تبدیلیاں لائ گیں اور لائ جارہی ہیں. کبھی اکثریت کے پسند کے مذہب کی تشہیر کیجارہی ہے تو کبھی کھانے پینے پر پابندی عاید کیجارہی ہے تو کبھی علاقائ یا قومی زبان کے مسلط کرنے کی کوشش کیجارہی ہے تو کبھی سماجی و تہذیبی امور کو انجام دینے میں رکاوٹ کیجارہی تو تو کبھی تعلیمی اداروں کو چلانے پر پابندی کی شکل میں تو کبھی تجارتی آزادی کو چھیننے میں تو کبھی اکثریتی طاقت کی بنیاد پر حکومتیں آرڈینینس کی اجرائ کی صورت میں تو کبھی لباس کے پہناوے  یعنی خاصکر ہجاب کے استعمال   پر پابندی عاید کررہے ہیں تو کبھی عبادت گاہوں کو مسمار کیا جارہا ہے تو کبھی عبادت گاہوں کی تعمیر میں رکاوٹ کیجارہی ہے اور نسل پرستی و رنگ کی بنیاد پر نفرت پھیلائ جارہی ہے. جسکے نتیجہ میں دنیا کے کئ ممالک کا قومی سکون ختم ہورہا ہے
بلکہ خون خرابہ کیا جارہا ہے.اسطرح انسان ایک طرف سماجی و ذہنی سکون سے محروم ہورہا ہے  تو دوسری طرف فاقہ کشی کا شکار ہوتا ہوا وقت سے قبل موت کے منہ میں جاگررہا ہے. 
     لہذا ضرورت اسبات کی ہیکہ جمھوری نظام کو چلانے کیلیے ایسے ہی نمایندوں کا انتخاب کیا جاے جو کم از کم گریجویٹ کی تعلیم سے آراستہ ہوں اور جنکا کردار جرم سے پاک و صاف ہو.ورنہ جمھوریت غنڈہ گردی اور سرمایہ داروں کی ٹھیکہ داری بنکر رہے جایگی. یہ کیفیت  موجودہ دور کی جمھوریتوں میں مشاہدہ میں آرہی ہے.
.     یہ بات بھی حقیقت ہیکہ ماضی کے تاناشاہی اور حاکمانہ حکومتوں کی زیادتی اور ظلم کے نتیجہ میں  اس وقت کے دانشور اور مفکر قوم نے برسوں کی محنت کے بعد ایک نیے نظام یعنی "جمھوریت” کا ارتقاء عمل میں لایا تاکہ قوم کو غلامی اور ظلم  سے نجات ملے. نتیجتاً اس نظام کو قبول و قایم کرنے میں بڑی کامیابی ملی اور آج دنیا کے اکثریتی ممالک اسی جمھوری نظام کو اپناے ہوے ہیں. یہ امر بھی ثابت ہوچکا  ہیکہ  انہی ممالک میں جمھوری نظام کامیاب ہے جہاں تعلیم یافتہ نمایندے منتخب کیے جارہے ہیں. 

” اندھیرے یوں ہی نہیں جاتے صرف سونچ لینے سے :: چراغ خود نہیں جلتا جلانا پڑتا ہے "

اظہارِ فکر: – ایس. ایم. عارف حسین. اعزازی خادمِ تعلیمات. مشیرآباد. حیدرآباد.

متعلقہ خبریں

Back to top button