مسلمان کی قیمت میڈیاء کی بولی پر✍️محمد مصطفی علی سروری
سوشیل میڈیا پر اس لڑکی کی سوٹ کیس سے نکلنے والی نعش کی تصاویر وائرل ہوجاتی ہیں اور کسی نے اس ویڈیو اور فوٹوز کے ساتھ ایک سطر کی وضاحت کا اضافہ کردیا
18؍ نومبر 2022 جمعہ کے دن اترپردیش پولیس کو یمنا ایکسپریس وے پر ایک لاوارث سوٹ کیس ملتا ہے۔ اطلاع ملتے ہیں پولیس جائے واردات پر پہنچ کر سوٹ کیس کو اپنے قبضے میں لے کر کھولتی ہے تو سوٹ کیس میں سے ایک لڑکی کی نعش برآمد ہوتی ہے۔ بس تھوڑی ہی دیر میں سوشیل میڈیا پر اس لڑکی کی سوٹ کیس سے نکلنے والی نعش کی تصاویر وائرل ہوجاتی ہیں اور کسی نے اس ویڈیو اور فوٹوز کے ساتھ ایک سطر کی وضاحت کا اضافہ کردیا کہ یہ لڑکی بھی لو جہاد کا نشانہ بن کر اپنی جان سے ہاتھ گنوا بیٹھی ہے۔ حسب روایت سوشیل میڈیا کے صارفین نے بغیر تصدیق اور شناخت کہ اس پوسٹ کو آگے فارورڈ کرنا ضروری سمجھا اور یہ پوسٹ اس لیے بھی خوب پھیلی کہ لوگوں کے ذہنوں میں آفتاب پونا والا کا معاملہ ابھی تازہ تھا۔
12؍ نومبر 2022 کو ہی دہلی پولیس نے آفتاب پونا والا کو گرفتار کیا تھا۔ آفتاب نے شردھا والکر نامی ایک لڑکی کو قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کے 35 تکڑے کر کے اس کو دارالحکومت دہلی کے مختلف مقامات پر پھینک دیا تھا۔ پورے ملک میں آفتاب پونے والا کے نام اور اس کے انداز قتل کو لے کر بحث چھڑ گئی تھی۔ لوگ آفتاب پونے والا کے اس قتل کو اس کے مذہب کے ساتھ جوڑ کر پیش کر رہے تھے۔ لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں غصہ تھا کہ ایک مسلمان نوجوان نے پہلے تو ہندو لڑکی سے دوستی کی۔ اس کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کیے او رلڑکی جب شادی کے لیے دبائو ڈالنے لگی تو اس کا بے رحمی سے قتل کرڈالا۔
میڈیاء میں بھی آفتاب پونا والا شہ سرخیوں میں چھایا ہوا تھا۔ اور اس کی گرفتاری کے چھ دن بعد جب سوشیل میڈیا پر سوٹ کیس میں قتل کر کے پھینکی جانے والی لڑکی کی نعش کی پوسٹ وائرل ہوئی تو سبھی لوگ اس لڑکی کے قتل کی واردات کو بھی ہندو مسلم زاویئے سے دیکھنے لگے تھے۔
اترپردیش کی پولیس نے اس لڑکی کے قتل کا پتہ چلانے کے لیے 14 مختلف ٹیمیں تشکیل دی اور پھر قتل کے اس معاملے میں کسی اور کو نہیں بلکہ لڑکی کے حقیقی والدین کو ہی گرفتار کر کے عدالت میں پیش کردیا۔
اخبار انڈین ایکسپریس کی 22؍ نومبر 2022ء کی رپورٹ کے مطابق مرنے والی لڑکی کا نام آیوشی یاد وتھا۔ 21 سال کی یہ لڑکی بی سی اے کی طالب علم تھی۔ دہلی پولیس کے حوالے سے بتلایا گیا کہ اس لڑکی نے گذشتہ برس ہی اپنے والدین کی مرضی کے خلاف ایک دوسری ذات کے لڑکے سے آریہ سماج کی مندر میں شادی کرلی تھی۔ چونکہ والدین دوسری ذات کے لڑکے سے شادی کے خلاف تھے تو لڑکی نے اپنی شادی کی بات اپنے گھر والوں سے بھی چھپا کر رکھی اور لڑکے سے ملنے کے لیے چھپ چھپ کر جاتی تھی۔ اور جب والدین کو اس شادی کے متعلق پتہ چلا تو انہوں نے لڑکی کو سخت ڈانٹا لیکن لڑکی جب اپنے فیصلے پر ڈٹی رہی تو کسی اور نے نہیں 21 سالہ آیوشی کو اس کے باپ نے خود اپنے ریوالور سے گولی مار کر ہلاک کردیا۔
کیا آیوشی کی ماں قتل کے اس معاملے سے ناواقف تھی؟
قارئین اخباری اطلاع کے مطابق آیوشی کو گولی مارنے کے بعد جب اس کی نعش کو ٹھکانے لگانے کا مرحلہ آیا تو آیوشی کی ماں نے اپنے شوہر کی مدد کی اور ماں باپ نے مل کر اپنی بیٹی کی نعش کو سوٹ کیس میں رکھ کر رات تین بجے اندھیرے میں یمنا ایکسپریس میں لاکر چھوڑ دیا۔
یوں آیوشی کے ماں باپ کی گرفتاری کے بعد بہت سارے امن پسند شہریوں نے اس بات پر چین کی سانس لی کہ چلو ہندو مسلم جذبات کو بھڑکانے والا ایک معاملہ فرضی ثابت ہوا۔
قارئین کرام آفتاب پونا والا کا معاملہ ہو یا کوئی اور معاملہ یقینا قاتل اگر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو تو اس کی نہ صرف مذمت کرنی چاہیے بلکہ اس طرح کے واقعات کا مکمل سدباب کرنے کے ہر قانونی ذرائع کی حمایت کی جانی چاہیے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ دور حاضر میں مجرمین کے خلاف سخت کاروائی اور پھانسی کی سزاء کا مطالبہ اسی وقت کیا جاتا ہے جب مجرمین ایک مخصوص طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔
کیا قتل کرنے کے معاملات کا مذہب سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔ اگر آفتاب پونا والا مسلمان ہے تو مذہب اسلام میں ایسی کوئی تعلیمات نہیں ہیں اور مذہب اسلام ایسی کوئی اجازت نہیں دیتا ہے کہ شادی کے بغیر لڑکا لڑکی تعلقات قائم کرسکیں نہ تو ساتھ رہنے کی اجازت ہے اور نہ کسی کو قتل کرنے کی تعلیم کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ لیکن میڈیا کو لگام کون لگائے گا۔ وہ تو اس موضوع کو بھنانے پر لگا ہے۔
21؍ نومبر 2022ء کو اخبار انڈین ایکسپریس نے کولکتہ سے 21 کیلومیٹر دور باروی پور کے علاقے سے ایک خبر شائع کی جس کے مطابق پولیس نے ایک 50 سالہ خاتون اور اس کے 25 سالہ فرزند کو گرفتار کرلیا تھا۔ ان دونوں پر الزام ہے کہ ان دونوں ماں بیٹے نے مل کر اپنے شوہر اور والد کا قتل کردیا اور آفتاب پونا والا کی طرح ان لوگوں نے بھی قتل کے بعد 55 سالہ چکربورتی نامی شخص کی نعش کو کاٹ کر چھ ٹکڑے کرڈالے۔ پھر ان ٹکڑوں کو قریبی علاقوں میں پھینک دیا۔ 55 سالہ چکربورتی ہندوستانی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر تھے۔
14؍نومبر 2022ء کو بیٹے کی 3 ہزار امتحانی فیس کی ادائیگی کو لے کر پہلے باپ بیٹے کے درمیان خوب بحث ہوئی۔ جس کے بعد اس کی بیوی شیاملی چکربورتی اور راجوچکربورتی نے مل کر اپنے شوہر اور باپ کا قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد بیٹے نے اپنے آئی ٹی آئی کورس کے کٹ میں شامل آرے کی مدد سے باپ کی نعش کے چھ ٹکڑے کر ڈالے اور پھر اپنی ماں کے ساتھ ان کو لے جاکر مختلف مقامات پر پھینک دیا۔
قارئین کرام یہ ہمارے معاشرے کی بدلتی ہوئی قدریں اور بڑھتے ہوئے چیالنجس کا ثبوت ہے۔ قوت برداشت کی کم ہوتی ہوئی صلاحیت اور تنقید کرنے والی ہر آواز کو خاموش کرانے کی چاہت ہر سو عام ہوتی جارہی ہے۔ اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ قاتل اجنبی نہیں بلکہ جاننے والے ہیں۔ قتل کے بعد ندامت نہیں بلکہ نعش کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے بارے میں سونچا جارہا ہے۔ اس سونچ کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔
18؍ دسمبر 2022ء کو دی نیو انڈین ایکسپریس اخبار نے جئے پور سے ایک خبر شائع کی۔ خبر کے مطابق پولیس نے 32 سال کے انوج شرما کو اس کی 65 سالہ بزرگ خالہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق انوج شرما گذشتہ آٹھ برسوں سے ’’ہرے کرشنا‘‘ تحریک سے جڑا ہوا ہے۔ بی ٹیک سے گریجویشن کرنے والے انوج کو بے روزگاری سے مسئلہ تھا اور اس کی خالہ اس کو بار بار ٹوکا کرتی تھی، جس سے تنگ آکر اس نے اپنی خالہ کے سرپر ہتھوڑا مار کر قتل کردیا۔ اتنا ہی نہیں، قتل کرنے کے بعد انوج نے اپنی خالہ کی نعش کے 10 ٹکڑے کرڈالے۔ پھر انہیں سوٹ کیس میں رکھ کر دورپھینک آیا۔ خالہ کی نعش کے ٹکڑے کرنے کے لیے انوج نے پولیس کے مطابق بازار سے ماربل کاٹنے والی مشین کرائے پر گھر لایا تھا۔
قارئین ایک اور واقعہ 10؍ دسمبر کو پی ٹی آئی نے مدھیہ پردیش سے رپورٹ کیا تھا۔ اخبار ٹریبون انڈیا کی خبر کے مطابق مدھیہ پردیش کے ضلع دیواس میں پولیس نے 45 سالہ ایک ایسے شخص کو گرفتار کرلیا جس نے ایک خاتون کے ساتھ اپنے ناجائز تعلقات کو چھپانے کے لیے اپنے ہی 15 سالہ بیٹے کو مارکر قتل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اس 45 سالہ شخص کے 15 سالہ بیٹے نے جب یہ دیکھا کہ اس کا باپ ایک دوسری خاتون سے ساتھ قابل اعتراض حالت میں ہے تو باپ نے اپنے ہی بیٹے کے پہلے تو دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے اور انہیں ایک بورنگ میں پھینک دیا۔ اس کے بعد ظالم باپ نے اپنے ہی بیٹے کا گلہ دباکر قتل کرڈالا اور پھر نعش کو جھاڑیوں میں پھینک دیا۔
کچھ دن بعد جب لڑکے کی نعش ملنے کی پولیس کو اطلاع ملی تو پوسٹ مارٹم کروایا گیا تب پتہ چلاکہ بچے کی موت گلہ دبنے کی وجہ سے ہوئی۔ یوں پولیس کی تحقیقات آگے بڑھی اور پھر ساری کہانی سامنے آگئی۔
انسانیت کو شرمسار کردینے والے اس واقعہ میں نہ تو خبر رساں ادارے نے ملزم کے مذہب کو اجاگر کیا اور نہ کسی میڈیا نے ایسا کیا۔اور جب 17؍ دسمبر کو جھارکھنڈ رانچی سے خبر آئی کہ وہاں پر ایک قبائلی خاتون کو قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کے بھی ٹکڑے کردیئے گئے تو وہ سارے میڈیا والے اچانک جاگ کر متحرک ہوگئے جو آفتاب پونا والا کی اسٹوری سناسناکر تھک گئے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ شردھا والکر کے قتل کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ہندوستان میں قتل کی دوسری کوئی واردات پیش نہیں آئی۔ لڑکیوں کے، بچوں کے، خواتین اور مرد حضرات کے قتل کے کئی معاملے سامنے آئے لیکن میڈیا نے ان میں سے کسی پر توجہ نہیں دی لیکن جھارکھنڈ کے قبائلی خاتون کے قتل پر توجہ دینے کی وجہ کیا ہے؟ وہ بھی جان لیجئے دراصل جھارکھنڈ کی 22 سالہ قبائلی خاتون رابیکا پہاون کو دلدار انصاری اور اس کے گھر والوں نے پولیس کے مطابق مل کر قتل کیا ہے۔
دلدار انصاری مسلمان ہے اور قتل کرتا ہے تو اس کو سخت سے سخت قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔
مسلم قوم اس بات کا بھی احتساب کرے کہ اس واقعہ میں انہیں کیا سیکھ ملتی ہے۔ دلدار انصاری کی عمر 25 برس بتلائی گئی۔ اخبار ہندوستان ٹائمز کی 20؍ دسمبر 2022ء کی رپورٹ کے مطابق دلدار انصاری شادی شدہ ہے۔ اس کے باوجود اس نے ایک قبائلی خاتون ربیکا پہاون سے دوسری شادی کرلی۔ گھر والے اس دوسرے شادی کے خلاف تھے اور ناراض تھے تو ان لوگوں نے مل کر دلدار انصاری کی دوسری بیوی کو قتل کر کے اس کی نعش کے ٹکڑے کردیئے اور پھر انہیں ایک سنسان عمارت میں چھپادیا۔ جب آوارہ کتے نعش کے ان ٹکڑوں کو لے کر باہر نکلے تب پو لیس حرکت میں آئی اور یوں سارے معاملے سے پردہ اٹھا۔
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جاری ہے راجیہ سبھا میں ایک خانگی بل یکساں سیول کوڈ کا پاس ہوچکا ہے۔ مسلمان خواب غفلت میں پڑا ہوا ہے۔ دلدار انصاری جیسے نوجوان اپنی پسند سے دوسری شادی دوسرے مذہب کی لڑکی سے کرلیتے اور اس کے گھر والے اس شادی کی مخالفت پر اتر آئے ہیں اورغصہ کی حالت میں دلدار کی اس دوسری بیوی کو قتل کردیتے ہیں،جو مسلمان نہیں ہے۔
دلدار انصاری کی دوسری بیوی کا قتل یکساں سیول کوڈ کی حمایت میں ایک نظیر کے طور پر پیش ہوگا اور ہم مسلمان کیا کریں گے۔ کب تک ہم اپنے اطراف و اکناف، اپنے سماج اور اپنے خاندان میں ہونے والی برائیوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کریں گے۔
ارے برائی تو ہر زمانہ میں ہوتی ہے۔ اس پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔
کسی بھی واقعہ کو ہم چھوٹا نہیں کہہ سکتے۔ کسی بھی ایک مسلمان کی حرکت کو ہم اکلوتا واقعہ نہیں کہہ سکتے ۔ ہمیں اپنے اندر احساس جگانا ہوگا۔ ہمارے سماج کے اکلوتے واقعات چند ایک افراد کی حرکات جو قانون کی روشنی میں اور سب سے اہم شریعت مطہرہ کے خلاف ہو تو ہمیں آواز بلند کرنی ہوگی۔ مخالفت کرنی ہوگی۔ ورنہ ہماری یہ خاموشی مصلحت نہیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار سمجھی جائے گی اور خدا نخواستہ یہ طرز عمل روزِ محشر پکڑ کا سبب بن جائے۔
آیئے توبہ کرتے ہیں۔ اپنے بارے میں ہی نہیں بلکہ ہم پوری امت مسلمہ کے بارے میں فکر کا اظہار کرتے ہیں۔ برائی چھوٹی ہے، اکلوتی ہے نہیں کہیں گے بلکہ ہر ممکنہ طور پر اس کے سدباب کے لیے کام کریں گے اور نبی رحمت حضرت محمد ﷺ کی اس حدیث مبارکہ کی عملی تفسیر پیش کریں گے جس میں امت مسلمہ کو جسم واحد قرار دیا گیا ہے۔ (انشاء اللہ)
اللہ تعالیٰ ہم سبھی کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین۔ یارب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



