سیاسی و مذہبی مضامین

کام چوری کے لیے بہانے ہزار کامیابی کے لیے محنت درکار محمد مصطفی علی سروری

یہ تقریباً 41 برس پہلے کی بات ہے 35 برس کے ایک نوجوان انجینئر نے اپنی بیوی سے قرضہ لے کر بزنس کرنے کا ارادہ کیا۔

یہ تقریباً 41 برس پہلے کی بات ہے 35 برس کے ایک نوجوان انجینئر نے اپنی بیوی سے قرضہ لے کر بزنس کرنے کا ارادہ کیا۔ قارئین قرضہ کی یہ رقم 10 ہزار روپئے تھے۔ اس رقم کے ساتھ اس انجینئر نے اپنے چھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر 2؍ جولائی 1981 میں شہر پونے میں ایک کمپنی شروع کی جس کا نام انفوسیس تھا۔ ایک برس بعد یہ کمپنی پونے سے کرناٹک کے شہر بنگلور منتقل کردی گئی۔ جی ہاں قارئین کرام یہ وہی انفوسیس کمپنی ہے جو بمبئی اسٹاک ایکسچینج سے لے کر نیو یارک اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے لیے درج رجسٹرڈ ہے۔

انفوسیس ہندوستان کی ایک ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی ہے۔ ٹاٹا کنسلٹنسی سرویس ( ٹی سی ایس) کے بعد انفوسس ملک کی دوسری بڑی آئی ٹی کی کی کاروباری کمپنی ہے۔ سال 2022 کے دوران انفوسس کمپنی کی آمدنی ایک لاکھ تیس ہزار نو سو چھتیس کروڑ تین لاکھ (123936) رکارڈ کی گئی تھی۔ اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد پینتیس ہزار ایکسوچھیاسی بتلائی گئی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتنی بڑی کمپنی ہے۔

ہزاروں نوجوان اس کمپنی میں ملازمت کے خواب دیکھتے ہیں۔ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ غیر ملکی بھی اس کمپنی میں کام کرنے کو اپنے لیے فخر کی بات سمجھتے ہیں۔

اس قابل فخر کمپنی کو سات انجینئرس نے مشترکہ طور پر قائم کیا تھا لیکن ان سب میں نارائن مورتی کا نام سب سے آگے ہے اور (35) برس کی عمر میں انہوں نے ہی اپنے بزنس کے آغاز کے لیے 10 ہزار روپیوں کا اپنی بیوی سے قرضہ لیا اور یہ کمپنی شروع کی۔

کیا نارائن مورتی کی کامیابی کوئی اتفاقی بات رہی ہے۔ یا ہم اس کامیابی کے پس پردہ کارفرما عوامل کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ یقینا قسمت پر یقین رکھنے والے کہیں گے کہ یہ سب قسمت کی بات ہے۔ اگر ہمارے دادا بھی اپنے زمانے میں کوڑیوں کے بھائو ملی زمین خرید لیتے تو آج ہم بھی کروڑ پتی ہوتے۔ وغیرہ وغیرہ۔

کیا نارائن مورتی نے انفوسیس کمپنی شروع کرنے کے بعد پیسے چھاپنے کی کوئی مشین خرید لی تھی یا کوئی ایسا سافٹ ویئر بنالیا تھا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ نارائن مورتی نے جب 10 ہزا روپیوں سے کمپنی شروع کی تو صرف پیسے ہی نہیں لگائے بلکہ اپنی کمپنی کو ترقی دینے کے لیے اپنا خون پسینہ بھی بہایا۔

انفوسیس کے نارائن مورتی کے حوالے سے بزنس ٹوڈے ڈاٹ ان نے 27؍ دسمبر 2022 کو شبہم سنگھ کی ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق نارائن مورتی 1981ء میں کمپنی شروع کرنے سے لے کر 2011ء تک جب انہوں نے انفوسیس کمپنی سے سبکدوشی اختیار کرلی ہر روز دفتر جاتے تھے۔

قارئین یہ بھی کوئی ایسی خاص بات یا راز کی بات نہیں ہے کہ کمپنی کا ایک مالک روزانہ اپنے آفس کو جاتا تھا۔ اصل جس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ نارائن مورتی کا ڈسپلن تھا۔

سردی کا موسم ہو یا گرمی کے دن نارائن مورتی ہر روز صبح 6:20 چھ بجکر بیس منٹ پر اپنے آفس پہنچتے تھے۔ MoneyControl ڈاٹ کام کو انٹرویو دیتے ہوئے نارائن مورتی نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کی کمپنی کے لیے کام کرنے والے نوجوان دفتر آنے کے لیے وقت کی پابندی کریں اور اپنے ملازمین کو پابند بنانے کے لیے اس سے بہتر دوسرا کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا تھا۔وہ خود وقت کی پابندی کریں۔

صبح جلدی دفتر جانے والے نارائن مورتی اپنے نوجوان ملازمین کو صرف ترغیب دلانے کے لیے ہی اول وقت دفتر نہیں جاتے بلکہ خود بھی کام کرتے تھے اور ان کی دفتر سے واپسی کا وقت رات 8 بجے یا 9 بجے تک ہوا کرتا تھا۔

صبح 6 بجکر 20 منٹ دفتری حاضری کی یہ عادت 35 برس کی عمر سے لے کر سال 2011 تک مسلسل جاری تھی جس وقت انہوں نے باضابطہ طور پر انفوسیس کمپنی سے ریٹائرمنٹ لیا۔ یعنی مسلسل 30 برسوں تک ایک شخص روزآنہ اپنی کمپنی کے دفتر کو صبح مقررہ وقت پر جاتا رہا۔ یہ اس قدر معمول تھا کہ لوگ آسانی کے ساتھ اپنی گھڑیوں کے وقت کو درست کرسکتے تھے۔

قارئین کرام وقت کی پابندی کی عادت ایک ایسا ڈسپلن ہے کہ دنیا بھر میں کامیاب لوگوں کی زندگی کا جب مطالعہ کیا جائے تو اس میں کئی ایک نکات مشترک ہوں ہوں گے۔ اس میں ایک نکتہ وقت کی پابندی کا ہے۔

ڈاکٹر سوما راجو کارڈیالوجسٹ کا نام ہندوستان بھر میں مشہور ہے۔ کسان گھرانے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سوما راجو کی پیدائش 1948ء میں آندھرا پردیش کے بھیما ورم میں ہوئی تھی ٹاٹا ٹرسٹ کی میگزین Horizons کے اگست 2020 کے شمارے میں ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا جس میں وہ کہتے ہیں کہ گائوں کی زندگی نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ اسکول جانے کے لیے مجھے 5 کیلو میٹر کا سفر پیدل طئے کرنا پڑتا تھا اور زندگی کا مطلب بنیادی ضروریات کی فراہمی تک محدودتھا۔ میں نے زندگی کے مسائل کا رونا نہیں سیکھا۔ بلکہ ان کا سامنا کر کے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا۔

ڈاکٹر سوما راجو نے نظامس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس سے مستعفی ہونے کے بعد 1990ء کی دہائی میں خود اپنا ایک دواخانہ CARE کے نام سے شروع کیا اور پھر جب 2009 میں انہوں نے اس دواخانے کو فروخت کر کے دوسرے کارپوریٹ دواخانے میں پریکٹس شروع کی۔تب اندازہ ہوا کہ انہوں نے کتنابڑا کارپوریٹ دواخانہ کھڑا کیا تھا۔

اخبار دکن کرانیکل کی 8؍ نومبر 2019ء کی خبر کے مطابق ڈاکٹر سوما راجو نے کیئر ہاسپٹل میں اپنی حصہ داری کو 1800 کروڑ میں فروخت کرتے ہوئے، گچی بائولی کے دوسرے کارپورٹ دواخانہ کو جوائن کرلیا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر راجو کے کیئر دواخانے کو چھوڑنے سے اس دواخانہ کو ہر مہینہ 2 کروڑ کے نقصان کا خدشہ ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر سوما راجو نے طویل عرصے میں مریضوں کے علاج اور ان کے درمیان اپنی نیک نامی سے دلوں میں جگہ بنالی تھی اور مریض دور دور سے صرف ان سے تشخیص کروانے کے لیے کیئر دواخانے کو رجوع ہوتے تھے۔

آج کی نوجوان نسل کو ڈاکٹر سوما راجو کے اس ایک ہزار آٹھ سو کروڑ کے مالیتی حصہ داری کو فروخت کرنے کا علم ہے۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر سوما راجو کونسی گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سوما راجو کے مشہور شخصیات سے تعلقات ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

قارئین کرام گذشتہ پچیس برسوں کے طویل عرصے کے دوران جس ڈسپلن کا ڈاکٹر سوما راجو نے مظاہرہ کیا وہ اکثر لوگ نظر انداز کرجاتے ہیں۔ 1995ء سے لے کر سال 2019ء جب تک ڈاکٹر سوما راجو کیئر دواخانے سے جڑے رہے ہفتے کے چھ دن وہ دواخانے پر پابندی سے حاضر رہتے۔ سوائے ان اوقات کے دوران جب وہ سفر پر ہوں یا کسی کانفرنس یا پروگرام میں شہر سے باہر، شہر حیدرآباد میں جب بھی ڈاکٹر سوما راجو موجود ہوں تو آپ کیئر دواخانے پر ان کی آمد کو دیکھ کر اپنی گھڑیوں کے وقت کو صحیح کرسکتے ہیں۔

ہر پیر سے لے کر ہفتے تک صبح 7 بجے موسم چاہے گرما کا ہو یا سرما۔ ڈاکٹر سوما راجو اپنا سفید کوٹ پہنے ہوئے دواخانے میں داخل ہوجاتے تھے۔ ڈسپلن کی اسی مثال کو سامنے رکھ کر ہمارے نوجوانوں کو سیکھنا چاہیے کہ بھیماورم کے گائوں میں روزانہ 5 کیلومیٹر پیدل چل کر اسکول جانے والا نوجوان جب محنت کو اپنا شیوہ بنالیتا ہے تو 75 برس کی عمر میں بھی چاق و چوبند اور وقت کا ایسا پابند کے اچھے اچھے نوجوان بھی شرما جائیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ ہو یا کوئی اور شعبہ تلنگانہ اور شہر حیدرآباد ہر لحاظ سے سرفہرست ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ اخبار بزنس اسٹانڈرڈ کی 14؍ دسمبر 2022 کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران ہندوستان میں ساڑھے چار لاکھ ملازمین کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ملازمتیں ملی اور ان سب میں سے ایک لاکھ ستاون ہزار آئی ٹی سیکٹر کی ملازمتیں شہر حیدرآباد میں تھیں۔

شہر حیدرآباد میں ترقی و ملازمت کے کس قدر مواقع ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال 2014-15 کے دوران حیدرآباد سے آئی ٹی برآمدات 57 ہزار کروڑ کی تھی اور سال 2021-22 کے دوران حیدرآباد سے آئی ٹی کی برآمدات ایک لاکھ تیراسی ہزار کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔

ملک بھر سے تعلیم یافتہ نوجوان اور ہنرمند شہر کا رخ کر کے یہاں ملازمتیں حاصل کر رہے ہیں۔تلنگانہ و شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان انجینئرس یوٹیوب کے لیے ویڈیوز بناکر اپنے لیے آمدنی کے ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔

شہر حیدرآباد میں کاروبار اور روزگار کے مواقع اپنی جگہ موجود ہیں۔ دوسری طرف مسلم نوجوانوں کی اکثریت اپنے لیے پاسپورٹ بناکر بیرون ملک روزگار کی تلاش میں سفر کر رہے ہیں۔
مرکزی حکومت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست تلنگانہ میں اوسطاً ہر روز ایک ہزار دو پاسپورٹس جاری کیے جارہے ہیں۔

کوئی بتلائے کہ اندرون ملک ہو یا بیرون ملک محنت کے بغیر کوئی بھی ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ ترقی کرنے کے لیے کامیاب لوگوں کی نقل نہیں بلکہ اس محنت اور سفر کی نقل کرنا ہوگا جس پر چل کر لوگوں نے وقت کی قدر کی اور سرخرو ہوئے۔

بقول شاعر ظفر علی خاں

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button