پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر… محمد مصطفی علی سروری
سال 2019ء میں تو میری بیوی کو لے کر میرے گھر میں حالات اور بھی خراب ہوگئے۔
میں جب 12 برس کا تھا تو میری ماں مجھ سے بچھڑ گئی اور جب سال 2018ء میں میری میگھن مارکل سے شادی ہوئی تو میں نے اپنے بھائی کو جیتے جی کھودیا۔ سال 2019ء میں تو میری بیوی کو لے کر میرے گھر میں حالات اور بھی خراب ہوگئے۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ میرے بڑے بھائی نے میری بیوی کے خلاف اہانت آمیز کلمات کہے اور پھر ہم دونوں کے درمیان لڑائی اس قدر بڑھ گئی کہ میرے بھائی نے میرا کالر پکڑ کر مجھے گرادیا اور ہمارے درمیان خوب ہاتھا پائی ہوگئی۔
قارئین کرام دنیا بھر میں ایسے بہت سے گھرانے ہیں جہاں پر دو بھائیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ میڈیا میں بھی ایسی خبریں روز کا معمول بن گئی ہیں۔ جب اپنی بیویوں کی باتوں میں آکر یا پھر اپنی بیویوں کو برا بولنے کو لے کر بھائی بھائی کے درمیان مار پیٹ ہو رہی ہے۔ اس سارے پس منظر میں کسی دو بھائیوں کی لڑائی کا ذکر کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ واقعی یہ ایک اہم سوال ہے اور اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دو بھائیوں کی لڑائی میں مقامی میڈیا کو ہی نہیں قومی اور بین الاقوامی میڈیا کو بھی دلچسپی ہے۔ کیونکہ یہ دو بھائی کسی معمولی گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان کا تعلق برطانیہ کے شاہی گھرانے سے ہے۔
جی ہاں قارئین کرام برطانیہ کے ولی عہد شہزادے ولیم اور دوسرے شہزادے ہیری کی بیوی کے درمیان اختلافات ان دنوں دنیا بھر میں میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہیں۔ حالانکہ ولیم اور ہیری کے درمیان اختلافات تو اس وقت سے ہیں جب سال 2016ء میں پہلی مرتبہ ہیری اور میگھن ایک ساتھ نظر آئے۔ لیکن سال 2018ء میں پرنس ہیری نے امریکی اداکارہ اور پہلے سے مطلقہ میگھن کے ساتھ شادی کرلی تو ان اختلافات میں شدت آگئی اور پھر بالآخر جنوری 2020ء میں پرنس ہیری نے اپنی بیوی میگھن کے ساتھ برتے جانے والے ناروا سلوک سے دل برداشتہ ہوکر شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا اور امریکہ میں نئے سرے سے زندگی شروع کی۔
نئے سرے سے زندگی شروع کرنے مطلب بھی واضح کردوں کہ شاہی خاندان کے رکن کی حیثیت سے ملنے والی ساری مراعات ختم ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ قانوناً شاہی خاندان شاہی خاندان کا اہم رکن کسی طرح کی کوئی ملازمت نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے گذر بسر کے لیے مختلف شاہی اور سرکاری الائونسس جاری ہوا کرتے ہیں۔اور جب شاہی خاندان سے تعلق ختم تو اب کمانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
ہیری امریکہ نقل مکانی کے بعد میڈیا کو انٹرویوز دے کر اور کتاب لکھ کر اپنے لیے پیسے کمانے کا طریقہ اختیار کیا اور حالیہ عرصے میں ہیری اس لیے خبروں کی زینت بنے ہیں کیوں کہ 10؍ جنوری 2023ء کو ان کی لکھی کتاب "Spare” منظر عام پر آئی ہے۔
برطانیہ کے شاہی خاندان کے ایک اہم فرد ہونے کے ناطے ہیری کی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی ہے۔ کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی اس کے اقتباسات کو لے کر میڈیا میں انکشافات ہونے شروع ہوگئے ہیں۔
برطانوی اخبار گارڈین نے کتاب کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی پرنس ولیم اور ان کے چھوٹے بھائی کے درمیان چھوٹے بھائی کی بیوی کو لے کر ہوئی بحث اور پھر ہاتھا پائی کی خبر کا افشاء کیا اور اس لڑائی کا سبب پرنس ولیم کی جانب سے میگھن پر اہانت آمیز تبصرے کرنا ہے بتلایا گیا ہے۔
کسی عام شہری گھرانے میں اس طرح کی لڑائیاں اور اختلافات تو عام بات ہے۔ لیکن دنیا کے قدیم ترین شاہی گھرانے میں جب اس طرح کی لڑائیاں دو بھائیوں کے درمیان ہو ں تو لازمی بات ہے کہ اطلاع میڈیا میں خوب نشر ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق ہیری کی بیوی کا تعلق امریکہ سے ہے۔ نسلی اعتبار سے میگھن کو سیاہ فام نسل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ میگھن نے ایکٹنگ سے اپنا کیریئر شروع کیا۔ 2011ء میں میگھن نے ساتھی پروڈیوسر سے شادی کرلی تھی۔ فروری 2014ء میں ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ بعد میں وہ کنیڈا کے مشہور باورچی اور ہوٹل چلانے والے ایک نوجوان کے ساتھ تعلقات میں تھی جو 2016ء میں ختم ہوگئے اور اس کے بعد ان کا رابطہ پرنس ہیری سے ہوا جو آگے چل کر شادی پر ختم ہوا۔
میگھن کے خاندانی اور نسلی پس منظر پر برطانوی شاہی خاندان میں شدید تحفظات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن نے شاہی خاندان سے ترک تعلق کرنے کے بعد 8؍ مارچ 2021کو Oprah Winfrey کے شو پر دو گھنٹے کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا تھا۔ اس انٹرویو میں میگھن نے بتلایا تھا کہ جب ان کے لڑکے کی پیدائش ہونے والی تھی تو برطانوی شاہی خاندان میں اس بات کو لے کر چہ مگوئیوں کا سلسلہ چل رہا تھا کہ کیا میگھن کا لڑکا بھی ’’گہری رنگت‘‘ والا ہوگا۔ یہ اشارہ میگھن کے سیاہ فام نسل سے تعلق کی طرف اشارہ تھا۔
میگھن کو اپنی نسل کی وجہ کس قدر امتیاز کا برطانوی شاہی گھرانے میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میگھن کے الفاظ میں میرے لیے شاہی خاندان میں رہنا اب دشوار کن بن گیا تھا۔ یہاں تک کہ مجھے خود کشی کے منفی خیالات ستانے لگے تھے۔ جب میں نے ان منفی خیالات کا سامنا کرنے کے لیے طبی ماہرین کی مدد کے بارے میں دریافت کیا تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ مدد ملنا مشکل ہے کیوں کہ میں شاہی خاندان کی تنخواہ یافتہ ملازم نہیں ہوں۔‘‘
قارئین کرام پرنس ہیری یا سابقہ برطانوی شہزادے ہیری کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب اب جب کہ منظر عام پر آگئی ہے تو اس کے مواد پر مختلف عنوانات کے تحت ایک طویل بحث چھڑ گئی ہے۔ ہیری نے شاہی خاندان کے متعلق جن باتوں کا افشاء کیا ہے وہ اب عوام میں موضوع بحث بن گئے ہیں۔ خاص کر ہیری کا یہ بیان کہ میں نے برطانوی فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے اپاچے ہیلی کاپٹر کی گن کے ذریعہ 2012-13 کے دوران 25 طالبان جنگجو ہلاک کیے۔
اس کے علاوہ ہیری نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ شادی سے پہلے ہی جنسی طور پر فعال تھے اور انہوں نے شاہی خاندان کے لیے کام کرنے والی ایک بڑی عمر کی خاتون سے تعلقات استوار کیے تھے۔
ساتھ ہی ہیری نے اپنی کتاب میں اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ سال 2002ء میں جب کہ ان کی عمر صرف 17 برس تھی تو انہوں نے کوکین استعمال کی تھی۔
قارئین کہنے کو تو ہم برطانیہ کے شاہی خاندان کے اس سابقہ شہزادے کی کتاب، اس کے اعترافات اور انکشافات کی بنیادوں پر مغرب کو اور خود برطانیہ کو آڑے ہاتھوں لے سکتے ہیں۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم 38 برس کے اس برطانوی سابقہ شہزادے کی نظر سے ہمارے سماج کو درپیش چیالنجس اور مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
جیسا کہ ہیری کی امریکن نژاد بیوی میگھن نے بتلایا کہ برطانیہ کے شاہی خاندان میں اگر کوئی فرد سیاہ فام نسل سے رکھتا ہو تو اس کے ساتھ کس طرح کا رویہ اور سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ جو لوگ میگھن کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں ان کو اس بات کا بھی محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ خود ہمارے ہندوستان میں اور اپنے مسلم معاشرے میں رنگ کی بنیادوں پر امتیاز نہیں برتا جاتا؟
ہمارے ہاں آج ہزاروں لڑکیاں اور ان کے سرپرست صرف اس لیے پریشان ہیں کہ ان کی بچیوں کا رنگ گورا نہیں ہے اور لڑکے والوں کی ساری فکر توجہ اور پسند گورے رنگ او ر ویری فیئر کلر پر مرکوز ہے۔ حالانکہ ہم امت مسلمہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے بالکلیہ واضح طور پر فرمایا تھا کہ کالے کو گورے پر کسی طرح کی کوئی فوقیت نہیں ہے۔
آج اگر ہم پرنس ہیری اور میگھن کے اعترافات پر شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں تو اس سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔
دوسری بات مسلم معاشرے کے لیے بھی چیالنج سے کم نہیں۔ وہ یہ کہ ہمارے ہاں بھی لڑکے، لڑکیاں شادی سے پہلے ہی جنسی طور پر فعال ہو رہے ہیں اور گمراہی کا شکار بن رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے نکاح کے لیے دین کا پیمانہ مقرر کریں اور ان کی جلد شادی کو یقینی بنائیں۔ فیئر ویری اور ویل سیٹلڈ (Well settled) کی رٹ لگانا بند کریں تاکہ ہمارے بچے شرعی دائرے میں نکاح کے بندھن میں بندھ کر ہر طرح کے گناہ سے محفوظ رہیں۔
تیسری اہم بات جس کا اعتراف ہیری نے کیا وہ کوکین جیسے نشہ کے استعمال کی بابت ہے۔ کیا نشہ کی عادت صرف برطانوی شہزادے کو تھی یا یہ صرف برطانوی شہزادے نے ہی نشہ کے لیے کوکین استعمال کیا؟
قارئین افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں نشہ کی عادت ایک بڑا اور سنگین چیالنج ہے اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ مسلم نوجوان بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ ایسے میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری پہلی ترجیح مسلم نوجوانوں کو نشہ سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کروں۔ نشہ سے باہر نکلنے بازآباد کاری کے پروگراموں میں ہاتھ بٹائوں۔ پرنس ہیری کے شادی سے پہلے ہی دیگر عوتوں سے تعلق تھے۔ تیسری دنیا کے ان پڑھ جاہلوں کی طرح برطانوی شاہی خاندان کے دو بھائی بھی لڑائیاں کرتے تھے وغیرہ وغرہ ۔
پرنس ہیری نشہ کرتے تھے یا برطانوی شاہی خاندان کی قلعی کھل گئی یا اس طرح کی بلند بانگ باتوں سے وقتی طور پر قارئین ہوسکتا ہے کہ مضمون پڑھ کر خوشی کا اظہار کریں گے لیکن میری اور میرے قارئین کی اصل خوشی تو اس بات میں ہے کہ میرے قارئین میرے ملک کے نوجوان جنسی بے راہ روی سے، نشہ کی گندی عادات سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ ائے کاش کہ میرے بات لوگوں کو سمجھ میں آجائے اور وہ ہوش کے ناخن لیں۔ میری قوم کے بچوں کو گناہ نہیں نکاح آسان لگے۔
بقول بہادر شاہ ظفر:
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



