
عورت بگڑتی ہے تو خاندان بگڑ جاتا ہے-حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی
ابھی پندرہ بیس سال پہلے کا واقعہ ہے کہ سعودی عرب میں شاہ فیصل حکمراں تھے ، حافظ بھی تھے عالم بھی تھے ،
بیس راتوں سے مسلسل حضور ﷺ کی زیارت
حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی نے ارشاد فرمایا: خواجہ قطب الدین بختیارکاکی ؒ جوان ہوگئے تو ایک روز اپنی والدہ سے کہنے لگے اماں جان مجھے بیس راتوں سے مسلسل حضور ﷺ کی زیارت مبارکہ ہورہی ہے ماں نے کہا بیٹا ! اس میں ہمارا بھی حصہ ہے کیونکہ جب تو چھوٹا سا تھا اور دودھ پیتا تھا میرا اصول اور معمول تھا کہ پہلے وضو بناتی پھرحضور ﷺ پرسو مرتبہ درود بھیجتی پھرتجھے دودھ پلاتی جس کا نتیجہ ہے کہ تجھے بیس راتوں سے مسلسل حضور ﷺکی زیارت ہورہی ہے ،یہ ہے انداز تربیت،آج مسلمان عورتوں کا انداز اور مزاج بدل گیا ہے ، قرآن کی باتیں مسلم عورتوں کو اچھی نہیں لگتی، مزاج میں بگاڑ آگیا ہے ، جس طرح آدمی کوب خار ہوجائے اور اس کو بہترین کھانا اور سالن بناکر دیا جائے وہ کہتا ہے یہ کڑوا ہے ، گھر والے جانتے ہیں کہ سالن تو اچھا ہے ، یہ کڑواپن اس کے بخار کی وجہ سے ہے ، بالکل یہی باتیں آج مسلم معاشرہ پرصادق آتی ہیں کہ دینی باتیں اچھی نہیں لگتی۔
اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اندازمیں کریں
آج مسلم بچے دین سے الگ اور برے راستے پر جارہے ہیں، مسلمانوں میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے پیدا ہورہے ہیں، گھروں کا ماحول بدل چکا ہے ، اسی لئے توبچوں کادماغ فکر اور سوچ بھی بدل چکی ہے ، مائیں اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنانے کوتیارنہیں ذہن میں یہ بات ہے کہ حافظ صاحب بیچارے کیا کماتے ہیں ، اتنے پیسوں میں کیا ہوتا ہے ، انسان کی ترقی آج سائنس اوردنیوی تعلیم میں ہے ترقی دین کی تعلیم میں نہیں ہے ، یہ دھوکہ ہے آپ کومعلوم ہوناچاہئے کہ آج بھی بہت سے لوگ دنیامیں حافظ ہیں ، عالم ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کوترقی سے نوازاہے ، ابھی چند سال پہلے کا واقعہ ہے کہ سعودی عرب میں شاہ فیصل حکمراں تھے ، حافظ بھی تھے عالم بھی تھے ، اللہ نے ان کو بادشاہ بنادیا، کشمیر کے شیخ عبداللہ وزیر اعلیٰ تھے وہ بھی حافظ قرآن تھے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کی اسلامی اندازمیں تربیت کریں ۔
عورت بگڑتی ہے تو خاندان بگڑ جاتا ہے
حکیم الامتؒ نے لکھا ہے کہ ایک امام صاحب کی بیوی بہت بگڑی ہوئی تھی، ایک بار اس نے منت مانی کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو مسجد کے منبر پر ڈھول بجواؤں گی، بدقسمتی سے منت پوری ہوگئی، اس نے امام صاحب سے کہا کہ میں نے منت مانی تھی کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو منبر پر ڈھول بجواؤں گی، اب وہ کام ہوگیا ہے آپ آنے والے جمعہ کو ڈھول بجائیں، شوہر نے کہا بے وقوف! مسجد میں یا مسجد کے باہر ڈھول بجانا بڑا گناہ ہے، یہ نہیں ہوسکتا، شوہر نے بہت کوشش کی عورت کو منالیا جائے لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں ہوئی، عورت نے کہا کہ اگر جمعہ کو ڈھول نہیں بجایا تو میں آپ کو اور آپ کے بچوں کو چھوڑ کر ماں کے گھر چلی جاؤں گی، امام صاحب بہت پریشان ہوئے کیا کیا جائے؟
بالآخر امام صاحب نے جمعہ کے دن ڈھول منبر کے نیچے رکھ دیا اور منبر پر کھڑے ہوکر وعظ ونصیحت کرتے ہوئے کہا میرے بھائیو سنو! دنیا میں جتنے گانے بجانے والے آلات ہیں سب کا بجانا حرام ہیں، جیسے طبلہ، سارنگی ہارمونیم وغیرہ اوریہ ڈھول بجانابھی ناجائز ہے اور بڑی ہوشیاری سے ڈھول پر عصا مار کر بتایا کہ اِدھر سے بھی بجانا حرام اور اُدھر سے بھی بجانا حرام ہے بس ڈھول بج گیا منت پوری ہوگئی اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ تو عرض یہ ہے کہ جب عورت بگڑتی ہے توعالم، مولوی، حافظ سب کوبگاڑتی ہے اور پیروں کو بھی بگاڑ دیتی ہے، آج ہم اسی بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں، ہمارے گھروں کا ماحول بدل گیا ہے، آج باہر تو اللہ والے کہلاتے ہیں ، نمازی کہلاتے ہیں لیکن جب گھروں میں جھانک کر دیکھا جاتا ہے تو کوئی بات ایسی نہیں ملتی جو دین اور شریعت کے مطابق ہو۔
(ماخوذ از ملفوظات حضرت حبیب الامت جلد دوم صفحہ: ۱۲۹ تا۱۳۰)٭



