شادی مرضی کی ہو یہ مرضی رشتہ کی نہ ہو-محمد مصطفی علی سروری
’’ناخدا نہیں قزاق ملزمین نے سیر و تفریح کے نام پر ہونے والی اہلیہ کی آبرو لوٹی اور قتل کرنے کی کوشش ناکام‘‘
لڑکی مرشد آباد سے تعلق رکھتی تھی۔ ماں باپ نے رشتہ تلاش کیا تو ترجیح دی کہ لڑکا بھی مرشد آباد کا ہی ہو۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد بالآخر شیخ صابر نام کے ایک لڑکے کے ساتھ بچی کا رشتہ طئے ہوگیا۔ لڑکا خانگی ملازم تھا۔ نئی نئی نوکری ملی تھی۔ اس لیے لڑکے کے گھر والوں نے شادی کے لیے وقت مانگا۔ بچہ ٹھیک ٹھاک تھا اس لیے بات چیت طئے ہوگئی اور منصوبہ تھا کہ اگلے برس تک شادی اوررخصتی بھی کردی جائے گی۔
اب عید بقرعید پر لڑکے والوں کا آنا جانا لگا تھا اور پہلے تو لڑکا لڑکی سے فون پر بات کرنے لگا اور کبھی کبھار ان کی ملاقات بھی ہوجاتی۔ شیخ صابر لڑکی کو اپنے ساتھ باہر لے جاتا۔ دونوں ساتھ گھوم کر آئسکریم کھاتے اور پھر واپس ہوجاتے۔ لڑکے والوں کو کوئی مسئلہ نہیں تھا اور دوسری طرف لڑکی کے گھر والے بھی اطمینان سے تھے کہ لڑکی کسی اور کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ہی منگیتر سے ملنے جاتی ہے۔
2022ء دسمبر کے مہینے میں شیخ صابر نے اپنے ہونے والے سسرال والوں کو بتلایا کہ وہ لڑکی کو گھمانے کے لیے دوسرے شہر لے جانا چاہتا ہے اور وہ اکیلا نہیں بلکہ اس کے گھر والے بھی ساتھ جارہے ہیں تو سب کی خواہش ہے کہ ہونے والی بہو بھی ان کے ساتھ چلے۔ تھوڑے سے تردد کے بعد شیخ صابر کو لڑکی کے گھر والوں نے اجازت دے دی کہ چلو شادی سے پہلے ہی بچی کو سسرال والوں کو سمجھنے کا موقع مل رہا ہے۔ مقام اور وقت طئے ہوگیا۔ لڑکی طئے پائے دن اور وقت پر اسٹیشن پہنچ گئی۔
لڑکی کو تعجب اس وقت ہوا جب اسٹیشن پر سسرال والے تو نہیں صرف شیخ صابر اور اس کا ایک بھائی موجود تھے۔ پوچھنے پر بتلایا گیا کہ لمحہ آخر میں گھر میں کچھ ضروری کام آگیا ہے اس لیے سب لوگوں کو ٹھہر جانا پڑا۔ سفر میں لڑکی کے ساتھ شیخ صابر اور اس کا بھائی ساتھ تھے۔ مرشد آباد سے ٹرین میں سوار ہونے والی لڑکی کے ساتھ اس سفر میں کیا ہوا، کیوں ہوا ساری تفصیلات لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ امت مسلمہ کے اس طرح کے مسائل پر کون بات کرے گا اور کیسے اس کو حل کیا جائے گا۔
لوگ کہتے ہیں کہ مرشد آباد، شہر حیدرآباد سے ایک ہزار سات سو کیلومیٹر دور ہے اور اگر وہاں پر ایسا کچھ ہوا ہے تو اس پر ہم کیوں فکر کریں؟ قارئین کرام ہم مرشد آباد کی ایک لڑکی کے ساتھ خود اس کے منگیتر کی جانب سے زیادتی کے معاملہ پر اگر قلم اٹھا رہے ہیں تو یہ بھی جان لیجئے کہ اس طرح کے مسائل صرف کسی ایک ریاست یا علاقہ تک محدود نہیں۔
مسلم معاشرے میں نکاح اور اس سے جڑی تقاریب اس قدر مشکل بنادی گئی ہیں کہ اس مسئلے پر بات کرنا بھی آسان نہیں رہا۔ اگر شیخ صابر نے منگنی کے بعد خود ہی لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تو اس کے لیے لڑکی کے گھر والے تنہا ذمہ دار نہیں بلکہ پورا معاشرہ ذمہ دار ہے۔ جہاں لڑکے والوں کے مطالبات کو چاہے غیر شرعی ہوں یا بجٹ کے باہر قبول کرنا بے حد ضروری مانا جاتا ہے۔ کیوں کہ لڑکیوں کی شادیاں سنگین مسئلہ ہے۔ خدارا اس بات کو سمجھیں اور اپنے طور پر اس مسئلے کو آسان بنانے کے لیے کچھ اقدامات کریں۔
قارئین مرشد آباد کی اس لڑکی کا واقعہ بھی جان لیں کہ لڑکی اگرچہ ہوش و حواس میں اپنے منگیتر اور اس کے بھائی کے ساتھ ٹرین میں سفر کا آغاز کرتی ہے اور اس کو اتنا یاد ہے کہ راستے میں شیخ صابر نے اس کو اپنے گھر سے لائے ہوئے ٹفن کا کھانا کھلایا تھا۔ اس کے بعد لڑکی بے ہوشی کے عالم میں چلی جاتی ہے اور دیر گئے ہوش آتا ہے تو تب وہ مرشد آباد سے دور نریندر پور علاقے میں پٹریوں کے قریب پڑی ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں نے اس لڑکی کو اٹھاکر دواخانہ منتقل کیا۔
ڈاکٹروں نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کے معاملہ کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد مارنے کی بھی کوشش کی گئی اور بے ہوشی کی حالت میں لڑکی کو مردہ سمجھ کر چھوڑ کر چلے گئے۔ مغربی بنگال کے اردو اخبارات نے اس خبر کو جلی حروف میں شائع کیا۔ ایک اخبار نے سرخی لگائی کہ ’’ناخدا نہیں قزاق ملزمین نے سیر و تفریح کے نام پر ہونے والی اہلیہ کی آبرو لوٹی اور قتل کرنے کی کوشش ناکام‘‘
مسلم سماج میں لڑکے لڑکیوں کی شادیاں کس قدر دشوار بنتی جارہی ہیں اس کا جس قدر جلد ہوسکے نہ صرف اندازہ لگانا ضروری ہے بلکہ اس کے سدباب کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہی لڑکیوں کی شادی کی فکر میں والدین اور سرپرست کسی بھی حد تک جانے تیار ہیں۔ ان کی چاہت بس اتنی سی ہے کہ ان کی بیٹی کی زندگی، اس کا مستقبل بہتر بن جائے۔ ایسے ہی فکروں کے شکار اپنی بچیوں کی شادیوں سے پہلے ہی ان کی منگنی یا رسم کرنے لگے ہیں تاکہ پہلے رشتہ کی بات تو پکی ہوجائے۔ تھوڑا انتظار کرلیں گے بعد میں شادی بھی ہوجائے گی۔
محمد منیر الدین (نام تبدیل) نے اپنی لڑکی کی شادی کے حوالے سے بہت پہلے ہی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ ماشاء اللہ کاروبار اچھا تھا اور اس سے اہم بات ان کی بچی کا رشتہ ان کے کاروباری دوست عمران خان (نام تبدیل) کے لڑکے سے طئے پایا تھا۔ بچہ انجینئر فائنل ایئر میں تھا اور بچی ابھی انٹرمیڈیٹ کا امتحان لکھ رہی تھی۔
یہ سال 2022 کی بات ہے۔ منیر الدین نے اپنی بچی کے لیے دوست کے لڑکے سے لاک ڈائون کے دوران ہی رشتہ پکا کردیا تھا۔ حالانکہ بچی دسویں کلاس میں تھی اور لڑکاابھی انجینئرنگ کے دوسرے سال میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ لیکن کروناء کی بیماری سے متاثر ہونے کے بعد منیر الدین نے طئے کرلیا تھا اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہوجاتا ہے تو کم سے کم بچی کی نسبت تو طئے رہتی۔ خیر اللہ کے کرم سے وہ روبہ صحت ہوگئے اور سال 2023 میں جب بچی انٹرمیڈیٹ پاس کرلیتی ہے اور ادھر بچہ بھی انجینئرنگ مکمل کرلیتا ہے ۔
بچے کو آگے چل کر جو کاروبار سنبھالنا تھا۔ منیر الدین کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے دوست کا کاروبار کتنا بڑا ہے اور کیسے چل رہا ہے۔ لاک ڈائون کے دوران منیر الدین نے کسی طرح اصرار کر کے ایک گھریلو تقریب میں اپنی بچی کی منگنی دوست کے لڑکے کے ساتھ کروادی۔ چونکہ طبیعت خراب تھی تو زیادہ شور شرابہ سے پرہیز کیا گیا۔ سب ٹھیک ٹھاک رہا۔ اللہ کے کرم سے منیر الدین کرونا سے جنگ جیت کر دوبارہ صحت مند ہوگئے اور سال 2022 ختم ہونے آرہا تھا تو انہوں نے عمران خاں سے بات کر کے شادی کی تاریخ طئے کرنے کی کوشش کی اور سال کے ختم ہوتے ہوتے ان پر غیر متوقع پریشانیاں آنپڑی۔ انہیں یہ بالکل بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر ان سے غلطی کہاں پر ہوئی ہے۔
ابھی جب منیر الدین اپنے کاروباری دوست عمران خاں کے ساتھ شادی کی بات طئے کرنا چاہتے تھے ان کے دوست نے اچانک ہی اس رشتے سے منع کردیا۔ حالانکہ رسم ہوگئی تھی۔ تو رسم کی انگوٹھی اورکپڑے بھی واپس کردیئے اور قارئین افسوس اس بات کا ہے کہ کس طرح سے والدین اپنی پسند سے بچوں کی شادی یہ سونچ کر طئے کردیتے ہیں کہ ہم جو کریں گے بچے اس کو قبول کرلیں گے۔
منیر الدین جب کو پتہ چلا کہ ان کی بیٹی کا ایک ایسا ویڈیو ہے جس میں وہ بغیر برقعہ اور بغیر پردہ کے قابل اعتراض حالت میں ہے۔ کئی بار پوچھا ، بہت اصرار کیا۔ دوستی کی اور کاروبار کی دہائیاں دیں تب کہیں جاکر پتہ چلا کہ عمران صاحب کے لڑکے پاس منیر الدین صاحب کی لڑکی کا ایک ویڈیو ہے جس کو لڑکے نے خود بتاکر اس رشتے کو شادی میں تبدیل کرنے سے انکار کردیا۔
اب یہ لڑکے کے ہاں ویڈیو کیسے آیا؟
یہ ویڈیو کس نے بنایا ساری تفصیلات بڑی تکلیف دہ ہیں۔ تفصیلات جو فراہم کی گئی اس کے مطابق لاک ڈائون میں جب لڑکا لڑکی کا رسم ہوگیا تو کچھ گھر والوں نے لڑکا لڑکی کو ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے ان کے فون نمبر کے تبادلے اور آپس میں بات کو ضروری قرار دیا۔ اس کے بعد لڑکا لڑکی فون پر آپسی رابطہ میں رہے۔ آہستہ آہستہ ہوا یوں کہ ایسے ہی یہ فون کال ویڈیو کال میں تبدیل ہوگئی اور ایسی ہی ایک ویڈیو کال کے دوران لڑکے نے لڑکی سے فرمائش کی کہ وہ اسے بغیر برقعہ اور پردہ کے بغیر دیکھنا چاہتا ہے۔ ایسے ہی ایک فون کال میں لڑکے نے لڑکی کی ویڈیو بنالی اور پھر منصوبہ بند انداز سے اس رشتے کو منع کرنے کے لیے لڑکی کی ویڈیو والدین کو بتلاکر قائل کروایا کہ یہ لڑکی بچوں کے ساتھ فون پر ایسی اور اس انداز میں بات کرتی ہے۔ اس لیے وہ اس رشتے سے منع کرنا چاہتا ہے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ لڑکا سال 2023ء میں اپنی شادی کے لیے جس لڑکی کے رشتے کی سفارش کر رہا ہے وہ اسی کے کالج کی طالبہ بتلائی گئی ۔
لڑکے کے والد اپنے دوست سے شرمندہ، لڑکی کے والد اپنی لڑکی کو لے کر کاونسلنگ کروا رہے ہیں ۔ لڑکی اچانک صدمہ میں چلی گئی۔ لڑکی کی ماں پریشان، خاندان بھر میں لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں اور کرونا سے جنگ جیت کر باہر نکلنے والے منیر الدین صاحب دوسری لڑائی اپنی عزت کے لیے اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے اس کے بہتر مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں۔
لڑکی اور اس کے والدین یا لڑکے اور اس کے والدین غلط قرار دینے سے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں۔جو لوگ آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ عملی طور پر اپنا کام کر جاتے ہیں۔ اخبار ہندوستان ٹائمز نے 24؍ دسمبر 2018ء کو پاکستان کے فوٹو گرافر رضوان کی شادی کے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق رضوان نے ثابت کیا کہ اپنی مرضی کی شادی خوشی کے ساتھ بھی کی جاسکتی ہے۔
اپنی مرضی سے شادی کا مطلب صرف اپنی پسند کی لڑکی یا لڑکے سے شادی نہیں ہوتا بلکہ شادی کا ہر کام اپنی مرضی سے کرنا اور رضوان نے صرف 25 مہمانوں کے ساتھ والدین اور دوستوں کو بلاکر صرف 20 ہزار روپیوں کے کل بجٹ میں اپنی شادی کی تقریب کا اہتمام کر کے ثابت کیا کہ نوجوان کی ترجیحات اگر مرضی کی شادی سے مراد صرف پسند کی شادی ہے تو اس کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔
فی الحال جس قدر تیزی کے ساتھ مسلم برقعہ پوش لڑکیوں کے دو ویڈیوز سوشیل میڈیا پر گشت کر رہے ہیں۔ اس پر طرح طرح کے اعتراضات اور سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے ان ویڈیوز میں مسلم برقعہ پوش لڑکیوں کو اپنے کالجس کے باہر باضابطہ طور پر سگریٹ نوشی کرتے ہوئے اور دوسروں کو ترغیب دلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ کس پر اور کتنے لوگوں پر تنقید کریں گے۔ اگر ہمارے سماج میں لڑکیوں کی شادیاں آسان ہوتی تو ماں باپ اپنی بچیوں کو دین کی تعلیم و تربیت دلانے پر توجہ دیتے۔
اب تو ماں باپ کا سونچنا ہے ہماری لڑکیاں اگر اگر پڑھیں گی تو ان کا مستقبل اچھا ہوگا۔ پڑھائی کے لیے لڑکیوں کسی طرح بھی اسکول، کالج کو بھیجا جارہا ہے۔ اسکول، کالج جاکر وہ بھی برقعہ والی لڑکیاں سگریٹ نوشی یا نشہ کریں تو قصور ان کا یا صرف ان کے والدین کا نہیں ہے۔ ہم سب بلکہ سارا سماج ذمہ دار ہے کہ ہم نے برقعہ تو پہنا تو دیا لیکن برقعہ کی کی مذہبی اہمیت اور مذہب کی ہماری زندگیوں میں اہمیت بتلانا بھول گئے۔ اس لیے قارئین یقینا شادی مرضی کی ہونی چاہیے اور یہ مرضی صرف رشتہ کے انتخاب کی نہیں، لڑکی یا لڑکے کو پسند کرنے کی نہیں بلکہ نکاح کو آسان بنانے کی ہونی چاہیے۔ یقینا مرضی کی شادی ہونی چاہیے اور یہ ایسی مرضی ہو جس پر ہمارے رسولؐ کی رضاء اور اللہ کی رحمت ہو۔ (انشاء اللہ تعالیٰ)



