سیاسی و مذہبی مضامین

دعا مانگنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے

✍️حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی

یارب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرمادے ،جو روح کو تڑپا دے

جنہوں نے اپنی جانوں پر اسراف کیا ۔ اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہوبلاشبہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔بلاشبہ وہ بڑی مغفرت کرنے والے بڑے ہی مہربان ہیں۔ جو بندہ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے ، سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس بندے سے بہت ہی حوش ہوتے ہیں اور جو جتنا زیادہ مانگتا ہے اس سے اتنا ہی زیادہ خوش ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ۔ میرے بندو مجھ سے مانگو میں تمہاری حاجت کو پوری کرونگا جوبندہ اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتے ہیں ۔

مانگنے سے عبدیت ظاہر ہوتی ہے اور بندے کا عبدبن کر رہنا اللہ تعالیٰ کو بہت ہی محبوب ہے ۔پھر اللہ تعالیٰ نے طریقہ بھی بتلادیا کہ کس طرح مانگوں ۔اُدْعُوْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخِیْفَۃً اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور آہستہ سے پکارو۔ اللہ تعالیٰ سمیع وبصیر ہیں ۔ کنوئیں کے اند ر کوئی کالی چیونٹی بھی چلتی ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ دیکھتے ہیں اور اس کے پاؤں کے چلنے کی جو حرکت ہوتی ہے اس کو سنتے بھی ہیں۔

اسلام میں خدا کا تصور

اسلام میں خدا کا تصور یہ نہیں کہ وہ انسانی زندگی کے ہنگاموں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا کوئی دیوتا ہے یا ا سنے ایک بار دنیا کی آٹومیٹک مشین میں چابی بھرکے چھوڑدی اور اب وہ دور سے تماشہ دیکھ رہا ہے ۔ اسلام میں خدا کا تصوریہ ہے کہ وہ ہرآن کائنات کے انتظام میں تصرف کرتاہے (کُلَّ یَوْمٍ ہُوَفِیْ شَانٌ) وہ ایک ایک مخلوق کے رزق اور ضروریات ِ زندگی کااہتمام کرتاہے۔

وہ مخلوقات کی قوتوں کے مطابق مقرر کرتا ہے اور ہرمخلوق کیلئے راہِ عمل متعین کرتاہے ۔ (خَلَقَ فَقَدَّرَ فَہَدٰی) وہ انسان کی میصبتوں میں ان کی پکار سنتا ہے۔ اَمْ مَنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرًّاِذَا دَعَاہُ۔ وہ زندگی کے ایک ایک مرحلے میں قدم قدم پر ان کے ساتھ رہتا ہے ارشادہے کہ میرے بندو! مجھے پکارو، میں تمہاری پکا رسنتا ہوں(اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ) او ر میں تمہارے بالکل پاس ہوں(فَاِنِّی قَرِیْب)مسلمان کے علاوہ کافر ومشرک کی بھی سنتا ہے ۔ خصوصاً جبکہ وہ مظلوم ہو۔

اللہ تعالیٰ کو بندوں سے محبت

اللہ تبارک وتعالیٰ کو اپنے بندوں سے بے پناہ محبت ہے حتیٰ کہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہیں ۔ ایک غزوہ میں ایک عورت کا کوئی بچہ گم ہوگیا وہ پریشان پریشان پھررہی تھی کہ کہیں بچہ گھوڑوں کے پاؤں کے نیچے دب تونہیں گیا ،کہیں تلواروں کا نشانہ تونہیں بن گیا ،کہیں دھول اورریت میں دب تو نہیں گیا ، حضور علیہ السلام اور صحابہ کرام اس عورت کی پریشانی کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ ادھر ادھر دوڑ رہی ہے یکایک اس عورت کا بچہ مل گیا تو جوش محبت میں چمٹالیا اور پیار کرنے لگی ۔

یہ بھی نہیں خیال کیا کہ اس کے بدن پر کتنی دھول لگی ہوئی ہے ۔ تو آپ eنے صحابہ کرام کو مخاطب کرکے پوچھا بتاؤ کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈالدے گی تو صحابہ کرام نے کہا یارسولe ہرگز نہیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اس سے بھی کہیں زیادہ محبت ہے اللہ چاہتے ہیں کہ بندہ توبہ کرکے باز آجائے۔انسان خصوصاً ایک مسلمان جب اپنے اللہ کے حضور دعا کرتاہے تو وہ اقرار واظہار کرتا ہے۔

ہدایت اور رہنمائی کی حاجت

بندہ اللہ تعالیٰ کو خالق کائنات ، مالک ارض وسماوات ، مالک حقیقی مالک مطلق ، منتظم کائنات ، مشکل کشا اور دستگیر سمجھتا ہے ۔ جانتا ہے کہ جو کچھ کرنا اور بدلنا ہے، بس اسی کے ہاتھ میں ہے۔ بندۂ خاکی اپنے آپ کومحتاج، ضرورت مند ، ناتواں اور سائل سمجھتا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اورتوکل کرتا ہے ۔ اس کی عظمت قدرت قوت اور ہمہ گیری پریقین اور اعتماد رکھتا ہے ۔ وہ ایسا یقین اور اعتماد رکھتا ہے کہ اسے جو کچھ بھی حاصل ہوگا اسی کے درسے حاصل ہوگا ۔ اور اسکی بگڑی اگر سنورے گی تو اسی کی نظر عنایت سے۔ وہ دل کی گہرائیوں سے یہ محسوس کرتاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نہ صرف دستگیری اور امداد کا محتاج ہے بلکہ اس کی ہدایت اوررہنمائی کا بھی، اگر وہ اللہ کی ہدایت اوررہنمائی پر نہیں چلے گا تو پھروہ خسارے میں رہے گا ۔ لازماً اسے اللہ تعالیٰ بلکہ انبیاء اور رسل ، ملائکہ اور کتب الٰہیہ اور جز او سزا پر ایمان لانا ہوگا ۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے یہی ذرائع و وسائل ہیں ۔ بس دعا انسان کو توحید پرست ہی نہیں، مومن بھی بناتی ہے۔ دعا کا خالص تعلق ایمان سے ہے کیونکہ مومن اپنی بیشتر دعائیں آخر ت کیلئے مانگتا ہے ۔ وہی دارالبقاء ،وہی دارالقیام ہے ۔ دعا کا خاص تعلق توبہ سے ہے کیونکہ گناہگار ضمیر کی دعا مخلص نہیں ہوسکتی اور ضمیر کو از سرنو صاف وشفاف کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ،توبہ !دعا وہ ہے کہ اپنے گناہوں کی معافی کیلئے کی جائے ۔ تب ہی اللہ کی رحمت متوجہ ہوسکتی ہے۔ اسی لئے بندے کو جو پہلا سبق سکھایا گیا ہے ۔ وہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہے۔

مومن سرتاپا دعا ہے

دعا مانگنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ حرام سے بچے ، حرام روزی سے بھی اور حرام کاموں سے بھی ۔کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔جوچیز روز ازل سے مقدرہوچکی ہے اس کے خلاف دعا نہ مانگے مثلاً اے اللہ مجھے مرد سے عورت بنا دے یا اے اللہ ! مجھے کبھی موت نہ آئے۔ دوسروں کی برائی نہ چاہے۔یہ نہ کہے کہ ’’اگر تو چاہے تو میرا قرض ادا کرادے‘’بلکہ اس طرح دعا مانگے ۔ ’’الٰہی ! میرا قرض ادا کرادے۔‘‘

اللہ اور صرف اللہ ہی سے دعا مانگے ۔آسمان کی جانب نگاہ نہ اٹھائے۔مزید یہ کہ گناہوں کو ترک کردے ۔اپنے افعال پرپشیمان ہو اور توبہ کرے اور آئندہ کے لئے برے کاموں سے پرہیز کرنے کا عزم کرے۔اگر کسی مرد یا عورت کا حق غصب کیا ہو یا کسی پرظلم یا زیادتی کی ہو، سود کھایا ہو، غیبت کی ہو، اخلاقی مالی یا جسمانی ایذا پہنچائی ہو تو وہ غصب کیا ہوا حق واپس کرے۔ اپنے مال کو حرام سے پاک کرے ۔ مظلوم سے معافی مانگے اور ایذا کاازالہ کرے ۔

صرف زبان سے توبہ کرلینا کافی نہیں بلکہ دل سے کرے تب ہی توبہ قبول ہوتی ہے۔

بہترہے کہ گناہوں کاکفارہ ادا کرے ۔ صدقہ وخیرات کرے ، روزہ ونوافل کا اہتمام کرے ۔بہتر ہے کہ دعا مانگنے سے پہلے کوئی نیک کام کرے ۔ناپاکی اورنجاست سے محفوظ رہے۔وضوکرے۔دوزانو بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے ۔ زیادہ مناسب ہے کہ دورکعت نفل پڑھ لے ۔رسول اللہe پر درودوسلام بھیجے۔ جس طریقے سے خدا نے دعا مانگنا سکھایا ہے اس طریقے سے دعا مانگے ۔بہترہے کہ دعا قرآن کی زبان میں یا حدیث کی زبان میں مانگی جائیں ۔

اگر اپنی طرف سے اپنی زبان میں کچھ اور کہا جائے تو مضائقہ نہیں،صرف اپنی ذات کے لئے دعا نہ مانگے بلکہ حضور ﷺ سمیت تمام پیغمبر  فرشتے صحابہ کرامؓ ،تابعین، تبع تابعینؒ تمام مومنین ومومنات اور اپنے زندہ ومردہ اعزاء واقارب کے لئے دعا مانگے ۔اسلام کی بقاء وترقی کے لئے اور دشمنان ِ اسلام کی شکست کے لئے دعا مانگے۔خشوع وخضوع سے دعا مانگے۔جو الفاظ استعمال کرے ان کے معنی ومطلب کو سمجھے۔ایک ہی مقصد کے لئے دعا مانگے۔کم از کم تین بار۔دعا میں اثر ہونے کی جلدی نہ کرے اور نا امید نہ ہو۔دعا مانگنے کے بعد ددنوں ہاتھ چہرے پر پھیرے ۔

اگر کسی کام کیلئے بار بار دعا کرے مگرقبولیت کے آثار نہ ہوں تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ممکن ہے کسی خاص مصلحت کیوجہ سے دعا میں تاخیر ہورہی ہو ۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا کافروں کاشیو ہ ہے وَلاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ دوسری جگہ ارشاد باری ہے وَلاَ تَیَئِسُوْا مِنْ رُوْحِ اللّٰہِ اِنَّہُ لاَ یَئِیْسَ مِنْ رُوْحُ اللّٰہُ اِلاَّ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔ اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو اللہ کی رحمت سے کافر کو ہی مایوسی ہوتی ہے۔ بسا اوقات بندہ ایک چیز کی دعا کرتا ہے حالانکہ وہ دعا اس کے لئے مفید اور کار آمد نہیں تو اللہ تعالیٰ چونکہ بندوں پر بڑے مہربان ہیں وہ جانتے ہیں کونسی دعا بندے کیلئے مفیدہے ۔جس میں نقصان ہے وہ دعا قبول نہیں کرتے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

متعلقہ خبریں

Back to top button