
کبوتر با کبوتر باز با باز -محمد مصطفی علی سروری
2؍ مارچ 2023ء کو محمد عادل حسب معمول اپنی کرانہ دوکان پر بیٹھا کام کر رہا تھا۔
2؍ مارچ 2023ء کو محمد عادل حسب معمول اپنی کرانہ دوکان پر بیٹھا کام کر رہا تھا۔ کچھ نوجوان وہاں آکر کرانہ دوکان پر عادل سے بات کرتے ہیں اور اس کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔کچھ عرصے بعد جب یہ کم عمر بچہ واپس اپنے گھر اور دوکان کو پہنچتا ہے تو ماں باپ استفسار کرتے ہیں اور لڑکا جو تفصیلات بتلاتا ہے اسے سن کر ماں باپ پریشان ہوجاتے ہیں۔ اور اپنے بچے کو لے کر مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرواتے ہیں۔ قارئین لڑکے کا نام یہاں فرضی استعمال کیا گیا۔ اخبار نیو انڈین ایکسپریس میں شائع 3؍ مارچ کی ایک رپورٹ کے مطابق میلاد روپلی علاقے میں جمعرات 2؍ مارچ کو ایک کم سن لڑکے کے اغواء اور مارپیٹ کی شکایت مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی۔ کم سن لڑکے کے والدین نے اپنی شکایت میں بتلایا علاقے کے کچھ نوجوان جو گانجہ پیتے ہیں ان کے بچے کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا اور اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے۔
قارئین کرام ملک بھر میں شہر حیدرآباد کی سٹی پولیس کو اس بات کا اعزاز بھی حاصل ہے کہ پوری دنیا میں جی ہاں پوری دنیا میں حیدرآباد ہی وہ واحد شہر ہے جہاں پر سب سے زیاد ہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ۔ یہاں تک انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا کہ شہر میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب شہریوں کی آزادی کے خلاف عمل ہے۔ خیر سے میں اپنے موضوع پر واپس آتا ہوں۔
ایک کمسن لڑکے کے ساتھ مارپیٹ کی شکایت درج کروانے کے بعد پولیس حرکت میں آتی ہے اور علاقے کے سی سی ٹی وی کا جائزہ لیتی ہے۔ علاقے سے ملنے والی ویڈیو فوٹیج کو دیکھ کر پولیس بھی تعجب میں پڑجاتی ہے کہ جس کم سن لڑکے کے والدین نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے کہ ان کے بچے کو کچھ گانجہ پینے والے لڑکوں نے زبردستی دوکان سے اٹھاکر لے گئے وہ بچہ تو ویڈیو میں خوشی خوشی اور اپنی مرضی سے ان نوجوانوں کے ساتھ جارہا ہے۔ پولیس نے مشتبہ نوجوانوں کی نشاندہی محمد سعید، ابو اور سمیر کی حیثیت سے کی ہے۔
پولیس کے ذرائع کے حوالے سے اخبار نیو انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ میلاد روپلی کے اس کمسن بچے کی شکایت دراصل حقیقی صورت حال سے بچائو کا طریقہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ کم سن بچہ جس طرح سے تین نوجوانوں کے ساتھ جو کہ اس کی دوکان پر آتے ہیں باہر جاتا ہے۔ اس سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ کمسن بچہ ان نوجوانوں کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے ان لوگوں کے ساتھ گیا تھا۔ مگر اس کم عمر بچے کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو یہ بھی نہیں بتلانا چاہتا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے ان کے ساتھ گیا تھا۔ کیونکہ گھر والوں نے بچے کو گانجہ پینے اور دیگر خراب عادتوں کا شکار بچوں کی صحبت سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اب دوکان چھوڑ کر دوستوں کے ساتھ تو چلا گیا مگر گھر والوں کی ڈانٹ کے ڈر سے کم سن بچے نے کہانی گھڑلی اور اپنے آپ کو گھر والوں کے غصہ سے بچانے کا راستہ ڈھونڈا۔ پولیس بہر حال اس سارے معاملے کی شکایت درج کرنے کے بعد تحقیقات کر رہی ہے۔
آرین ووہرا کی عمر 21 برس ہے۔ یہ ان خوش قسمت ہزاروں ہندوستانیوں میں سے ایک ہے جو عمر کے اس حصے میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانے میں کامیاب ہوگیا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ جانا اور اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کرنا بہت بڑی کامیابی ہے تو ان کے لیے 7؍ مارچ 2023ء کو پی ٹی آئی کی جاری کردہ خبر ضرور پڑھنا چاہیے۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ ایک ہندوستانی مسافر نے جو امریکہ کے جان ایف کنیڈی ایئرپورٹ سے نئی دہلی تک امریکن ایئر لائنز سے سفر کر رہا تھا کو نئی دہلی ایئر پورٹ پر سی آئی ایس ایف کے عملے نے طیارے سے اترتے ہی گرفتار کر لیا۔ امریکن ایئر لائنز نے اپنی تحریری شکایت میں لکھا کہ آرین ووہرہ نامی اس مسافر نے دوران پرواز نہ صرف طیارے کے عملے کے ساتھ بدتمیزی کی بلکہ دوران پرواز اس نوجوان نے ساتھی مسافر پر پیشاب بھی کردیا۔
آرین ووہرہ کی عمر 21 برس اور اس نوجوان کو امریکی یونیورسٹی کا طالب علم بتلایا گیا ہے۔ امریکن ایئر لائنز نے اس طالب علم پر پابندی عائد کردی کہ آئندہ یہ طالب علم امریکن ایئر لائنز, میں اب سفر نہیں کرسکے گا۔ چونکہ امریکن ایئرلائنز کے اس مسافر نے آرین ووہرہ کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کروائی اس لیے دہلی پولیس ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد اس نوجوان کو گھر جانے دید یا۔ اخباری اطلاعات میں بتلایا گیا کہ طیارہ میں سوار اس طالب علم نے دوران پرواز جس وقت ہنگامہ آرائی کی وہ اس وقت حالت نشہ میں تھا۔
مندرجہ بالا مذکورہ دونوں واقعات سے جو چیز اخذ کی جاسکتی ہے وہ یہ کہ بچوں کی تربیت دور حاضر کا سب سے بڑا اور والدین کا اہم چیالنج ہے۔ والدین زور زبردستی کریں گے، دبائو ڈالیں گے تو اس سے بھی بچوں کی تربیت و اصلاح ممکن نہیں جیسا کہ اول الذکر خبر میں پولیس نے خدشہ ظاہر کیا کہ والدین کی ڈانٹ ڈپٹ سے بچنے کے لیے کمسن بچے نے جھوٹی کہانی گھڑلی کہ کے چند نوجوانوں نے اس کے ساتھ زبردستی کی اور اس کو پکڑ کے لے گئے۔ پیسے بھی مانگے اور پولیس سی سی ٹی وی کی مدد سے مسئلہ کی تہہ تک پہنچ گئی کہ جو لڑکا بیان دے رہا ہے اور جو کچھ ویڈیو میں نظر آرہا ہے اس میں کسی طرح کی مماثلت نہیں ہے۔
دوسری جانب جو والدین اور سرپرست یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ بھجوانے سے بچوں کی زندگی کامیاب بن جاتی ہے تو ان کے لیے نئی دہلی کے آرین ووہرہ کی مثال ہے کہ بچے جب اس بات کو فراموش کرجائیں کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے، تو وہ دوران پرواز شراب نوشی بھی کریں گے اور ساتھی مسافرین کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ بھی اختیار کریں گے۔ سب سے اہم بات آپ امریکہ کی کسی بھی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں، کہیں بھی کسی بھی طالب علم کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ دوران پرواز طیارے میں شراب پینی چاہیے یا نہیں۔ یہ بھی ابھی تک تو سکھایا جاتا کہ پیشاب آجائے تو ساتھی مسافر پر فارغ ہونا چاہیے۔ بلکہ طیارے میں بیت الخلاء کا استعمال کرنا چاہیے۔
بچے چاہے کاروبار کرنا سیکھ رہے ہوں یا امریکی جامعہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہوں ان کے اخلاق و کردار کی تربیت کی ذمہ داری اسکول وکا لجس کی نہیں اور نہ ہی کسی استاد یا مولوی صاحب کی ہے۔ بلکہ یہ ذمہ داری تو والدین کی ہے۔
گذشتہ مہینے سعودی عرب کے اردو اخبار اردو نیوز نے ایک خبر شائع کی تھی جس کی سرخی ’’اشورنس کی رقم کے لیے اپنا جنازہ نکالنے والی خاتون کا راز فاش‘‘ تھی۔17؍ فروری بروز جمعہ کو شائع اس خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ اردن میں ایک خاتون نے انشورنس کی رقم حاصل کرنے کے لیے مرنے کا ڈرامہ کیا۔ تاہم وہ ناکام ہوگیا۔ دراصل خاتون نے تین انشورنس کمپنیوں سے 20 لاکھ ڈالر کی بیمہ پالیسیاں لے رکھی تھیں۔
ملزمہ نے 2022ء کے آخر میں کئی لوگوں کی مدد سے خود کو مردہ ظاہر کرتے ہوئے انشورنس کمپنیوں سے 20 لاکھ ڈالر بیمہ کی رقم حاصل کرلی۔ اس سے قبل اکتوبر 2022ء میں خاتون نے اپنی فرضی موت کا اعلان کیا۔ باقاعدہ جنازہ بھی اٹھایا گیا۔ گھر پر تعزیتی تقریب بھی منعقد ہوئی۔یہ سب کام کچھ وکلاء کے ذریعہ لائف انشورنس پالیسی کا کلیم حاصل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
انشورنس کمپنیوں کے ماہرین کو خاتون کی فائل پر شک گذرا تھا۔اس کی بڑی وجہ خاتون کی میڈیکل فائل کا جمع نہ کروانا تھا۔ انشورنس کمپنیوں نے سیکوریٹی فورسس سے رابطہ کیا۔ انہوں نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ موت کا واقعہ فرضی ہے۔
پولیس نے باضابطہ طور پر وہ قبر بھی کھودی جس کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ وہ خاتون کی قبر ہے۔ تو قبر میں خاتون کی نعش کے بجائے پلاسٹ کا کھلونا نکلا۔قارئین جعل سازی کے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد اردنی پولیس نے جن چھ افراد کو گرفتار کیا اس میں خاتون کا باپ بھی شامل ہے۔ اور باپ کی مدد سے ہی اردن کی خاتون نے انشورنس کمپنیوں کو دھوکہ دینے کا ڈرامہ کیا جو کہ پولیس کی مدد سے بالآخر بے نقاب ہوگیا۔
برائی کے راستے پر چلنے کا انجام برا ہوتا ہے۔ پھر چاہے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔ جب وہ اپنے بچو ں کی نیکی کی تعلیم، نیکی کی تربیت کی خود فکر نہ کریں اور انہیں بھی برائی کے راستے پر چلنے میں مدد کریں تو یقینا برائی کا راستہ انہیں اندھیری کھائی میں دھکیل دے گا۔ جہاں پر بچے تو گریں گے مگر ساتھ وہ والدین بھی ان کے ساتھ ہوں گے جنہوں نے بجائے تربیت کرنے کے بچوں کی برائیوں پر پردہ ڈالنا چاہا۔
ایسے ہی بری صحبت بچوں کو برا بنادیتی ہے اور اچھا ماحول، اچھے لوگ نیکی کی ترغیب دلانے کا کام کرتے ہیں اور یہ کام والدین اور سرپرستوں کا ہے کہ تربیت اسکول و کالجس سے نہیں والدین سے ہی مل سکتی ہے۔
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالع ترا طالع کند
جیسا کہ فارسی ضرب المثل ہے۔
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ اولاد کی تربیت کے حوالے سے ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔




