
ماہر دین و سیاست ، قائد قوم و وطن- مولانا رضاء الرحمان رحمانی استاذ جامعہ رحمانی مونگیر
مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے بڑے معتبر اور کامیاب قائدوں میں گذرے ہیں
مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے بڑے معتبر اور کامیاب قائدوں میں گذرے ہیں،امت کی کامیاب قیادت کے پیچھے جہاں مدرسہ کے ماحول وہاں کے نظام تعلیم اور اساتذہ کی محنت رہی ہے، وہیں خانقاہی نظام زندگی کا اثر اور بزرگوں کی نسبت اور تربیت کا فیض رہا ہے، ساتھ ہی دو دہائی سے زیادہ سیاسی گلیاروں میں رہ کر زندگی کے زیر وبم اور نشیب وفراز کے سمجھنے اور برتنے کا عمل دخل بھی رہا ہے۔
وہ۱۹۷۴ء میں بہار قانون ساز کانسل کے ممبر بنائے گئے اور ۱۹۹۶ء تک لگاتار ۲۲؍ سال تک اس کے ممبر رہے، دو بار ڈپٹی چیرمین کے عہدہ پر بھی فائز ہوئے اور شاندار انداز میں کانسل چلا کر بھی دکھائی، اس دوران انہوں نے بے شمار ملی ودینی کام کیے ، پٹنہ کے رہنے والے سکریٹریٹ سے ریٹائرڈ افسران جناب مصطفی ربانی اورجناب غلام ربانی بتاتے ہیں کہ بہار میں دو ہی مسلم لیڈ ر کے زمانے میں مسلمانوں کا کام ہؤا، ایک کا نام مولانا محمد ولی رحمانی ہے اور دوسرے کا نام غلام سرور ہے، پٹنہ ہی کے ایک صاحب نے بتایا کہ میں وقف کے آفس میں کام کرتا تھا، وقف کی جائداد کی حفاظت کے سلسلہ میں ان کا کارنامہ بے مثال رہا ہے، حیات ولی میں ان کا خود کا بیان نقل کیا گیا ہے، کہ’’ ایم ایل سی ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد ۱۹۷۵ء میں وقف بل آیا، میں نے اس پر بڑی محنت کی اور بل پر کم وبیش ۱۹؍ترمیمیں میں نے کردیں‘‘ ایم ایل سی ہوتے ہوئے انہوںنے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف بڑی جرأت کے ساتھ آواز بلند کی، ایمرجنسی کے دوران کا ایک واقعہ حیات ولی میںان کی زبانی اس طرح نقل کیا گیا ہے’’زمانہ ایمر جنسی کا تھا، ہر تھانہ میں ڈیفنس آف انڈیا رول کے فارم پر دستخط کیے ہوئے کاغذات رکھے ہوتے تھے،
انسپکٹر صاحب یا داروغہ صاحب کی جبین نازک جس شخص سے شکن آلو د ہوتی ، وہ DIRمیں جیل کی ہوا کھاتا تھا، آفتاب نامی ایک نوجوان شیخپورہ کے قریب کے رہنے والے پٹنہ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، پڑھنے میں ٹھیک ٹھاک تھے، گھر آئے کسی دن راستہ میں داروغہ صاحب مل گئے، کہنے لگے کہ پانچ من آلو بھیجوادیجئے، آفتاب نے جوابا کہا کہ یہ سب فرمائش ابا سے کیجئے گا، مجھ سے یہ زیادتی برداشت نہیں ہوگی، چند دنوں بعد آفتاب جیل پہونچ گئے، الزام یہ لگایا گیا کہ وہ جماعت اسلامی کے سرگرم رکن ہیں، میں نے پوری بات جگن ناتھ مشرا سے کہی ، انہوںنے کہاکہ میں رپورٹ منگواتا ہوں، دو ہفتے بعد میں نے یاد دہانی کرائی، تو انہوں نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کا بھینکر اکٹیوسٹ ہے، میںنے کہا معاملہ جماعت اسلامی کا نہیں آلو کا ہے، آپ نے راجو سنگھ کی سفارش پر کئی لوگوں کو چھوڑا ہے، ایک میرے کہنے سے چھوڑ دیجئے، انہوں نے بھی آپ کو لکھ کردیا ہے،میں بھی لکھ کر ضمانت لے رہا ہوں ، میں نے آفتاب کی رہائی کے لیے ۲۸؍ ایم ایل اے وایم ایل سی کے دستخط سے درخواست دی تب جا کرآفتاب کی رہائی ہوئی۔ ‘‘
وہ صاف سھتری سیاست کے قائل تھے، اور برقعہ پوش سیاست کے سخت مخالف تھے، انہوںنے سیاست کو شجر ممنوعہ نہیں قراردیا تھا، وہ بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب کی سیاسی فکر سے اتفاق رکھتے تھے، جنہوںنے نامساعد حالات میں سیاسی جماعت کھڑی کی، اور جن کی پارٹی کے ٹکٹ پر ان کے والد بزرگوار حضرت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی ؒ نے الیکشن لڑا، اور تاریخی جیت حاصل کرکے بڑا ملی کام کیا، فکر سجاد پر روشنی ڈالتے ہوئے، امارت کے تحت ہونے والے ایک سمینار میں انہوںنے اپنے سیاسی فکر کا کھل کر اظہار کیاہے، انہوںنے کہاتھا ’’آزادی سے پہلے جب ہندوستان کا سیاسی نقشہ تیار کیا جارہا تھا، حضرت سجاد کی دوٹوک رائے تھی کہ سیاسی بصیرت کا استعمال ضروری ہے، اور سیاسی جدوجہد کے بغیر کام نہیں چل سکتا، اس لیے انہوں نے پارلیمانی سیاست کی راہ اپنائی، مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی بنائی، الیکشن کے میدان میں لوگوں کو اتارا، اور حکومت بنا کر اقلیت بالخصوص مسلمانوں کے وزن کو محسوس کرایا‘‘سیاست میں مسلمانوں کی شراکت داری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’دو ر جمہور میں سیاسی وزن نہ ہوتو راہیں بہت طویل اور منزل دور بہت دور ہوجاتی ہے، اس لیے اقتدار کے دروازہ پر دستک دینے کے لیے سیاسی لگام اپنے ہاتھ میں رہنی چاہئے‘‘ مسلم جماعت کی سیاست سے کنارہ کشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’حضرت سجاد کے بعد اجتماعی کاموں کے لیے ہماری جو بھی بڑی جماعت کھڑی ہوئی، اس نے پہلے مرحلہ میں یہ اعلان کردیا کہ اسے سیاست سے کوئی تعلق نہ ہے، اور نہ ہوگا، پارلیمانی نظام والے ملک میں کسی بھی اجتماعی کام کرنے والے ادارہ اور ملت کی ترجمانی کرنیوالی جماعت کا سیاست سے تعلق نہ ہویہ وہ حسن بیان ہے، جس کے سامنے سچائیوں کو منہ چھپانا پڑتا ہے‘‘ ۔
پارلیمانی نظام والے ملک میں سیاست سے علیحدگی کے کیا نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں، آج سے ۲۳؍ سال پہلے انہوںنے عمائدین ملت کو اس طرف متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا، ’’یاد رکھئے، جس ملک میں ہم اور آپ سانس لے رہے ہیں، اور جہاں ایک واضح حکومتی نظام ہے، سیاسی جماعتیں ہیں، پارلیمانی جمہوریت ہے، وہاں سیاسی وزن کے بغیر ملت کی پروقار زندگی اور مضبوط معاشرہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اور اب جیسے جیسے سیاست میں صالح روایتوں اور اخلاقی قدروں کا زوال ہوتا جارہا ہے، ملک میں مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی زیادہ محسوس حقیقت بنتی جارہی ہے، آج حکومت بن رہی ہے، ٹوٹ رہی ہے، مگر ہم آپ بحیثیت ملت کہیں نہیں ہیں، یاد رکھئے اگر آپ میں اقتدار کو متأثر کرنے کی صلاحیت نہیںہوگی، تو آپ اسلامی معاشرہ کی حفاظت نہیں کرسکتے، اور مسلمانوں کا دینی اور اجتماعی تشخص بھی برقرار نہیں رکھ سکتے،
آج اقلیتوں کے نام پر پورا ڈرامہ رچا جارہا ہے، مگر انہیں کوئی پوچھ نہیں رہا ہے، اور نہ وہ پوچھوانے کی صلاحیت پیدا کررہے ہیں، اور جب وہ اس الٹ پھیر میں باوزن نہیں ہیں، تو حکومت میں بھی باوزن نہیں ہوسکتے، اور نہ اپنے حقوق کو اس الٹ پھیر کے بیچ سے حاصل کرسکتے ہیں۔ بڑے ادب کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ اگر خدمت کرنی ہے، اجتماعی کام کرنے ہیں، ملت کی نمائندگی اور ترجمانی کرنی ہے، تو سیاست سے پنجہ آزمائی کرنی ہوگی، اپنے وجود اور حقوق کے لیے، آئینی سماجی دینی سیاسی اور اجتماعی حقوق کے لیے ۔جتنے دھوکے پچھلے پچاس برسوں میں سیاسی جماعتوںنے ملت اسلامیہ کو دیئے ہیں، ان کا سبق یہی ہے، کہ سیاسی عمل کی طرف ملت کے قدم بڑھیں۔ ‘‘ (حضرت سجاد ص۱۲؍۱۰ )
حضرت سجادکی آڑ میں ان کی یہ واضح فکر بتاتی ہے کہ وہ سیاست کے استاد کامل تھے، سیاست کی گہرائیوں سے انہیں بڑی واقفیت تھی، ملت کے لیے سیاست میں شراکت کو وہ امر عظیم سمجھتے تھے، اور عدم شراکت کے مستقبل میں ہونے والے خوفناک نتائج سے اچھی طرح باخبر تھے، آج سے ۲۳؍ سال پہلے انہوںنے ملت اسلامیہ کو باخبر کردیا ، اور ملت اور ملت کے نمائندوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی، مگر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں ہوئی، موجودہ صورتحال کا جائز ہ لے لیجئے، اس پارلیمانی نظام والے ملک میں مسلمان کس طرح دھیرے دھیرے حاشیہ پر کیے جارہے ہیں، آج کوئی پارٹی ان کے حقوق کی بات دور ہے، ان کا نام لینے سے بھی کترا رہی ہے۔
سیاست کے تالاب میں آج بڑی گندگی آگئی ہے، اس کے ذمہ دارہم اسلام کے ماننے والے بھی ہیں،ہماری سیاست سے دوری کا یہ نتیجہ ہے، وہاں حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ جیسے بااخلاق با مروت اور اسلام کے ترجمان اب عنقاء ہیں، اگر نام کے چند مسلمان ہیں بھی تو وہ مسلمانوں کے نمائندہ کم اور پارٹی کے وفادار زیادہ ہیں، ہمارے حضرت کانگریس میں ہوتے ہوئے بھی نہ کبھی اسلام سے سمجھوتا کیا، نہ اصول سے ہٹے، نہ ملت کے مسائل سے ہی چشم پوشی کی، ہمیشہ ملت کا نمائندہ بن کر دین وملت کی خدمت کرتے رہے۔انہوںنے اپنے طویل سیاسی سفر میں اپنے قول وعمل سے یہ باور کرایا کہ ہم جھوٹ نہیں بول سکتے، اس لیے کہ خدا ہمیں سن رہا ہے، ہم دھوکہ نہیں دے سکتے، کیونکہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے، ہماری سیاست ہمارے دین کے تابع ہے، اقبال نے ایسی ہی سیاست کے بارے میں کہا تھا:
جلال بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جداہودیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
۲۲؍ سال کے طویل سیاسی سفر نے انہیں ایک منجھاہؤا سیاست داں بنادیا تھا، وہ سیاسی لہروں کو گننے اور پہچاننے لگے تھے ، اپنے طویل تجربہ کی روشنی میں وہ کہتے تھے، عوام کی بات لیڈر اس وقت سنیں گے جب عوام انہیں اٹھ بیٹھ کرائے گی۔ اگر عوام نے انہیں اٹھ بیٹھ کرانا چھوڑ دیا تو وہ عوام کو اٹھ بیٹھ کرانے لگیںگے،چنانچہ ایک ہی پارٹی اور لیڈر کو بار بارجتانے کے فارمولہ کے برے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔
وہ قدآور سیاسی لیڈ رتھے، ملت کے مفاد کے لیے انہوں نے اپنے اس قد کا بھر پور استعمال کیا، ایک موقعہ پر ہمارے بعض بزرگوں سے ایک ایسے کاغذ پر دستخط ہوگیا، جو نہیں ہونا چاہئے تھا، اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے ہاتھ سے بابری مسجد نکل گئی تھی، سب کی نگاہ ان کی طرف اٹھنے لگی،انہوں نے اپنے سیاسی اثر ورسوخ کا استعمال کیا، کچھ ہی لمحے میں وہ دستخط شدہ کاغذ سامنے تھا، اور ایک بڑا مسئلہ حل ہوگیا، اسی طرح وزارتی گروپ کی رپورٹ جس میں مدارس کو دہشت گردی کا مرکز بتایا گیا تھا، ابھی پارلیمنٹ میں پیش بھی نہیں ہوئی تھی، کہ ان کے پاس آگئی، اورانہوں نے سرکار کی بری نیت کو طشت ازبام کردیا۔اور بھی ایسی بہت ساری مثالیں ہیں، جہاں انہوں نے اپنے سیاسی اثر ورسوخ کا استعمال کرکے ملت اور ملت کے فرزندوں کی آبرو بڑھائی، سیاست میں اسی بلندی کا نتیجہ تھا کہ ایک پارٹی نے بہار میں ان کو وزیر اعلیٰ بنائے جانے کا پرزور مطالبہ کیا، اور اپنی حمایت کی شرط یہی رکھی۔
وہ کہنہ مشق سیاست داں تھے، انہیں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین سے ملنے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقعہ ملا تھا، وہ مولانا آزاد کے خیال سے خود کو قریب محسوس کرتے تھے، حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی فکر نے انہیں متأثر کیا تھا، والد ماجد مولانا منت اللہ رحمانی کی تربیت نے ان میں جلا بخش دی تھی، اس لیے انہوں نے ہندوستان کے جمہوری نظام کو بہت اچھی طرح سمجھا اور پرکھا تھا،مسلمانوں کی کمزوری کو دیکھ کر وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اس ملک میں اپنا سیاسی وزن بڑھائیں اور اپنے ووٹ کی قدر وقیمت پہچانیں، اس کے لیے انہوں نے دلت مسلم اتحاد کی بھی کوشش کی، لنگایت طبقہ سے بھی قربت بڑھائی، مگر کامیابی نہ دیکھ کر اپنے قدم واپس کھینچ لیے۔
الیکشن کی تیاری کس طرح کی جاتی ہے، اس پر بھی ان کی رہنمائی موجود ہے، مولانا منت اللہ رحمانی سمینار دربھنگہ میں مولانا ظہیر احمد لکھنوی کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے فرمایا تھا ’’دیکھئے،ساون بھادومیں اگر کوئی روپنی نہیں کرتا ہے، تو کٹنی کے وقت کچیا لے کر اپنے کھیت میں جانے کی اسے کوئی گنجائش نہیںہوتی ہے، اس لیے اگر الیکشن کی تیاری آپ نے پچھلے پانچ دس برس میں کی ہوتی تو آج کچیا لے کر جاسکتے تھے، لیکن آپ نے پہلے کوئی تیاری ہی نہیںکی، تو قوم کی قیادت کیسے کرسکتے ہیں۔‘‘
کتنے پتے کی بات انہوں نے کہی، ہم ٹھیک الیکشن سے پہلے الیکشن کے لیے تیار ہوتے ہیں، پہلے سے ہماری کوئی تیاری نہیں ہوتی، کوئی پلاننگ نہیں ہوتی، جب کہ دوسرے لوگ ایک الیکشن جیتتے نہیں ہیں کہ دوسرے کی تیاری میں لگ جاتے ہیں، بڑا سے بڑا ہو یا چھوٹا سے چھوٹا الیکشن اس کی تیاری ہمیں برسوں قبل سے کرنی چاہئے ، حضرت کے بقول ہمیں پہلے روپنی کرنی چاہئے، یعنی لوگوںکی خدمت کرنی چاہئے، لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی چاہئے، تب کٹنی کی امید رکھنی چاہئے، ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم روپنی کے وقت سوئے رہتے ہیں، اور کٹنی کے وقت چاہتے ہیں، کہ ہمیں اچھا نتیجہ ملے، یہ کیسے ممکن ہے۔ ٹھیک ہے، اب الیکشن میں روپئے پیسے اور طاقت کی اہمیت بڑھ گئی ہے، لیکن لمبی پلاننگ، لوگوں کی خدمت، برسوںکی محنت اور لوگوںکے دلوں میں اپنا اثر پیدا کرنے کی ضرورت اب بھی پہلے کی طرح مسلم حقیقت ہے۔
آج ہمارے درمیان حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نہیں ہیں، لیکن ان کی سیاسی فکر ہمارے درمیان ہے، ایک جمہوری ملک میں ہمیں اپنا ملی وجود اور دینی تشخص کے بقا کے لیے کیا کرناچاہیے، حضرت نے ہماری بھر پور رہنمائی کی ہے، ضرورت ہے کہ ہم حضرت کے پیغام کو پڑھیں ، سمجھیں ، برتیں اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کا سیاسی سفر شروع کریں، سیاست کو شجر ممنوعہ ہرگزنہ سمجھیں، خاص طور سے علماء طبقہ سیاسی میدان میں آگے آئیں، تاکہ دین وملت کی بہتر سے بہتر خدمت ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ اور ان کے چھوڑے ہوئے نقوش پر ہم سبھو ںکو چلنے کی توفیق دے۔ (آمین)



