للت مودی قانون سے بالا نہیں، بلاشرط معافی مانگنی ہوگی عدلیہ کیخلاف تبصرہ پر سپریم کورٹ سخت برہم
آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کو آج عدالت عظمیٰ نے سخت پھٹکار لگائی ہے۔
نئی دہلی،13 اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کو آج عدالت عظمیٰ نے سخت پھٹکار لگائی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ ناراضگی للت مودی کے ذریعہ گزشتہ روز عدلیہ کے خلاف کیے گئے ایک تبصرہ پر ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں بغیر کسی شرط کے معافی مانگنی ہوگی۔ جسٹس ایم آر شاہ اور سی ٹی روی کمار کی بنچ نے کہا کہ للت مودی ہندوستانی قانون اور آئین سے اوپر نہیں ہے۔ عدلیہ کے خلاف قابل اعتراض بیان دینے پر سپریم کورٹ نے انھیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور سرکردہ اخبارات کے ذریعہ معافی مانگنے کی ہدایت دی ہے۔سپریم کورٹ نے للت مودی کو معافی مانگنے سے پہلے ایک حلف نامہ داخل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس حلف نامہ میں وہ اس بات کی حامی بھریں کہ مستقبل میں وہ ایسی غلطی نہیں کریں گے اور ہندوستانی عدلیہ کی شبیہ کو داغدار کرنے والی کوئی پوسٹ نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ للت مودی نے ایک دن پہلے ہی عدلیہ کے خلاف تبصرہ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا۔ اس ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا تھا کہ یہ صاف کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ دلال جھوٹ پھیلا کر ہندوستان اور وہاں کی عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوش کرتے ہیں۔ اس دکھاوے کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ فکسنگ کے ذریعہ پیسے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ نہیں ظاہر ہو سکا کہ للت مودی نے یہ ٹوئٹ کس پس منظر میں کیا تھا۔



