سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

کمار گورو: 80 کی دہائی کا چاکلیٹ چہرہ ہیرو، جو کامیابی کے باوجود گمنامی کا شکار ہوا

سلام بن عثمان

1980 کی دہائی کے اسٹار بچے

1980 کی دہائی بالی ووڈ میں مشہور اداکاروں کے بچوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ جن میں کمار گورو (Kumar Gourav)، سنی دیول، راجیو کپور کے علاوہ اور بھی دیگر اداکاروں نے سلور اسکرین پر جلوے بکھیرے اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ مگر جو کامیابی ان کے والدین کو ملی ویسی کامیابی اور شہرت بچوں کو نہیں مل سکی۔ جی ہاں 80 کی دہائی میں راجندر کمار نے بھی اپنے بیٹے کمار گورو کو بھی ایک رومانوی اداکار کے طور پر فلم "لو اسٹوری” کے ذریعے سلور اسکرین پر متعارف کرایا۔

کمار گورو کا ابتدائی تعارف

کمار گورو 11 جولائی 1956 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم شملہ کے ایک اسکول میں ہوئی۔ اسکول کی تعلیم کے دوران ہی انہیں فلموں سے دلچسپی اتنی ہوئی کہ انہوں نے پڑھائی پر توجہ نہیں دی۔ ویسے تو ان کا پیدائشی نام منوج ٹولی تھا۔ مگر فلموں میں پہلے ہی ایک مشہور اداکار منوج کمار موجود تھے۔ جس کی وجہ سے ان کے والد راجندر کمار نے ان کا فلمی نام کمار گورو رکھا۔ ان کے والد راجندر کمار اور والدہ شکلا بہل بالی ووڈ کے مشہور خاندان میں سے تھے۔

فلمی کیریئر کا آغاز: Love Story

کمار گورو نے 1981 میں اپنی فلمی دور کا آغاز کیا۔ جس میں ان کے مقابل پہلی اداکارہ وجیتا پنڈت کے ساتھ فلم "لو اسٹوری” میں نظر آئے۔ دونوں اسٹارز کی یہ پہلی فلم تھی۔ ویسے تم فلم کامیاب ہونے کے بعد دونوں اسٹارز کی فہرست میں شمار ہو گیے۔

کمار گورو کی پہلی فلم "لو اسٹوری” کو ان کے والد نے پروڈیوس کیا تھا۔ ان کے والد راجندر کمار نے اس فلم میں ان کے ساتھ اداکاری بھی کی۔ فلم لو اسٹوری نے باکس آفس پر زبردست دھماکہ کیا۔ فلم سلور اسکرین پر طویل عرصے تک چلتی رہی۔

فلم کی موسیقی اور نوجوانوں پر اثر

نہ صرف اس کی کہانی کے لیے راہل رویل اور نئے سرکردہ اداکار کے لیے ایک یادگار موسیقی بھی تھی۔ فلم لو اسٹوری کے تمام نغمے بہت مقبول ہوئے۔ اس وقت کالج کے ہر لڑکے اور لڑکی کے زبان پر نغمہ ہوا کرتا تھا۔ راہول ریول کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم میں بہت سے نوجوانوں نے ان کے کردار کی تقلید شروع کی۔ اس فلم کے ذریعے کمار گورو کو ایک چاکلیٹ چہرہ ہیرو کے طور پر شناخت ملی۔

اگلی فلمیں اور ناکامیاں

ان کی اگلی فلم تیری قسم 1982 میں ریلیز ہوئی۔ اداکارہ پونم ڈھلون تھیں۔ فلم "تیری قسم” بھی کافی حد تک مقبول رہی۔ سلور اسکرین پر اوسط کمائی کی۔ اسی سال انہوں نے میوزیکل فلم "اسٹار” میں اداکاری کی جو اچھی کارکردگی میں ناکام رہی لیکن اس کی موسیقی مقبول ہوئی۔

اس کے بعد فلم "رومانس”، "ہم ہیں لاجواب”، "دل تجھکو دیا” و دیگر فلموں میں نظر آئے مگر تمام کی تمام فلمیں باکس آفس پر ناکام رہیں۔

فلم "جنم” اور "نام” کی کامیابی

1985 میں انہوں نے مہیش بھٹ کی ٹیلی ویژن فلم "جنم” میں کام کیا۔ اس فلم کو کافی سراہا گیا۔ ان کی کارکردگی کو اب بھی ان کے کیریئر کی بہترین فلم تصور کیا جاتا ہے۔

کمار گورو کی فلم "نام” باکس آفس پر زبردست ہٹ ثابت ہوئی۔ فلم "نام” مہیش بھٹ کی ہدایت کاری میں بنائی گئی تھی۔ جسے ان کے والد نے پروڈیوس کی تھی۔ اس فلم میں ان کے بہنوئی سنجے دت نے بھی مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ فلم "نام” کی کامیابی کے باوجود کمار گورو کا کیریئر زوال پذیر ہوا کیونکہ اس کے بعد کی تمام فلمیں باکس آفس پر اچھا بزنس کرنے میں ناکام رہیں۔

فلم "پھول” سے کیریئر کو بچانے کی کوشش

راجندر کمار کی پچھلی فلمیں "جنم” اور "نام” بنانے کے بعد انہوں نے 1993 میں فلم "پھول” سے اپنے بیٹے کمار گورو کے کیریئر کو بحال کرنے کی کوشش کی جس میں اداکارہ مادھوری دکشت کے ساتھ ان کی جوڑی بنائی۔

اس فلم میں ان کے والد اور سسر سنیل دت بھی معاون کرداروں میں تھے۔ راجندر کمار نے بیٹے کمار گورو کے لیے فلم "پھول” کے لیے اپنا فلمی تجربہ لگا دیا۔ فلم کو سپر ہٹ بنانے کے لیے فلم کی ہیروئن مادھوری دکشت کو سائن کیا۔ اس وقت مادھوری کا شمار مشہور ہیروئینوں میں ہوا کرتا تھا۔ اس کے باوجود راجندر کمار اپنی کوشش میں ناکام رہے۔

فلمی دنیا سے کنارہ کشی

اس کے بعد کمار گورو نے اداکاری سے ایک طویل وقفہ لیا اور 1996 میں صرف دو فلمیں تاخیر سے ریلیز ہونے والی فلمیں تھیں۔ 1999 میں، انہوں نے چند ٹیلی ویژن سیریز میں کام کیا۔

2000 میں، وہ ایک مرتبہ پھر تاخیر سے ریلیز ہونے والی "گینگ” میں بڑے پردے پر نظر آئے جو ہدایت کار مظہر خان کی ناساز صحت کی وجہ سے تقریباً ایک دہائی سے پروڈکشن میں تھی۔

فلم "کانٹے” اور آخری فلمیں

2002 میں، انہوں نے سنجے گپتا کی ہدایت کاری میں بننے والی کرائم تھرلر فلم "کانٹے” میں کمار گورو کے ساتھ چھ مرکزی کرداروں میں سے ایک کردار ادا کیا۔ ان کے ساتھ تھے امیتابھ بچن، سنجے دت، مہیش مانجریکر، اور لکی علی۔ فلم کو باکس آفس پر زبردست کامیابی ملی۔

مگر اس فلم سے مہیش مانجریکر اور لکی علی نے اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے فلم شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس فلم میں کمار گورو تمام اداکاروں کے درمیان جیسے فلم میں نہیں تھے۔ امریکن کلٹ ہٹ "ریزروائر ڈاگس” (1992) کا ریمیک۔ "کانٹے” 2002 کی تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی۔ "کانٹے” ان کی آخری بالی ووڈ فلم ہے۔

بین الاقوامی فلمیں اور آخری کام

2004 میں، وہ اپنی پہلی امریکی فلم "گیانا” میں نظر آئے، جس کی ہدایت کاری روہت جاگیسر نے کی تھی۔ یہ فلم انیسویں صدی کے دوران غلامی کے خاتمے کے دوران ہندوستانیوں کی برطانوی کالونی برٹش گیانا (موجودہ گیانا) میں انڈینچرڈ مزدوروں کی کہانی بیان کرتی ہے۔

2006 میں، انہوں نے خاموش فلم "مائی ڈیڈی سٹرانگسٹ” میں کام کیا جو اب تک کے آخری اداکاری کا کردار ہے۔ اب وہ ایک تعمیراتی کمپنی چلاتے ہیں۔

ذاتی زندگی اور ازدواجی تعلق

کمار گورو نے 2 سال کی ڈیٹنگ کے بعد 1984 میں انہوں نے نمرتا دت سے شادی کی جو سنجے دت کی بہن اور سنیل دت اور اداکارہ نرگس کی بیٹی ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں۔

ساچی کمار جنہوں نے پروڈیوسر کمال امروہی کے پوتے بلال امروہی سے شادی کی اور سیا کمار جن کی شادی آدتیہ سے ہوئی ہے۔

فلمی فیصلے اور کیریئر پر اثر

کمار گورو نے کچھ کامیاب فلموں کے بعد اپنے مقابل اداکارہ خود طے کرتے۔ انہوں نے اس وقت کی نئی اداکاراؤں کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا۔ جس کہ وجہ سے انہوں نے کئی بہترین کہانی کو نظر انداز کیا۔

جس کی وجہ سے انہوں نے چاکلیٹ چہرہ ہیرو کی شناخت کو گنوا بیٹھے۔ ان کی فلموں میں ان کے مد مقابل اسٹارز ہیروئن ہوا کرتی تھیں۔ جن میں پونم ڈھلون، رتی اگنی ہوتری، مادھوری ڈکشٹ اور بھی دیگر۔

مشہور فلمیں

کمار گورو کی کچھ مشہور فلمیں:

  • Love Story (1981)

  • Teri Kasam (1982)

  • Star (1982)

  • Romance

  • Hum Hain Laajawab

  • Janam

  • Naam

  • Phool

  • Kaante

  • Goonj


خوبصورت دلکش آواز کی ملکہ،بہترین گلوکارہ بالی کی مشہور اداکارہ سلکھشنا پنڈت


بہترین کرداروں کے ذریعے شناخت بنانے والا اداکار نوازالدین صدیقی-

متعلقہ خبریں

Back to top button