سیاسی و مذہبی مضامین

جن پر بچے پیدا کرنے کا الزام ہے وہ بچہ چور بن گئے-محمد مصطفی علی سروری

میگھا راج کالے کون ہیں اور ان کی بچی کو اٹھا لینے والا کون تھا اور پھر وہ شخص کون تھا جس نے میگھا راج کو رات کے آخری پہر جگاکر ان کی بچی کو اٹھا لینے کی اطلاع دی؟

یہ 3؍ جون 2023 کی بات ہے جب حسب معمول میگھاراج کالے اپنے خاندان کے ساتھ آرام کر رہے تھے۔ رات کے ساڑھے تین بجے تھے اچانک کسی نے میگھا راج کو نیند سے جگایا اور بتلایا کہ جب و سورہے تھے تو اس وقت کسی نے ان کے بازو لیٹی ہوئی بچی کو اٹھا لیا ہے۔

میگھا راج کالے کون ہیں اور ان کی بچی کو اٹھا لینے والا کون تھا اور پھر وہ شخص کون تھا جس نے میگھا راج کو رات کے آخری پہر جگاکر ان کی بچی کو اٹھا لینے کی اطلاع دی؟

قارئین ان سب سوالات کے جوابات ہمیں حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ میں مل جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق میگھا راج کالے کی عمر 40 برس ہے۔ اس کا آبائی مقام کرناٹک ہے لیکن وہ پچھلے 30 برسوں سے سکندر آباد میں مقیم ہے۔ قارئین میگھا راج کیا کام کرتا ہے؟ وہ بھی جان لیجئے۔ میگھا راج غبارے بیچتا ہے۔ جی ہاں پچھلے 30 برسوں سے وہ یہی کام کرتا آرہا ہے۔ اب غبارے بیچنے والے کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا تو میگھا راج بھی سکندر آباد میں دادو سویٹ ہائوز کے قریب فٹ پاتھ پر اپنی بیوی کے ساتھ رہتا ہے۔ میگھا راج کے خاندان میں بیوی کے علاوہ سات بچے ہیں۔ جی ہاں، دو ایک نہیں بلکہ سات بچے ہیں۔

جو اس کے ساتھ ہی 3؍ جون کی رات فٹ پاتھ پر آرام کر رہے تھے کہ ساڑھے تین بجے صبح کے وقت ایک برقعہ پوش خاتون اور ایک باریش شخص آٹو میں وہاں آتے ہیں اور میگھا راج کالے کی ایک ساڑھے تین سال کی لڑکی کو اٹھاکر اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔ سڑک پر چلنے والے ایک اجنبی شخص نے یہ سارا واقعہ دیکھنے کے بعد جگاکر میگھا راج کو بتلایا کہ ان کے بازو سے کسی نے لڑکی کو اٹھا لیا ہے۔ تب میگھا راج کالے اجنبی کے ساتھ اس کی ٹو وہیلر گاڑی پر اپنی لڑکی کی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن تب تک وہ آٹو جس میں برقعہ پوش خاتون نے لڑکی کو اٹھایا تھا وہاں سے چلی گئی۔

میگھا راج کالے فوری طور پر سکندر آباد کے مہان کالی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرواتا ہے اور اپنی لڑکی کو ڈھونڈنے کے لیے پولیس کی مدد طلب کرتا ہے۔ مہانکالی پولیس اسٹیشن نے میگھا راج کی شکایت پر ایک کیس کرائم نمبر 100/2023 انڈر سیکشن 363 آف آئی پی سی کے تحت درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا اور حیدرآباد کی مستعد و چست پولیس نے چند گھنٹوں میں ہی میگھا راج کی ساڑھے تین سالہ لڑکی کو برآمد کرتے ہوئے 36 سالہ آٹو ڈرائیور شیخ عمران اور 30 سالہ پروین نامی خاتون کو گرفتار کرلیا۔ ان لوگوں نے میگھاراج کی ساڑھے تین سالہ لڑکی کرشمہ کے علاوہ سلطان بازار کے علاقے میں فٹ پاتھ سے ہی سات مہینے کے لڑکے شیو کمار کو بھی اغواء کیا تھا۔

پولیس کے مطابق عمران اور پروین فٹ پاتھ پر سونے والوں کے بچوں کا اغواء کر تے ہوئے ان کو دو لاکھ روپیوں کے عوض فروخت کر کے بھاری رقم کمانا چاہتے تھے۔ لیکن شہر حیدرآباد کے سی سی ٹی وی کیمروں سے کوئی بھی محفوظ نہیں اور مجرموں کا پولیس نے انہیں کیمروں سے آسانی سے پتہ لگا کر مغویہ بچوں کو ان کے حقیقی والدین کے حوالے کردیا۔
قارئین پولیس کا پریس نوٹ تو ان ساری تفصیلات کے ساتھ ختم ہوگیا لیکن اس سارے واقعہ

میں جو چیز مجھے توجہ کے قابل لگی وہ میگھاراج کی شخصیت تھی۔ 40 سال کا یہ جوان پچھلے 30 برسوں سے شہر کے چوراہوں اور ٹریفک سگنلوں پر غبارے فروخت کر کے اپنی زندگی بسر کر رہا ہے اور اس شخص کی دو ایک نہیں بلکہ پوری سات اولادیں ہیں۔ اپنے سات بچوں اور بیوی کے ساتھ یہ لب سڑک زندگی گزار رہا ہے۔

حالانکہ اسلاموفوبیا کا شکار میڈیا مسلسل راگ الاپتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے اور پچیس بچے پیدا کرتا ہے۔ مگر اب تو شہر کے ان مسلم علاقوں میں جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں ہر مسلمانوں کے ہاں دو یا زیادہ سے زیادہ چار بچوں سے آگے بات نہیں بڑھتی ہے اور اس کے برخلاف غیر قوم کا غبارہ فروخت کرنے والا بھی سات بچے پیدا کر لیتا ہے۔ کیا یہ ایک اکلوتی مثال ہے۔ جی نہیں۔

مشہور کرکٹر سارو گنگولی کے والد کا نام چندی داس گنگولی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں ازراہ مذاق کہا تھا کہ ان کے گھر میں ان کے چھ بھائی اور پانچ بہنیں ہیں اور وہ سب مل کر ہی انڈیا کی ایک کرکٹ ٹیم بناسکتے تھے۔ (بحوالہ اسپورٹس کیئر)

امریکی ریاست پن سلوانیا کی رہائشی خاتون مارگریٹ کولر کی عمر 99 برس تھی اور انہیں اگست 2022 کے دوران اپنے 100 ویں پڑپوتے کی صورت دیکھنے کو ملی تھی۔ مارگریٹ کولر اگرچہ ایک بیوہ ہیں لیکن ان کے گیارہ بچے ہیں اور 50 پوترے اور نواسے ہیں۔ People نامی میگزین سے بات کرتے ہوئے مارگریٹ کولر نے بتلایا کہ 4؍ اگست 2022 کو ان کے ہاں پڑپوتے کی پیدائش ہوئی جس کا نام بے بی کولر ولیم بالٹر رکھا گیا ہے۔

اس ننانوے برس کی خاتون نے اپنا خاندان بڑا رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اکیلے رہنا بڑا مشکل کام ہے۔ (بحوالہ این ڈی ٹی وی ۔ 16؍ اگست 2022 کی رپورٹ)
زیوناچانا کی عمر 76 برس تھی۔ چانا کا تعلق شمال مشرقی ریاست میزورام سے ہے۔ اس شخص کا 13؍ جون 2021ء کو انتقال ہوگیا۔ وہ ایک مذہبی گروہ سے تعلق رکھتا تھا جس کے ہاں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت ہے۔ قارئین دلچسپ بات تو یہ تھی کہ زیوناچانا نے اپنے پسماندگان میں 38 بیویاں 89 بچے اور 36 پوترے پوتیاں شامل ہیں۔

نیوز 18 نے 16؍ نومبر 2022 کو This Big Indian joint family has 72 members کی سرخی کے تحت ایک خبر شائع کی تھی۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ شولاپور، مہارشٹرا سے تعلق رکھنے والی ایک مراٹھا خاندان کے اراکین کی تعداد 72 ممبران ہے۔ بی بی سی مراٹھی کے حوالے سے خبر میں لکھا گیا کہ اشون ڈوینجوٹی جو اس خاندان سے تعلق رکھتی ہے نے کہا کہ ان کا خاندان بڑا ہونے کی وجہ سے ان کی ضروریات بھی بہت زیادہ ہے۔ ان کے گھر میں ہر روز 10 لیٹر دودھ کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ ترکاریوں کی خریدی کے لیے ایک ہزار تا بارہ سو روپئے خرچ ہوتے ہیں۔

سال بھر کے لیے چاول اور دالوں کے 40 تا 50 تھیلے خریدے جاتے ہیں۔ حالانکہ اس خبر میں ایک فرد کی اولاد کے حوالے سے تو کوئی وضاحت نہیں تھی۔ مگر مشترکہ خاندان میں 72 ممبران کی موجودگی کی تصدیق کی گئی تھی۔

عام طور پر مسلمانوں کی ایک سے زائد شادیوں اور کثیر العیال ہونے کو میڈیا نمایاں طور پر پیش کرتا ہے لیکن ایسے اور بھی افراد اور کہانیاں ہیں جو مسلمان نہیں مگر ایک سے زائد شادیاں کرتے ہیں۔

یوگینڈا کے 68 سالہ موسیٰ ہسایہ کیسرا کے حوالے سے بی بی سی لندن نے 7؍ فروری 2023 کو ایک خبر دی تھی۔ یوگینڈا کے اس شخص کے متعلق رپورٹ میں لکھا تھا کہ موسیٰ نے 12 شادیاں کیں اور 102 بچے پیدا کیے۔ موسیٰ کی پہلی شادی 17 برس کی عمر میں 1972ء میں ہوئی تھی۔ شادی کے ایک سال بعد موسیٰ کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ اپنے بھائی اور رشتہ داروں کے مشوروں پر چل کر موسیٰ نے اپنے خاندان کی ترقی کے لیے مزید شادیاں کیں اور یوں وہ گذشتہ 51 برسوں کے دوران 102 بچوں کے باپ بن گئے۔

فٹ پاتھ پر غبارے بیچنے والوں سے لے کر دنیا بھر میں ایسی سینکڑوں مثالیں جو مذہب کے اعتبار سے مسلمان نہیں لیکن بیک وقت کئی شادیاں اور کئی بچے پیدا کرتے ہیں۔ لیکن برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر اور بدنامی انہی کے حصے میں آتی ہے۔

ہمارے ملک میں ایسی کئی ایک سیاسی شخصیات بھی ہیں جن کے ہاں خود کئی بچے ہیں یا جو خود کئی بھائی بہنوں میں سے ایک ہیں۔

قارئین اب سوال اٹھتا ہے کہ ان سب مثالوں اور حوالوں سے کیا سیکھا جاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے کچھ لوگ ہر پلیٹ فارم سے ہر طرح کی سازشیں رچ رہے ہیں اور مسلمان جو کہ سب سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے بدنام کردیئے گئے وہ راتوں میں چوری چھپے بچوں کو چوری کر کے فروخت کرتے ہوئے پکڑے جارہے ہیں۔

ضرورت ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں۔ تعلیم کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کرتے ہوئے دورِ حاضر اور مستقبل کے چیالنجس سے نمٹنے کے لیے تیاری کریں۔

اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو اپنی ترجیحات از سر نو طئے کرنے اور دشمنوں کی سازش سے محفوظ رہنے کے لیے تدابیر اختیار کرنے والا بنادے ۔ آمین۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button