قومی خبریں

شمالی ہندوستان کی جیلوں میں بند 10-12 گینگیسٹروں کو انڈمان جیل بھیجنے کی تیاری

شمالی ہندوستان کی جیلوں میں بند 10 سے 12 گینگیسٹر کو انڈمان اور نکوبار جیل منتقل کرنے کی تیاری چل رہی ہے

نئی دہلی،۲؍جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) شمالی ہندوستان کی جیلوں میں بند 10 سے 12 گینگیسٹر کو انڈمان اور نکوبار جیل منتقل کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ درحقیقت ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا ہے، جس میں دہلی کے ساتھ پنجاب اور ہریانہ کی جیلوں میں قید ان مجرموں کو انڈمان جیل بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق، این آئی اے گینگیسٹروں کو آسام کی ڈبروگڑھ سینٹرل جیل میں منتقل کرنے کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہے، جہاں ’وارث پنجاب دے‘ کے سربراہ امرت پال سنگھ اور ان کے ساتھی اس وقت بند ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں گینگ وار اور جیل کے اندر بدمعاشوں پر حملے کے بعد این آئی اے اس قدم پر غور کر رہی ہے۔ اسی لیے ایجنسی نے بدنام زمانہ گینگسٹر کو شفٹ کرنے کے لیے مرکز کو خط لکھا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تجویز گینگسٹروں کو جنوبی ہندوستان کی جیلوں میں منتقل کرنے کی تھی، لیکن یہ ایک طویل عمل ہوگا کیونکہ ریاستی حکومتوں سے اجازت لینی ہوگی۔ ذریعہ نے کہا، ”چونکہ انڈمان اور نکوبار جزائر ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے، اور اس کی انتظامیہ وزارت داخلہ کے تحت آتی ہے، اس عمل میں کم وقت لگے گا۔ ایجنسی فی الحال قانونی رائے بھی طلب کر رہی ہے۔اس سے قبل، وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں، این آئی اے نے شمالی ہندوستان کی جیلوں سے کم از کم 25 گینگیسٹروں کو جنوبی ریاستوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پنجابی گلوکار سدھو موسی والا کے قتل کے مرکزی ملزم لارنس بشنوئی کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ لارنس بشنوئی کے علاوہ جن اہم گینگیسٹروں کی نگرانی کی جارہی ہے ان میں حاکم بابا چھینو، کوشل چودھری، امریک شامل ہیں جو دہلی، پنجاب اور ہریانہ کی جیلوں میں بند ہیں۔

دہلی، پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے تقریباً 150 مجرموں کی فہرست تیار کی جا رہی ہے، جنہیں سکیورٹی کے پیش نظر دور دراز ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کیا جائے گا۔ حساس قیدیوں کی منتقلی پر این آئی اے اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام نے ایک اہم میٹنگ کی ہے۔2018 اور 2019 میں بھی جموں کی کٹھوعہ جیل اور سری نگر جیل سے قیدیوں کو دہلی اور پنجاب کی جیلوں میں لایا گیا تھا، این آئی اے اور وزارت کے اہلکار بھی اس عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔گینگیسٹروں کو دوسری جیلوں میں منتقل کرنے کے عمل میں پہلے مرحلے کے تحت شمالی ہندوستان کی جیلوں میں بند 10 سے 12 گینگیسٹروں کو انڈمان اور نکوبار جیل منتقل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔مارچ میں، بشنوئی، جو اس وقت بھٹنڈہ جیل میں تھے، نے موسی والا کی برسی سے ایک دن پہلے ایک نیوز چینل کو ایک ویڈیو انٹرویو دیا۔ انٹرویو نشر ہونے کے فوراً بعد پنجاب حکومت نے کہا تھا کہ یہ انٹرویو بٹھنڈہ جیل یا پنجاب کی کسی اور جیل سے نہیں دیا گیا۔ لیکن ذرائع نے بتایا کہ جب بشنوئی اپریل میں این آئی اے کی حراست میں تھا، اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے یہ انٹرویو پنجاب کی جیل سے دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button