ہریانہ تشدد:مدرسے کے بچوں کے لئے فرشتہ ٔرحمت بنے مقامی سکھ
نوح میں تشدد کے ایک دن بعد، تشدد گروگرام اور ہریانہ کے دیگر اضلاع میں بھی پھیل گیا۔
گروگرام،3اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) نوح میں تشدد کے ایک دن بعد، تشدد گروگرام اور ہریانہ کے دیگر اضلاع میں بھی پھیل گیا۔ اس دوران گروگرام کے سوہنا میں بنی مسجد بھی فرقہ پرست شرپسند ٹولے کے ہجوم کا نشانہ بن گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 70-100 لوگوں کے ہجوم نے اس جگہ پر توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران مسجد کے اندر بنے مدرسے میں پڑھنے والے 10-12 بچوں اور امام کے اہل خانہ کی زندگیوں میں بحران پیدا ہو گیا۔اس دوران ان کے پڑوس میں رہنے والے مقامی سکھ برادری کے لوگ آگے آئے اور اپنی جان کی بازی لگاکر ان کے مال و جان کی حفاظت کی۔ مسجد کے امام کے مطابق تشدد شروع ہوتے ہی سکھ برادری کے لوگ آگے بڑھے اور مسجد میں پھنسے ان لوگوں کو بحفاظت باہر نکالا۔ گروگرام کی شاہی مسجد کے نام سے مشہور اس مسجد میں کچھ خاندانوں کے لیے کمرے اور بچوں کے لیے کلاس روم بنائے گئے تھے۔
منگل (1 اگست) کو ایک ہجوم نے اس مسجد پر حملہ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ مقامی لوگوں کی شکایت پر نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ مسجد میں اپنے چار بھائیوں کے ساتھ رہنے والے امام کلیم نے بتایا کہ یہاں کل 30 لوگ رہتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب خوفزدہ تھے لیکن چونکہ پولیس نے امن برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں فلیگ مارچ کیا تھا، اس لیے ہمیں کسی بھی خطرے کے بارے میں یقین تھا، لیکن جب ہم نے 2.15 بجے فائرنگ کی آواز سنی تو ہم باہر نکل آئے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے وہاں دیکھا کہ فرقہ پرستوں کا ہجوم لاٹھیوں، سلاخوں اور خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ ہماری طرف دوڑ رہا ہے۔
امام کلیم مزید بتاتے ہیں کہ اتنے بڑے ہجوم کو اپنی طرف آتے دیکھ کر ہم ڈر گئے اور گھر کے تمام افراد کے ساتھ چھپ کر بیٹھ گئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں لگ رہا تھا کہ آج ہمیں مار دیا جائے گا، کیونکہ وہ پہلے ہی اس کمرے کے قریب پہنچ چکے تھے ،جہاں ہم چھپے ہوئے تھے لیکن ہمارے محلے میں رہنے والے مقامی لوگ بروقت پہنچے اور ہمیں وہاں سے نکال لیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے اس ہجوم کو روکا اور خواتین اور بچوں کو بھی بچایا، اس کے ساتھ ہی پولیس بھی 10 منٹ میں جائے واردات پر پہنچ گئی۔



