سرورققومی خبریں

سماج میں نفرت انگیزی کیخلاف سپریم کورٹ نے مرکز سے تجویز کیا طلب

نوح میوات تشدد کے بعد مہاپنچایت میں مسلمانوں کیخلاف بائیکاٹ کی مہم کے تعلق سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل

نئی دہلی،11اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) نوح میوات تشدد کے بعد مہاپنچایت میں مسلمانوں کیخلاف بائیکاٹ کی مہم کے تعلق سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔سپریم کورٹ نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم پر سخت ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ نفرت انگیز جرم اور نفرت انگیز تقریر مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ایسا میکنزم تیار کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ ہمیں اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ نے ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مرکز سے تجویز طلب کی ہے۔ فی الحال سپریم کورٹ نے ریلیوں وغیرہ پر پابندی کا حکم دینے سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں سے کہا ہے کہ وہ تحسین پونا والاکیس کے فیصلے کے مطابق اپنے پاس دستیاب نفرت انگیز تقریر کا مواد نوڈل افسر کو دیں۔نوڈل آفیسر کمیٹی کو اس طرح کی شکایات کے ازالے کے لیے وقتاً فوقتاً ملاقات کرنی چاہیے۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ ہم ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کو کہیں گے جو مختلف علاقوں کے ایس ایچ اوز سے نفرت انگیز تقاریر کی شکایات کا جائزہ لے گی، ان کے مواد کی جانچ کرے گی اور متعلقہ پولیس افسران کو اس بارے میں مطلع کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button