قومی خبریں

کشمیر: ناسازیٔ موسم کے باعث سیب پیداوار میں 50 فیصد کمی واقع

ممالک کے بیوپاری بھی مال خریدنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔

سری نگر ،30اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)وادی کشمیر میں امسال گرچہ سیبوں کی مانگ عروج ہے تاہم نا ساز گار موسمی صورتحال کی وجہ سے پیدا وار میں کم سے کم 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ وسط ضلع بڈگام کے تاریخی قصبہ چرار شریف سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم ڈار نامی ایک باغ مالک کا کہنا ہے کہ ماہ جولائی میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں بیماری لگنے سے فصل تباہ ہوئی۔انہوں نے بتایاکہ درختوں پر شگوفے برجستہ پھوٹے تھے کہ بیماری لگنے سے مرجھا کر گر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے متعلقہ محکمے کی ہدایات پر باغوں کی وقت وقت پر دوا پاشی بھی کی لیکن شگوفے درختوں سے گرتے رہے جس کے نتیجے میں پیدا وار میں کم سے کم 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔

تاہم موصوف نے امسال مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور اچھے بھائو سے اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو اچھا فائدہ ہونے کی توقع ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ امسال مارکیٹ میں کافی ڈیمانڈ ہے پیشگی آرڈر مل رہے ہیں اور فصل اتارنے سے پہلے ہی مختلف ریاستوں کے بیو پاری آ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سال بابوگوشہ ناشپاتی کے ایک ڈبے کو 8 سے 11 سو روپیے میں فروخت کیا گیا جس کو سال گذشتہ زیادہ سے زیادہ 5 سو روپیے میں بیچا گیا تھا اس قسم کی ناشپاتی کو دلی کی منڈی میں سپلائی کیا جاتا ہے ۔ عبدالقیوم نے کہا کہ چرار شریف کی منڈی میں ممبئی، بنگلور، دہلی اور دیگر ریاستوں کے بیوپاری آ رہے ہیں جو ان کو امریکہ، بنگلہ دیش، نیپال وغیرہ جیسے ملکوں کو بر آمد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے بیوپاری بھی مال خریدنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ سال گذشتہ اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو بے تحاشا نقصان اٹھانا پڑا لیکن امسال ہمیں پوری امید کہ ایسا نہیں ہوگا اور حکام مال کو ملک کی دوسری ریاستوں تک پہنچانے میں قومی شاہراہ پر میوہ سے لدی گاڑیوں کی ہموار نقل وحمل کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر انتظامات کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button