سیاسی و مذہبی مضامین

تبصرہ کتاب،شاہین اردو

مرتب : مصطفی علی سروری(اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ترسیل عامہ و صحافت مانو)

تبصرہ کتاب
نام کتاب : شاہین اردو (حصہ اول)
مرتب : مصطفی علی سروری(اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ ترسیل عامہ و صحافت مانو)
مبصر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی( اسوسی ایٹ پروفیسر اردو ۔ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد)

ہندوستان میں اردو سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جو یونیورسٹیاں قائم ہیں ان میں حیدرآباد دکن میں واقع مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اب عالمی شناخت بنا چکی ہے۔ اس یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت سے وابستہ اسوسی ایٹ پروفیسر جناب مصطفی علی سروری صاحب ایک مثالی استاد ہیں۔ جو نہ صرف اپنے شعبہ میں طلباء کو صحافت پڑھاتے ہیں بلکہ خود صحافت سے وابستگی کا ثبوت دیتے ہوئے ہر اتوار روزنامہ سیاست اور منصف میں اہم سماجی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔ ان کے کالم قومی و بین الاقوامی سطح پر مقبول ہیں۔ اردو کے بہت سے اساتذہ ملازمت برائے ملازمت کرکے گمنامی میں زندگی گزارتے ہوئے ملازمت سے سبکدوش ہوکر بے نام دنیا سے گزر جاتے ہیں لیکن کچھ اساتذہ اپنے پیشے کا حق ادا کرتے ہیں اور دوران ملازمت اپنی گوناگوں سرگرمیوں سے عملی زندگی کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ اور ملک و قوم کی افادیت کا باعث بنتے ہیں۔

مصطفی علی سروری صاحب کا شمار بھی ایسے ہی عملی نمونہ پیش کرنے والے مثالی اساتذہ میں ہوتا ہے۔صحافتی مضامین لکھنا مصطفی علی سروری کا شوق ہے۔وہ حیدرآباد کی نئی نسل کہ ایسے صحافی ہیں جنہیں زمانہ طالب علمی سے ہی اردو صحافت سے دلچسپی رہی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی سی جے ایم سی جے کی تعلیم حاصل کی۔ نامور استاد صحافت رحیم خان صاحب کے شاگرد رہے۔ انہوں نے پروفیسرافضل الدین اقبال مرحوم عثمانیہ یونیورسٹی کے زیر نگرانی ایم فل اردو کے لئے تحقیقی مقالہ ’’ حیدرآباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائیــ میں‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔ جو بعد میں ترمیم و اضافہ کے ساتھ نوبل انفوٹیک حیدرآباد کے زیر اہتمام کتابی صورت میں شائع ہوا۔

سیاست اور اب منصف اخبار نے انہیں اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ اور ہر اتوار سماجی ـسیاسی اور حالات حاضرہ کے موضوعات پر بے لاگ تبصروں کے ساتھ شائع ہونے والے ان کے مضامین اردو اخبار کے قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔ گزشتہ کئی سال سے انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر خون کا عطیہ کیمپ کا کامیابی سے انعقاد عمل میںلایا۔ وہ حیدرآباد کے ٹی ٹی وی خانگی چینل پر مختلف ماہرین سے کیریر گائڈنس لیکچرز اور براہ راست سوال و جواب کے پروگرام منعقد کرتے ہیں۔اپنے فیس بک پیج پر سماج کے مختلف طبقات میں نام روشن کرنے والے نوجوانوں کے براہ راست انٹرویو منعقد کرتے ہیں۔آئی ایم سی مانو پر اساتذہ اردو اور نامور شخصیات کے انٹرویو کرتے ہیں۔ اپنے دوست اعجاز علی قریشی اور دیگر کے ساتھ گزشتہ کئی سال سے مانو المونی اسوسی ایشن کے تحت تلنگانہ کے ڈگری کالجوں میں دورہ کرتے ہوئے طلباء کو اردو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے رہبری پروگرام منعقد کرتے ہیں۔

صحافت سے متعلق سمیناروں میں شرکت اور اپنے خیالات کے اظہار کے ساتھ وہ عملی طور پر کچھ نہ کچھ کرنے کی جسجتو رکھتے ہیں۔ ایک عملی استاد کے طور پر وہ اپنے شاگردوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں اظہار خیال کی دعوت دیتے ہوئے مختلف عنوانات پر کتابوں کو مرتب کرکے شائع کراتے رہتے ہیں۔ مصطفی علی سروری صاحب کی صحافت اور دیگر موضوعات پر لکھی گئی اور مرتبہ اب تک ایک درجن سے زائد کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کووڈ دور میں تعلیم کے مسائل پر ایک مرتبہ کتاب شائع کی تھی۔ جس میں انہوں نے عالمی وبا کووڈ کے دوران طلباء کی تعلیم متاثر ہونے پر ملک بھر سے مانو کے مختلف طالب علموں سے تاثراتی مضامین لکھوا کر کتابی شکل میں شائع کیے تھے۔ ان کی تازہ تصنیف ’’شاہین اردو(حصہ اول‘‘سال2023نوبل انفوٹیک حیدرآباد کے زیر اہتمام نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔کتاب کے پیش لفظ میں اس کتاب کے تعارف اور اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے مصطفی علی سروری لکھتے ہیں کہ’’گزشتہ بارہ تیرہ برسوں کے دوران مولانا آزاد نشینل اردو یونیورسٹی کا اور شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کا تعارف کروانے طلبہ برادری میں شعور بیداری کے لیے پروگرام منعقد کرنے کے دوران عوام الناس اور خاص کر طلبہ برادری نے میری ہر اس تحریر اور تقریر میں دلچسپی کا اظہار کیا جس میں میں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے فارغین کی کامیابیوں کا ذکر کیا اس پس منظر میں مجھے یہ ایک بہترین طریقہ لگا جس میں ہم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے فارغین کی کامیابیوں پر مبنی تجربات اور تحریروں کو جمع کروں ۔۔انجمن طلبائے قدیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی المونی اسوسی ایشن نے ڈین المونی آفس کے ساتھ مل کر ایک سمینار منعقد کیا جو دسمبر2021ء میں سی پی ڈی یو ایم ٹی آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا۔انجمن طلبائے قدیم کے سالانہ اجلاس کے ساتھ ساتھ سمینار کے انعقاد کا مقصد مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے فارغین کی جدوجہد اور کامیابی کو ضبط تحریر میں لانا تھا۔

آج شاہین اردو کے نام سے کتابی شکل میں جو مواد آپ حضرات پڑھ رہے ہیں بنیادی طور پر اسی سمینار میں پڑھے گئے مقالوں کا حاصل ہے‘‘( ص۹۔۸) اپنے پیش لفظ کے آخر میں سروری صاحب نے اس امید کا اظہار کیا کہ اردو میں فاصلاتی اور روایتی طرز پر تعلیم فراہم کرنے کے لیے1998ء میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت قائم کردہ اردو یونیورسٹی سے استفادے کے لیے آنے والے طلباء کی رہبری کے لیے یہ کتاب موثر ثابت ہوگی اور اردو زبان کا فروغ ممکن ہوگا۔ مصطفی علی سروری صاحب نے جب سے بہ حیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر اردو یونورسٹی میں اپنی ملازمت شروع کی ہے ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ عملی طور پر اس یونیورسٹی کا تعارف سماج کے مختلف طبقات سے کراتے رہیں اس کے لیے انہوں نے جناب اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ کے ہمراہ اپنے رفیقوں کے ساتھ جہاں عملی طور پر مسلسل پروگرام کئے وہیں کتابوں کی ترتیب اور اشاعت کے ذریعے بھی یونیورسٹی کے پیغام کو عام کیا۔ ان کی یہ خصوصیت شائد ہی کسی اور یونیورسٹی کے استاد اور طالب علم نے پیش کی ہو۔ اور اس کے ثمرات ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنوبی ہند حیدرآباد میں قائم اس یونیورسٹی میں کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک ہندوستان کے مختلف صوبوں سے طلبا کی کثیر تعداد یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں داخلے لے کر خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کرکے زندگی کے عملی میدان میں قدم بڑھا رہی ہے۔ یہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامیہ کے لیے اپنی محنت کے ثمرات سے کم نہیں۔ شاہین اردو کے لیے یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے ’’تو رہ نورد شوق ہے‘‘ کے عنوان سے اپنے مبارکبادی پیغام میں اس امید کا اظہار کیا کہ اس سمینار میں پڑھے گئے مقالے اور کتابی صورت میں ان کی اشاعت یونیورسٹی سے اردو میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہوگی۔ یونیورسٹی سے ہزاروں طلباء فارغ ہوتے ہیں۔ المونی اسوسی ایشن کا حصہ ہوتے ہیں لیکن عملی تعلق کا اظہار نہیں کرتے۔

لیکن مانو المونی اسوسی ایشن کے صدر جناب اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ حیدرآباد نہ صرف شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے طالب علم رہے بلکہ اپنے استاد مصطفی علی سروری صاحب اور دیگر المونی ساتھیوں کے ساتھ انہوں نے گزشتہ دس دسال سے اردو یونیورسٹی کے تعارفی پروگرام منعقد کرنے اور اضلاع کے طلباء کو یونیورسٹی کے مطالعاتی دوروں کے لیے مالی امداد کرتے ہوئے یونیورسٹی کے مثالی سابقہ طالب علم المونی ہونے کا ثبوت دیا ہے اس کتاب میں اظہار تشکر سے انہوں نے اردو یونیورسٹی سے عملی طور پر اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ مصطفی علی سروری صاحب نے اس کتاب’’شاہین اردو(حصہ اول) میں جن طلبائے قدیم کے تاثراتی مضامین شامل کیے ہیں ان میں محمد اعجاز الدین احمد عاجز اردو آفیسر حکومت تلنگانہ‘ مرزا غنی بیگ سب ایڈیٹر نیوز18‘ ڈاکٹر تبریز حسین تاج‘ ڈاکٹر محمد عبدالعلیم گیسٹ فیکلٹی نظامت فاصلاتی تعلیم مانو‘ ظہور حسین بٹ‘ سید عبدالقیوم جونیر لیکچرر‘ میر فراست علی خان جدہ سعودی عرب‘ ڈاکٹر روبینہ اسٹنٹ پروفیسر تعلیم و تربیت مانو‘عبدالرحمٰن پاشا حیدرآباد‘ ہاشمی شعیب قمر الدین سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹیو آفیسر مہاراشٹرا اردو ساہتیہ اکیڈیمی منترالیہ ممبئی‘ محمد عبدالودود ریسرچ اسکالر‘ ذیشان سارہ اسٹنٹ پروفیسر اسلامک اسٹڈیز مانو‘محمد کیف‘ ابرار احمد جموں‘ سید محسن عثمانی دہلی‘ محمد خواجہ مجتہد الدین اسکول اسسٹنٹ سدی پیٹ‘ ڈاکٹر ابو مظہر خالد صدیقی ڈائرکٹر جودہ انفوٹیک پرائیوٹ لمیٹیڈ‘ ڈاکٹر شرافت حسین کو فائونڈر اینڈ ڈائرکٹر ٹچ دبئی‘ مندوزی محفوظ علی خان سینیر پروسیس اسوسی ایٹ انفوسیس‘عارض امتیاز‘ سید انوار اللہ حسینی ڈیٹا سائنس انجینیرایپل‘ افسر بیگم گورنمنٹ ٹیچر‘ اسد نقوی پراجیکٹ انجینر ویپرو‘ عبدالقادر ٹیم مینیجر امیزان انڈیا‘ خالد باقلیح‘ثمر آفرین‘ شاہد بابا‘ اظہر النساء گورنمنٹ ٹیچر حیدرآباد‘ محمد وکیل احمد‘ ڈاکٹر مزمل احمد بابااور شجاع الدین نظام الدین چھبر بن شامل ہیں۔

مانو سے فارغ ان طلباء کے بیشتر نام اب ہمارے سماجی حلقوں میں شہرت حاصل کر رہے ہیں۔ کسی بھی یونیورسٹی خاص طور سے اردو یونیورسٹی کی کامیابی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ دیکھا جائے کہ اس یونیورسٹی کے فارغین حصول تعلیم کے بعد اپنی عملی زندگی میں کس قدر کامیاب ہیں۔ شاہین اردو کتاب میں اپنی کامیابیوں کے تذکرے کے ساتھ جو اسکالر شامل ہوئے ہیں ان کے مضامین کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس یونیورسٹی نے نہ صرف انہیں روزگار سے جڑنے کی صلاحیت فراہم کی ہے بلکہ جس زبان میں انہوں نے یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اس میں اظہار خیال کی صلاحیت بھی دی ہے۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے اردو مترجمین کے تقررات عمل میںلائے گئے تھے۔ اس ملازمت پر منتخب ہونے والے محمد اعجاز الدین احمداپنے مضمون ’’اردو ذریعہ تعلیم ہماری کامیابی کا راز ‘‘ میں اردو کے تعلق سے لکھتے ہیں’’ اردو وہ زنجیر ہے جو بلا لحاظ مذہب وملت سب کو باندھ لیتی ہے۔یہ وہ زلف ہے جس کے اسیر صرف میر و غالب ہی نہیں بلکہ چکبست و دیاشنکر بھی رہے ہیں۔اردو عہدہ نہ دے دولت نہ دے لیکن زندگی دیتی ہے‘‘۔ ( ص ۱۸) اعجاز الدین احمد نے اردو کے حوالے سے بڑی بات کی ہے کہ اردو تہذیب و زندگی دیتی ہے جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔اس کتاب میں شامل مشمولات اور ان کے لکھنے والوں کے عہدوں سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر فارغین مانو پیشہ تدریس سے یا تو خود اردو یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے یا سرکاری اسکولوں یا کالجوں میں منتخب ہوئے۔کچھ میڈیا گھرانوںسے جڑ گئے تو کچھ ملک و بیرون ملک آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں ملازم ہوئے اور جب انہیں تاثرات پیش کرنے کے لیے کہا گیا تو لکھنے کے قابل بھی رہے۔

اس کتاب میں مضامین لکھنے والوں نے اردو ذریعے تعلیم اور مانو میں تعلیم کو اپنے لیے باعث فخر قرار دیا ہے جو یونیورسٹی میں آنے والے طالب علموں کے لیے رہبری کا باعث ہوگا۔اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے فارغ اور عملی صحافت میں کارہائے نمایاں انجام دینے والوں میں مرزا غنی بیگ اور رحمٰن پاشا کے نام اہم ہیں۔نیوز 18سے وابستہ مرزا غنی بیگ نے اپنے مضمون’’ اردو نے ہی مجھے ترقی و شہرت عطا کی ہے‘‘ میں اپنے صحافتی سفر اور اردو سے وابستگی کو تفصیلی طور پر پیش کیا ہے۔ مرزا غنی بیگ کی زندگی کے حالات اردو صحافت کو اپنا پیشہ اختیار کرنے والے نئے صحافیوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گے۔مرزا غنی بیگ نے لکھا کہ انہوں نے فاضل حسین پرویز مدیر گواہ‘راشٹریہ سہارا‘ ای ٹی وی اردو کے بعد نیوز 18ڈاٹ کام پر ملازمت کی ہے۔ اپنی موجودہ ذمہ داری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ نیوز 18ڈاٹ کام پر خدمات انجام دینے کے دوران مجھے اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ کسی بھی اردو پورٹل پر کام کرتے ہوئے ہمیں نہ صرف اپنی ویب سائٹ بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے کہ کونسی خبر کونسے پلاٹ فارم سے قاری کو اپنی ویبس سائٹ پر لاسکتی ہے۔

اب میں نیوز18اردو کی ڈیجیٹل ٹیم کی قیادت کر رہا ہوں ساتھ ہی ساتھ2020سے میں نے انگریز میں لکھنا شروع کیا ۔۔ پہلے میں نے اردو کے ساتھ ساتھ تلگو زبان میں مہارت حاصل کی ہے بعد میں میں نے انگریزی زبان سیکھی اور اب ہندی زبان سیکھ رہا ہوں‘‘ ( ص۲۹)  مرزا غنی بیگ اردو یونیورسٹی سے فارغ ایک محنتی اور مثالی صحافی ہیں۔ ان کے احوال پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اردو صحافیوں کو دیگر زبانوں پر بھی عبور رکھنا کتنا ضروری ہے اور اپنے قلم سے کس طرح ہم اپنے موافق حالات بنا سکتے ہیں۔ڈاکٹر تبریز حسین نارائن پیٹ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے اردو کے ایک فعال صحافی ہیں جو ان دنوں صحافتی حلقوں میں شہرت حاصل کر رہے ہیں۔ اردو ذریعے تعلیم کے تعلق سے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے سمجھنے مین انتہائی آسانی ہوتی ہے۔ اور یہی کامیابی کی اصل کلید ہے۔

لیکن عصر حاضر میں اپنے آپ کو منوانے کے لیے یہ کافی نہیں ہے اردو زبان کے ساتھ دیگر زبانوں پر عبور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔کیوں کہ ہمیں اپنے آپ کو زمانے کی اشد ضرورت بنانے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ اردو زبان سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا اس لیے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے اندر سلیقہ اور طریقہ ہوتا ہے‘‘( ص ۳۴) تبریز حسین نے لکھا کہ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہیں اور منصف میں کالم لکھ رہے ہیں۔سری نگر کشمیر کے ظہور حسین بٹ’’میں اور میری یونیورسٹی‘‘ عنوان سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کتاب شاہین اردو میں لکھتے ہیں کہ’’ اردو یونیورسٹی کے کیمپس اور شعبہ ترسیل عامہ و صحافت نے میرے اندر یہ تحریک پیدا کردی کہ مجھے اردو میں بھی لکھنا چاہیے میں نے کشمیر سے شائع ہونے والے معروف روزنامہ ’کشمیر عظمی‘‘ کے لیے فورٹ نائٹلی کالم لکھنا شروع کیا۔۔میرے کالم منصف ‘سیاست ‘انقلاب اور راشٹریہ سہارا جیسے موقر روزناموں میں شائع ہوتے رہے۔۔

میرے اندر اردو میں لکھنے کا ولولہ اور تخلیقی صلاحتیں پیدا کرنے کے لیے اس یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے اساتذہ کا ایک ناقابل فراموش کردار ہے‘‘ آ ص۴۴) ظہور حسین بٹ نے یو این آئی میں بھی کام کیا۔عبدالرحٰمن پاشا مانو کے شعبہ ترسیل عامہ وصحافت سے فارغ ہونے والے ایک اور با صلاحیت صحافی ہیں۔ ان دنوں وہ ای ٹی وی نیوز 18میں کام کرنے کے بعد فری لانس صحافی کے طور پر مختلف تہذیبی و ثقافتی پروگراموں کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔نوجوان ہیں اردو زبان پر عبور ہے اور انٹرویو صحافت میں سوالات کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اردو یونیورسٹی کی تعلیم نے ان کے جوہر نکھارے اورترقی کی راہیں ہموار کیں۔

شاہین اردو کتاب واقعی اردو یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے منتخب طلباء کی دلچسپ آپ بیتیوں پر مشتمل کتاب ہے۔ ان مضامین کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو ذریعہ تعلیم کسی کی ترقی میں مانع نہیں بلکہ محنت کرنے والوں کو ترقی فراہم کرتی ہے۔اس کتاب میں شامل مضامین اردو کی نئی نسل کے وہ مثالی ستارے ہیں جن کے کارناموں سے اگلی نسلوں کو واقف کرانا ضروری ہے۔ اس کتاب میں شامل معلومات اردو یونیورسٹی کی کارکردگی کی سند ہے۔ ان مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مانو کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت نے کس طرح صحافت کے ہیروں کو تراش کر دنیا میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کو اسکول اور کالج کے طلباء میں مقابلہ جات کے بعد انعام کے طور پر دیا جانا چاہئے اس کتاب کے مشمولات کو انٹرنیٹ کے ذریعے عام کیا جائے۔

اس کتاب کو اردو ذریعے تعلیم سے ترقی کے خواہش مند طلباء کو ضرور پڑھنا چاہئے۔ اور جب کبھی مانو المونی کے اجلاس ہوتے ہیں ان میں اس کتاب کے مضمون نگاروں کو شخصی طور پر مدعو کیا جائے اور ان کے کارناموں سے نئی نسل کو آگاہ کیا جائے تاکہ ان کی مثال لے کر اردو کی نئی نسل کے طلباء بھی یونیورسٹی میں داخلہ لینے اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کا فیصلہ کریں۔ امید کی جاتی ہے کہ شاہین اردو کے حصہ دوم کی بھی جلد اشاعت عمل میں آئے گی۔ مرتب کتاب جناب مصطفی علی سروری صاحب ‘جناب اعجاز علی قریشی صاحب اور مانو المونی اسوی ایشن کو دلی مبارکباد پیش ہے کہ اردو سے مایوسی کے عالم میں یہ کتاب اور اس کے مضمون نگار امید کی کرن بن کر سماج میں پیش ہوں گے یہ کتاب فاضل مصنف سے رابطہ کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button