صبر و حکمت ہی مومن کا قیمتی اثاثہ
ہم نے ہمیشہ سے ہی حکومتوں کے بدلنے میں ہماری کامیابی سمجھی مگر یہ کامیابی سراب کی طرح ثابت ہوئی اس کی ہمیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑی گو کہ ملک کا ایک طبقہ اسی میں کامیابی سمجھتا ہے جبکہ گہرائی سے دیکھا جائے تو وہ کامیابی نہیں ہے بلکہ آنے والے دنوں میں ان کے لئے نقصان ہی ثابت ہوگا جو طبقہ اگر یہ سمجھتا ہے اس کے بر سر اقتدار میں آنے سے سب حالات معمول پر آجائیں گے تو وہ غلط فہمی ہے ایسا کبھی ممکن نہیں ہوگا
ہاں حالات کو معمول پر لانے کے لئے ایک ہی راستہ ہے وہ اس ہنگامہ سے اپنے آپ کو الگ کر لے کیونکہ ہر طبقہ میں اتنی ذاتیں اور جماعتیں اور زبانیں موجود ہیں جو طبقہ تشدد کے ذریعہ اقتدار پر آتا ہے اس سے عدم تشدد کی امید نہیں کی جاسکتی َچاہے کوئی بھی ملک ہواس طرح کے ذہن کی مثال ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں وہاں کی اکثریت قوم کے ذریعہ جتنا نقصان اکثریت قوم کو ہو رہا ہے اتنا نقصان وہاں کی اقلیت کو نہیں ہو رہا ہے
یہ محض اس لئے ہوا کہ وہاں تشدد کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جس کا نتیجہ تشدد کے ذریعہ قتل و غارتگری کی شکل میں ملا یہ ایک اصول ہے اس طرح کی کی کوشش اگر کسی دوسرے ملک میں ہو تو نتیجہ وہاںبھی وہی برآمد ہوگا عام مسلمانوں کو اس کی فکر ہے اور نہ اتنا فہم جو یہ باتیں سمجھیںاس سازش کو ناکام کرنے کا ایک ہی واحد طریقہ ہے اور وہ ہے صبراور حکمت ہم صبراور حکمت کے ذریعہ ان سازشوں کو ناکام کر سکتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہمیں اشتعال دلایا جائے گا ہم اشتعال انگیزی کا جواب اشتعال انگیزی سے دینے کی کوشش نہ کریں بلکہ اسے نظر انداز کر دیں یا حکمت کے ساتھ اس کا خاتمہ کریں
قران کے مطابق اہل ایمان کے لئے اس دنیا میں حفاظت کی سب سے بڑی اور یقینی ضمانت یہ ہے کہ صبر اور تقوی کی روش اختیا کریں قرآن میں مختلف انداز سے اس کا واضح اعلان کیا گیا ہے ایک جگہ اسلام کے بد خواہوں اور دشمنوں کا ذکر کرتے ہوئے قطعی اور حتمی انداز میں ارشاد ہوا ہے
: اور اگر تم صبر کرو اور تقوی کی روش اختیار کرو تو ان کی مخالفانہ تدبیر تم کوکچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی : (ال عمران ۱۲)
یہ بات جو اس آیت میں کہی گئی ہے یہ کوئی پراسرار نہیں ہے یہ ایک سادہ اور فطری حقیقت ہے اپنے آس پاس کے واقعات پر غور کر کے اس کو سمجھا جا سکتا ہے اگر آپ سچائی اور انصاف پر ہیں اور کوئی شخص آپ کا مخالف بن جائے تو اس کا یہ اقدام خود اس کی اپنی فطرت کے خلاف ہوتا ہے
عین اس وقت بھی اس کی فطرت کی آواز اس کے خلاف فیصلہ دینے کے لئے اس کے اندر موجود ہوتی ہے وہ جب تک ضد اور عناد کی نفسیات میں مبتلا رہے گا وہ آپ کے خلاف کاروائی کرے گا مگر جیسے ہی وہ اعتدال پر آئے گا وہ آپ کے خلاف اقدام کرنے کا حوصلہ کھو دے گا
صبر اور تقوی کی روش فریق ثانی کو اسی حالت میں اعتدال پر لانے کی ایک تدبیر ہے صبر کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے شخص کی ذیادتیوں پر رد عمل کا اظہار نہ کیا جائے اور تقوی کی حقیقت یہ ہیکہ آدمی اللہ کی عظمتوں کو سوچ کر متواضع بن جائے
یہ دونوں صفتیں اگر آدمی کے اندر حقیقی طورپیدا ہو جائیں تو وہ بلا شبہ اپنے فریق کوٹھنڈا کرنے کی یقینی ضمانت ہے یہ اعلی اخلاق یقینی طور پراس کی ضد اور عناد کو ختم کر کے اس کو اعتدال کی حالت پر پہنچا دے اور جب کوئی شخص معتدل نفسیات والا بن جائے تو خود اس کی فطرت اس کو ظلم سے روک دیتی ہے اس کے بعد اس کے لئے کسی مزید پولیس اور فوج کی ضرورت نہیں
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو دیگر اقوام سے مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچی ہیںاور پہنچ رہی ہیں یہ بات یقیننا افسوسناک ہے اور ہمیں نا امید نہیں ہونا چاہیے دنیا کی ۱ ۲تہذیبوںکا جن میں قدیم اور جدید دونوں ہیں مطالعہ کرنے والا مورخ لکھتا ہے دنیا میں جن قوموں نے کوئی تہذیب پیدا کی وہ قومیں اکثراپنی زندگی میں شکست سے دو چار ہوئی تھیں جنھیں سخت نا موفق حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا مورخ لکھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی قوم کے موافق حالات ہمیشہ اس کے نا موافق حالات کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں
مسلمانوں کی موجودہ حالت حقیقت میں ترک سنت کا نتیجہ ہے نہ کے کسی دشمن کی سازش کا نتیجہ مسلمانوں پر ظلم کے پس منظر میں مسلمانوں نے جس سنت کو ترک کیا ہے وہ صبر و اعراض کی سنت ہے اس سنت کو چھوڑنے سے موجودہ صورت حال پیدا ہوئی ہے اور دوبارہ اسی سنت کو اختیار کرکے اس صورت حال کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر اس مسئلہ کو حل کرنے والی نہیں ہے
مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ بے صبری سے صبر کی طرف لوٹیں وہ ٹکرائو کو چھوڑ کر اعراض کی طرف لوٹ آئیں اشتعال انگیزی پر مشتعل ہونے کے بجائے وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں پیغمبر اسلام کی سنت یہ ہے اور اسی سنت میں کامیابی کاراز چھپا ہے
پیغمبر اسلام ﷺ کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ صاحب حکمت تھے اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے اس سلسلے میں کے بہت سے اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں مثال کے طور پر حضرت عبداللہ بن عباس ؓکہتے ہیں کے رسول اللہ ﷺ نے مجھے سینے سے لگایا اور کہا کہ اے اللہ اس کو حکمت عطا فرما اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے مثلا رسواللہ ﷺ نے فرمایا : یعنی کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے اسی طرح آپ نے فرمایا کہ یعنی حکمت بات سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں
حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں اگر کوئی حکمت کی چیز ملے تو اس کو لینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے
بعض روایت کے مطابق حکمت کی اہمیت عبادت سے بھی زیادہ ہے چنانچہ الترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یعنی ایک فقیہ شیطان کے اوپر ہزار عابدوں سے بھی زیادہ بھاری ہے
پیغمبر اسلام کی پوری زندگی حکمت کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے نبوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے آپ نے ہر موقع پر اور ہر مرحلہ میں حکمت کا طریقہ اختیار فرمایا اس سلسلے میں آپ کی زندگی سے کچھ مثالیں نقل کی جاتی ہیں
پیغمبر اسلام ﷺہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہاں عبداللہ بن ابی آپ کا شدید مخالف بن گیا اس نے اگر چہ اسلام قبول کر لیا تھا مگر حسد کے جذبہ کے تحت وہ آپ کا شدید مخالف بن گیا آپ کی توہین کرنا آپ کا سب وشتم کرنا اور آپ کے خلاف بری باتیں پھیلانااس کاسب سے بڑا مشغلہ بن گیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ سب سے بڑاشاتم رسول تھا حضرت عمر فاروق نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کا قتل کردوں آپ نے فرمایا یعنی اس کو چھوڑ دو لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں
اس واقعہ سے پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاص اسوہ معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ توہین کو برداشت کر لو کیونکہ اگو تم نے توہین کو برداشت نہ کیا تو اس سے بھی زیادہ بڑی برائی سامنے آئے گی اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہے
پیغمبر اسلام ﷺ تقریبا تیرہ سال مکہ میں رہے یہاں کی اکثریت آپ کی مخالف بنی رہی انھوں نے ہر طرح آپ کو ستایا تاہم آپ کی دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں وہاں کے تقریبا دو سو مرد اور عورت اسلام میں داخل ہو گئے یہ لوگ بار بار آپ سے یہ کہتے کہ ہم ظلم کے خلاف جہاد کریں گے مگر آپ ہمیشہ انھیں صبر کی تلقین کرتے رہے مثلاعمر فاروقؓ نے قریش کے مظالم کے خلاف جہاد کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا ,
یا عمر انا قلیل, یعنی اے عمر ہم تھوڑے ہیں مکی دور کے آخر میں مدینہ کے تقریبا دو سو آدمی اسلام میں داخل ہوگئے ان لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انھوں نے بھی کہا کہ ہم کو ان ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت دیجئے مگر ان سے بھی آپ نے یہی فرمایا کے صبر کرو کیوں کہ مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی
پیغمبر اسلام ﷺ نے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کے باوجود تقزیبا پندرہ سال تک یکطرفہ طور پر صبر کو برداشت کا طریقہ اختیار کیا اس کے بعد پہلی بار آپ نے غزوہ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو لیکر دشمنوں سے مقابلے کے لئے نکلے یہ بھی آپ نے اسی وقت کیا جب اللہ تعا لی کی طرف سے یہ کھلا وعدہ آ گیا کہ آسمان سے فرشتے تمہاری مددکے لئے آئیں گے
پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ نہیں کہ جب بھی کوئی آپ پر ظلم کرے تو فورا اس کے خلاف کاروائی شروع کر دی جائے آپ کی سنت یہ ہے کہ ظلم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے عملی اقدام صرف اس وقت کیا جائے جب اس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی ہو
فتح مکہ کے بعد عرب میں وہ دور آیا جس کو تاریخ میں عام الوفود کہا جاتا ہے عرب کے قبائل مدینہ آ کر اسلام قبول کرنے لگے ان میں سے ایک قبیلہ ثقیف بھی تھا جو طائف سے آیا تھا یہ لوگ مدینہ آئے تو انھوں نے ایک انوکھی شرط پیش کردی انھوں نے کہا کہ ہم اسلام تو قبول کر لیں گے لیکن ہم نہ زکواۃدیں گے اور نہ جہاد کریں گے
یہ ایک نازک مسئلہ تھا عام لوگ اس قسم کے اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن پیغمبر اسلام نے حال سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھا آپ نے اپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھا کے یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہو کر مسلم معاشرہ کا جز بن جائیں گے تو اپنے آپ وہ سب کچھ کرنے لگیں گے چنانچہ آپ نے ان کی شرطوں کو مانتے ہوئے انھیں اسلام میں داخل کر لیا لوگوں کے اشکال کو رفع کرنے کے لئے آپ نے فرمایا جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ زکواۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے
پیغمبر اسلام ﷺ کے اس اسوہ سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے یہ حکمت ایک لفظ میں مستقبل بینی ہے انسان کوئی پتھر نہیں ہے جو تاثیر کو قبول نہ کرے انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے انسان کے حال پر اس کے مستبل کو قیاس کیا جا سکتا ہے
آدمی سے معاملہ کرتے وقت ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے بوقت معاملہ فوری تبدیلی پر اصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے اس کے بر عکس اگر وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تواپنے آپ ایسا ہوگا کہ آدمی مستقبل میں عین وہی بن جائے گا جیسا کہ حال میں اسکو ہم نے دیکھنا چاہتے تھے
یہ تمام مثالیں حکمت کی پیغمبر اسلام کی تھیں جس کی بدولت بہت ہی کم وقفہ میں اسلام عرب سے نکل کر دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیل گیا مگر بعد کے دور میں کچھ علماء حکمت اور داعی کی ذمہ داری کو شائد سمجھ نہ سکے جس کی وجہہ سے نہ صرف مسلمانوں کا نقصان ہوا بلکہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کا عظیم نا تلافی نقصان ہوا ہے جس کو مندرجہ ذیل کی مثال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے
جس زمانے میں روسی قوم بت پرستی کا شکار تھا شہنشاہ روس ولادی میر نے مذاہب کی تحقیق کے نام پر ایک جلسہ طلب کیا تھا جس میں علماء اسلام کو بلایا تھا جو صاحب اس غرض کے لئے قازان سے تشرف لائے تھے انھوںنے اسلام کے تمام عقائد میں سے یہ مسئلہ منتخب کرکے پیش کیا کہ اسلام میں سور کا گوشت کھانا بلکل حرام ہے
مورخین روس لکھتے ہیں شہنشاہ روس ولادی میر (۱۰۱۵ :۹۵۶) اسلام کی طرف مائل تھا اورچاہتا تھا کہ تمام قوم روس کے لئے مذہب اسلام کا انتخاب کردے لیکن قازانی عالم نے شریعت اسلام سے تمام احکام میں سے صرف اس مسئلہ کو پیش کر کے اس پر قدر زور دیا کہ شہنشاہ نے غصہ میں آکر ان کو نکلوا دیا اور عیسائی مذہب قبول کر لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ روس کے چھ کروڑ آدمی عیسائی ہو گئے
بظاہر یہ غفلت بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے مگر اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ غفلت بدستور آج بھی جاری ہے قازان کے عالم کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے مدعو سے غیر حکیمانہ گفتگو کی جس کی وجہہ سے وہ بدک گیا آج کے مسلمانوں کی غلطی بھی یہی ہے کہ وہ اپنے مدعو گروہوں سے بے فائدہ مقابلہ آرائی جاری کئے ہوئے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے مخاطبین کے دل اسلام کے بارہ میں سخت ہو گئے ہیں
مسلمانوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ خداکے بندوں کو خدا کے دین کی طرف بلائیں مگر اسکے برعکس لوگوں کو اسلام سے بدکائے ہوئے ہیں یہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم ہے دنیا کی قوموں کو دین حق سے قریب کرنا تو درکنار وہ دنیا کی قوموں کو دین حق سے دور کر رہے ہیں اس جرم کے ساتھ مسلمان کبھی خدا کی مدد کے مستحق نہیں ہو سکتے



