
جو بہو اپنی ساس کے ساتھ بدتمیزی کرتی ہے اسے ان کے گھر میں رہنے کا حق نہیں ہے۔، فیملی کورٹ کا فیصلہ
بہو کو اپنے سسرال کا گھر خالی کرنے کا حکم دیا
نئی دہلی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مدھیہ پردیش کی اندور ڈسٹرکٹ فیملی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے طلاق یافتہ بہو کو اپنے سسرال کا گھر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ساتھ ہی عدالت نے اپنے اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بہو کو اپنے سسرال کا خیال رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تو وہ فوری طور پر گھر خالی کر دے۔دراصل اندور کے رہنے والے 80 سالہ پروفیسر مہادیو پرساد یادو نے اپنی بہو کے خلاف فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا جس کی ان کے بیٹے سے طلاق ہوگئی تھی۔
آپ کو بتا دیں کہ پروفیسر یادو کا وجے نگر اسکیم 78 میں دو منزلہ مکان ہے۔یہاں یادو اپنی بیوی کے ساتھ بالائی منزل پر رہتے ہیں۔نچلے حصے میں پروفیسر کی بہو رہتی ہے، جس کی گزشتہ سال پروفیسر یادو کے بیٹے سے طلاق ہو گئی تھی۔لیکن بہو گھر چھوڑنے کو تیار نہیں تھی اور اس نے کفالت کا مقدمہ بھی دائر کر دیا تھا۔ساتھ ہی ساس اور سسر کے ساتھ بہو کا سلوک بھی بہت برا تھا۔مایوس ہو کر سسر پروفیسر یادو نے عدالت میں دیوانی مقدمہ دائر کیا، جہاں کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بہو کا سسرال کے بزرگوں سے کوئی تعلق نہیں۔پرواہ بھی نہیں کرتی۔اس لیے بہو گھر خالی کردے۔
بہو کی طرف سے شوہر پر نان نفقہ عائد کرنے کے معاملے میں عدالت نے کہا کہ بہو اگر اچھا کام بھی کرتی ہے تو اسے اپنے رہنے کا انتظام خود کرنا چاہیے۔اس بارے میں ایڈوکیٹ امر سنگھ راٹھور نے کہا کہ بہو کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ ہے۔اس نے اپنے شوہر سے کفالت بھی مانگی تھی۔جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
اس کے علاوہ عدالت نے بہو کے رویے کو برا مانتے ہوئے طلاق کی درخواست قبول کر لی تھی۔عدالت نے پروفیسر کی بہو کو اپنے سسر کا گھر خالی کرنے کو کہا ہے اور ساتھ ہی اسے اس کے سسر کی جانب سے مقدمہ لڑنے کے لیے خرچ کیے گئے 60 ہزار روپے واپس کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔



