
نیویارک:(ایجنسیاں) صدر جو بائیڈن کی ہدایت پر امریکہ کی فوج نے شام کے مشرقی علاقے میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر بائیڈن کی ہدایت کی روشنی میں جمعرات کی شام کو یہ کارروائی کی گئی۔
ان کے بقول فضائی کارروائی میں ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جو ایران کی حمایت یافتہ گروہوں کے زیر استعمال تھے۔اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ امریکی فوج کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں کیا نقصان ہوا ہے۔ تاہم کارروائی کے دوران حملے کی شدت اور کشیدگی کے خطرے کو کم کرنے کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکی فوج نے یہ کارروائی ایسے موقع پر کی ہے جب حال ہی میں عراق میں امریکی تنصیبات پر راکٹ حملے ہوئے تھے۔امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ امریکہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کو سزا دینا چاہتا ہے۔
امریکی فوج نے گزشتہ چند برس میں راکٹ حملوں کے جواب میں متعدد بار جوابی کارروائی کی ہے۔ تاہم حالیہ کارروائی ایسے موقع پر کی گئی جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے پر ایک مرتبہ پھر بات چیت کی بحالی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
محکمہ دفاع کے ترجمان کے مطابق صدر بائیڈن امریکیوں اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے۔ یہ کارروائی جواب کے طور پر کی گئی ہے اور ہمارا مقصد مشرقی شام اور عراق میں مجموعی طور پر کشیدگی کو کم کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو شام کی سرحد کے قریب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب حزب اللہ اور کتائب سید الشہدا کے زیرِ استعمال متعدد تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے۔
حالیہ چند ہفتوں کے دوران عراق میں امریکی فورسز کے زیرِ استعمال تنصیبات پر راکٹ حملوں کے واقعات رونما ہوئے تھے۔پندرہ فروری کو اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع امریکہ کے زیرِ استعمال بیس پر راکٹ داغا گیا تھا جس میں ایک امریکی کنٹریکٹر ہلاک اور متعدد کنٹریکٹرز سمیت ایک فوجی زخمی ہوا تھا۔
مذکورہ کارروائی کے اگلے ہی روز عراق کے شمال میں واقع امریکی بیس کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک کنٹریکٹر زخمی ہوا۔پیر کو ایک مرتبہ پھر عراق کے گرین زون میں راکٹ داغے گئے جہاں امریکہ سمیت مختلف ملکوں کے سفارت خانے موجود ہیں۔
دوسری جانب رواں ہفتے کے آغاز میں ایرانی حمایت یافتہ تنظیم کتائب حزب اللہ نے امریکی فورسز کو راکٹ حملوں سے نشانہ بنانے کی کسی بھی کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔عراقی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کی ذمہ داری بعض چھوٹے گروہوں نے قبول کی ہے جس کا مقصد امریکی فورسز کو خوف زدہ کرنا ہے۔



