سیاسی و مذہبی مضامین

دو احمقوں پر مشتمل سرکار-✍️ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان، ممبئی

اللہ کا فرمان ہے ” اگر کائنات میں دو الہ ہوتے تو کائنات میں فساد برپا ہوجاتا” اللہ اپنی لاثانی قوت و طاقت کا مظاہرہ اسی طرح کرتا ہے، کائنات اللہ کی ملکیت اس کو چلانے والا بھی اللہ نیز چلانے کا انداز صرف لفظ "کن” نہ کوئی اللہ کے مدمقابل نہ کوئی مددگار اپنی آپ میں” اللہ اکبر” اس ذات بابرکت ہی سب سے بڑا ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

زمانہ قدیم میں دنیاوی نظام بادشاہت پر مبنی تھا ایک بادشاہ تمام ریاست کا مالک چونکہ بادشاہ تنہا حکومت کو اپنے انداز و اپنے طرز پر حکومتی فیصلے عوام کے فلاح وبہبود میں لیا کرتا تھا لہذا یہ طرز نظام کافی صدیوں تک دنیا میں قائم ودائم رہا، رسول محمد مصطفیٰ نے نظام مصطفیٰ کو قائم کرکے اللہ کا پسندیدہ نظام نافذ کر دیا، خلیفہ وقت ریاست کے تمام امور پر اختیار رکھتا تھا، بہر کیف یہود ونصاریٰ نے ان تمام نظام حکومت کو اکھاڑ کر پھینک دیا۔

تاہم ایک نیا نظام جمہوریت کے نام سے دجالی شکل لئے دنیا میں قائم ہوا، خیر و عافیت، امن و سلامتی کو خیر آباد کرتا یہ تخریبی نظام نے دنیا پوری میں دو عالمی جنگیں برپا کرکے کروڑں افراد کو لقمہ اجل بنا دیا، جوہری ہتھیار کا استعمال بے قصور عوام پر درندگی کو افشاں کرتے ہوئے برسایا گیا، زندہ جاوید لاکھوں انسانوں کو دہکتی آگ نے راکھ کردیا۔

اس طرز جمہوری نظام میں ہر سرکاری عہدے دار اپنے جگہ پر خود کو بادشاہ تصور کرتا ہے، ہر ادارے میں ایک بادشاہ اسکے تعاون میں رہنے والے ازخود اپنی عہدے پر بادشاہ گویا کہ ان گنت بادشاہوں کی جماعت پر مشتمل نظام حکومت جس کا نتیجہ فساد ہر ادارے میں لامحالہ موجود نظر آتا ہے۔

حکم الٰہی کے قریب ترین چلنے والا نظام نظام محمد مصطفیٰ اور پھر بادشاہت جس میں صرف بادشاہ ہی واحد ریاست کا ذمہ اپنے تہی لیے حکومت کو پائیدار بنائے رکھتا تھا، دو بادشاہ کسی بھی ریاست میں کبھی بھی موجود نہیں تھے۔ ریاست کے عوام فلاح وبہبود امن و سلامتی میں اپنی زندگیاں صرف کرتے تھے۔

بہر کیف ٢٠١٤ میں پھینکا ہوا دجالی شر کا جال ملک کو پوری طرح اپنے شکنجے میں لے چکا، ملک کے سربراہ کے طور پر انتہائی احمقانہ شخصیت کے مالک نے حلف لیا، پس پردہ موصوف کے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رفیق جو ٢٠١٤ میں تخریبی سیاسی جماعت کے صدر پر فائز تھے، شانہ بشانہ حضرت کاساتھ دیا۔

نظام جمہوریت نے ملک کی سیاست میں دو ایسے بادشاہ کا وجود ہوا جس کا اثر ہر ادارے ہر شعبے میں فساد بن کر ابھرا نیز صاف نظر آنے لگا۔ مزید اقتدار میں آنے کے کچھ عرصہ بعد موصوف نے ایک رات منطقی خواب دیکھا بعداذ یہ اعلان کردیا ملک میں زرمبادلہ کے طور پر استعمال ہونے والی کاغذی نوٹ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس احمقانہ فیصلہ نے ملک کو معاشی بحران کی سمت میں گامزن کردیا آنا فانا ملک کے کروڑں افراد سطح غربت کی لکیر سے نیچے آگئے، مجرمانہ خواب کی تعبیر نے ریاست میں مفلسی کو عروج بخشا، اسقدر بے حسی کا مظاہرہ موصوف نے کیا، عوام بنکوں کی قطاروں میں انتظامیہ کے لاٹھی چارج پر خاموش اس ظلم کو برداشت کرتے نظر آئے۔

دوسو سے زائد افراد پولس بربریت کا شکار ہو کر مارے گئے، تاہم موصوف کی مجرمانہ خاموشی برقرار رہی پیشانی پر بل تک رونما نہیں ہوا ایک گنوار غیر تعلیم سربراہ کے احمق فیصلہ نے معاشرے کو دہکتی آگ کے سپرد کر دیا، جس کی تپش سے آج بھی غریب عوام جلھس رہے ہیں۔

موصوف نے اس طرح کے تخریب کاری برپا کرنے میں کمال کی سندیں لے رکھی ہے، ملک بحران کا شکار ہو چکا، مزید ہر صوبے کے انتخابات میں موصوف و انکے رفیق اپنے ادا کاری کے جوہر دکھاتے ہوئے عوام سے روبرو ہوتے اندھ بھکتوں کو دن میں جادوئی خواب دکھایا کرتے کبھی کہتے ہر ملک کے شہری کو اس کے بنک کھاتے میں ١٥ لاکھ روپے مل جائے گے، لہٰذا یہ ١٥ لاکھ روپے ہر شہری کو براہ راست اس کے بنک کھاتے میں ڈال دیے جاینگے۔

یہ تو خواب تھا لہذا اس نے کب اپنی تعبیر کو جانا تھا۔ اس خواب کی تردید موصوف کے اعلی ظرف رفیق نے یہ کہ کر کی یہ تو چناؤی جملہ تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا، بہر کیف پانچ سال تک موصوف اپنے رفیق کے ساتھ عوام کو اسی طرح بے وقوف بناتے رہے، تاہم ٢٠١٩ کا انتخاب بھی ان دو احمقوں نے اپنے بھکتوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے ان کے ہندوتوا نظریات کو پائیدار بنائے رکھنے میں ان کی کاوشوں کو جاری رکھنے کا عزم لے کر دوبارہ اکثریت کے ساتھ انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

موصوف دوبارہ سے ملک کے سربراہ مقرر ہو کر حلف اٹھالی تاہم اس بار موصوف نے اپنے مجرم رفیق کو بھی عہدے سے نواز دیا، حکومت میں دو احمق یکجا ہوگے۔ دوسرے دور کے آغاز میں برق رفتاری سے قانون تبدیل کر کے نئے قانون بنائے گئے، این آر سی، سی اے اے، گوؤ ہتھیا قانون، طلاق ثلاثہ، حال ہی میں بنایا گیا نیا قانون جس کے تحت بلوغت کی عمر خواتین کے لئے ٢١ سال کر دی گئی۔

یہ تمام ایسے قانون ہیں جس کے ذر میں ملک میں بسنے و رہنے والا مسلمان آتا ہے، ہجومی تشدد نے ملک میں قائم قانون کی کلی کھول کر رکھ دی۔ ہجومی تشدد میں قتل ہونے والے مسلمانوں کو آج تک عدل و انصاف میسر نہیں ہوا، طلاق ثلاثہ کا اطلاق کر کے شریعت میں مداخلت کی گئی۔

یہ وہ فساد ہے جب دو بادشاہ ریاست میں بادشاہت کرتے ہیں، تو ہر سمت فساد رونما ہوتاہے، کثرت جھوٹ سے ان دو احمقوں نے اکثریتی طبقہ کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے، ابتدا ہی سے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی نے ان کو سیاسی سطح پر کافی توانائی بخشی، ٢٠٠٢ کے فسادات نے موصوف کے سیاسی سفر کو خوب پروان چڑھایا، ٢٠٠٢ میں خونی کھیل کو حتمی شکل بصورت دیگر مسلمانوں کا قتل عام انہیں دو حضرات کی سر پرستی میں کیا گیا۔

اپنے خون آلودہ پیراہن زیب تن کیے اب دہلی میں مقیم ہیں، سیاسی زندگی کا ہر پہلو ہر موڈ ظلم و ستم کی ہولناک داستان بیان کرتا ہے، حضرت کے رفیق کا سیاسی سفر کافی ہولناک ہے مقامی پولس نے انہیں ضلع بدر کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، نیز کہی طرح کے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث مختلف نوعیت کے مجرمانہ مقدمات آپ پر دائر کیے جاتے رہے، وقت کے ظالمانہ رویہ نے اپنا رخ بدلا اب یہی ضلع بدر کئے گئے شخص کو ملک کا وزیر براہ داخلی امور تک رسائی حاصل ہوگئی۔

پولس اہلکار صبح وشام ان کے حضور حاظر رہتے ہیں انہیں سلام پیش کرتے رہتے ہیں نیز ان ہی کے حکم کے پابند ہیں، دجالی جمہوریت کے ثمرات نمایاں نظر آنے لگے ہیں، پیشہ ور مجرم سیاست میں داخل ہو کر حاکم بن گئے، بہر کیف دونوں احمقوں کا سیاسی سفر اقلیتی دشمنی سے شروع ہوا نیز یہ سفر اب بھی اپنی تمام تر توانائی و شدت کے ساتھ جاری ہے۔

ملک اسقدر انصاف کو ترس گیا کہ عدل و انصاف عدالتوں میں کہی ناپید ہو کر رہ گیا، عوامی زبو حالی کا عالم یہ ہے کوئی نہیں جانتا کہ کونسا سا شخص کس وزارت سے منسلک ہے اور اس پر فائز ہے، ہر ادارے ہر شعبے میں انہیں دو احمقوں کے اثر و رسوخ سے کام بنتا ہے، ہر ادارے ان کے مرہون منت ہو کر رہ گیا، خوف و دہشت کی مسلسل فضاء ملک میں تواتر سے بہتی رہتی ہے۔

کہیں گوشت کھانے پر تشدد، کہیں حجاب کو موضوع بناکر تشدد،کہیں لو جہاد، کہیں سرکاری ملازمتوں میں چہرے پر داڑھی اعتراض کا سبب بنی، میڈیا کے ذریعے جھوٹ کو تقویت دے کر عروج پر پہنچایا، منظم طریقہ کار سے اکثریت کی ذہن سازی کی گئی ۔

ہندوتوا کو اکثریتی طبقہ کے ذہن میں پیوست کرنے میں حددرجہ کامیاب ہوئے، اگلے آنے والے دو سال ہندوتوا کے ہدف کو حاصل کرنے پر مرکوز ہے،نئی پارلیمانی عمارت کے تعمیر کا کام انتہائی زور وشور سے جاری ہے۔

اس جدید عمارت کے اجراء کے ساتھ اس عمارت میں صد سالہ آر ایس ایس کا جشن مزید قیام ہندوتوا کو ملک میں نافذ کرنے کے ہدف کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، اسی اثناء ملک سے موجودہ آئن و سیکولر جمہوریت کو رخصت کرکے اپنے اغراض و مقاصد کو مکمل کر لیا جانا طے شدہ ایجنڈا ہے۔

بہر کیف ایک سے زائد بادشاہ نظام حکومت کو صرف فساد دے سکتے ہیں امن نہیں۔وما علینا الاالبلاغ المبین

اردودنیا  میں  شائع ہونے والی  تمام  نگارشات  قلم  کاروں  کی  ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ مضمون نگار کے خیالات سے ادارہ  کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button