سیاسی و مذہبی مضامین

ہم مسلمانوں کیلئے عبرت کا سامان✍️حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی

کیا ہم غور نہیں کرتے کہ آج ہم کس درشت وآزمائشی دور سے گذر رہے ہیں، ہم اپنے آپ کو مسلمان اور اسلام کے پاسبان تو کہتے ہیں کیا وہ اوصافِ حمیدہ ہم میں باقی ہیں؟ آج عالم اسلام کو زیر وزبر کیا جارہا ہے اور مسلمانوں میں انتشار کی کیفیت پیدا کرکے مسلمانوں میں مذہب سے دوری، اتحاد میں رخنہ اندازی اور اسلام کو مٹانے کی جو سازشیں ابلیسی طاغوتی قوتیں کر رہی ہیں، کیا وہ ہماری ایمانی قوت پر ضربِ کاری نہیں ہیں۔ آج یہ شیطانی قوتیں عالم اسلام پر ایک طوفان کی طرح اٹھ کر جو حملے کر رہی ہیں، وہ آپ کے مشاہدے میں آرہی ہیں۔

آج فلسطین ان کا کارزار بن گیا ہے جہاں یہ شیاطین فلسطینیوں پر ظلم وجبر ڈھارہے ہیں، عراق میں جو خونِ ناحق بہایا جارہا ہے، افغانستان جو اپنی آزادی اور بقا کے لئے مظلوم افغانی اپنے وجود کے لئے برسر پیکار ہیں تو ان کی حریت ایمانی کو دبانے کی کوشش ہو رہی ہیں وہ آپ کی نظر میں آرہی ہیں۔ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس لئے کہ ہم روحانیت سے مادیت کی طرف جھکے جارہے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے دور ہوگئے ہیں۔

ہم میں وہ ایمانی حرارت وقوتِ ایمانی ماضی میں جو موجود تھی، ان شیطانی قوتوں نے ان میں نقب زنی کر ڈالی، آج ہم میں وہ ایمانی کیفیت مفقود ہو گئی ہے، عالم اسلام میں اتحاد کا فقدان ہوگیا ہے، آپسی اختلافات بڑے زور وشور سے ہماری ایمانی قوت میں جڑ پکڑ چکے ہیں، آج ہم ایک کمزور قوم کی حیثیت سے ان شیطانی قوتوں میں جانے پہچانے جارہے ہیں اور نتیجہ یہ کہ انہوں نے طے کر لیا ہے کہ ہم کو مٹادیں گے۔ (اللہ نہ کرے!)

متحدہ طور پر اسلام کومٹانے کی کوشش

کیا آپ نے ہماری اسلامی تاریخ پر نظر نہیں ڈالی جو ہمارے اسلاف ومجاہدین اسلام نے ان یہودیوں وعیسائیوں کی سازشوں کو کس طرح روند ڈالا جو متحد ہوکر اسلام کو مٹانے کی کوشش کر رہے تھے وہ ناکام ہو کر رہ گئی، یہ وہ مجاہدین اسلام تھے جو اللہ اور اس کے رسول  کی اطاعت اور احکام کی پابندی کرتے تھے، قرآنِ کریم اور سیرتِ محمدیہ e کو اپنے سینہ سے لگائے رکھتے تھے۔ شیطانی قوتیں جو سازشیں کرتی تھیں ان پر حملہ آور ہوکر اس کو ناکام بنادیتے تھے، آپ کو تاریخ اسلام کے ماضی کے آئینہ میں لئے چلتا ہوں، آپ کو مجاہد اعظم غازی سلطان صلاح الدین ایوبی  سے واقف کرانے کی سعادت حاصل کرتا ہوں جسے آپ اپنے ملاحظہ میں لاکر اپنی ایمانی حرارت میں جلا بخشیں۔

میں ان یہودیوں، عیسائیوں کو آواز دے رہا ہوں جو اپنے مکر وفریب اور سازشوں سے عالم اسلام پر ضرب لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں، لیکن یروشلم کے میناروں سے پوچھو کہ جب فاطمیوں اور عباسیوں کی خانہ جنگیوں سے مصر وبغداد کی سلطنتیں کمزور ہوئیں اور شاہانِ یورپ نے جو ہر وقت مسلمانوں کو مٹانے کی فکر میں رہتے تھے، پاپائے روم کے صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہوکر قسمیں کھائیں کہ خود مٹ جائیں گے یا دنیا کو مسلمانوں کے ناپاک وجود سے پاک کردیں گے۔

آپ جانتے ہیں کہ اس وقت وہ کون مجاہد اسلام تھا جس نے ان کے سر پر مسلط ہوکر ان کی قوت کو تہس نہس وزیر وزبر کر ڈالا، وہ اللہ اور اس کے رسول e کا مجاہد غازی سلطان صلاح الدین ایوبیؒ تھا جو ان متحدہ مخالفیں اسلام وشاہانِ یورپ پر بادل کی طرح گرجا، بجلی کی طرح چمکا اور آخر کار ان دشمنوں کے سروں پر جن کے لشکر شام وفلسطین کے میدانوں میں آندھی وطوفانوں کی طرح بڑھتے چلے آرہے تھے، قہر عظیم بن کر ٹوٹ پڑا، یورپ کی تمام سلطنتیں اپنا پورا زور اور قوت خرچ کر چکیں مگر وہ فولاد کا پہاڑ جس طرف گیا برابر پسپا کرتا چلا گیا، اس کے لشکر کی سیل فنا تلواریں ظالموں سے ظلم کا بدلہ لئے بغیر نہ رہیں اور برابر دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارتی گئیں، آرنالڈ سپہ سالارِ فرانس فریڈرک آف جرمنی اور رچرڈ شاہ انگلستان جیسے اہل یوروپ اسے شیر دل کے نام سے پکارتے تھے،

اس بہادر غازی کے مقابلے کی تاب نہ لاسکے، شجاعت وعدالت کا وہ آفتاب جس طرف بھی گیا اپنی تیز شعاعوں سے ظلم وستم کے تاریک اندھیروں کو صاف کرتا گیا، جب اس کی قوت بے پناہ سے قاہرہ کے دشمنوں کی تمام امیدیں کٹ گئیں تو والیٔ طرابلس اس غازی کے دربار میں حاضر ہوکر کہنے لگا: اے بہادر اور فیاض سلطان! روح القدس کی قسم! اب ہم بے گناہ بندگانِ خدا کا خون نہیں بہائیں گے تو اپنی رحم دلی اور فیاضی سے ہمارے ہم مذہب بھائیوں کو بیت المقدس میں امان دے۔

مسلمان آرام طلبی کیلئے نہیں

صلیبی جنگوں کی خونی داستانیں طویل ہیں مگر سلطان صلاح الدین ایوبی h مجاہد اعظم کی زندگی آپ کو بتلائے گی کہ مسلمانوں کا وجود دنیا میں عیش وراحت اور آرام طلبی نہیں ہے بلکہ مسلمان اللہ اور اس کے رسول  کی اطاعت وفرمانبرداری کے لئے پیدا ہوا ہے، وہ اسلام کے پرچم کو بلند رکھنے کے لئے اپنا وجود منوانے کے لئے پیدا ہوا ہے، دکھوں کو اٹھانے اور مصیبتوں کو سہنے کے لئے پیدا ہوا ہے، وہ ایک جفاکش سپاہی کی طرح دنیا میں قدم رکھتا ہے، وہ پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے مگر دوسروں کو ظلم کے نیچے سے نکال لیتا ہے، غازی سلطان صلاح الدین ایوبی  ان تاجداروں میں سے تھے جن کی سطوت وجلالت کا سکہ تمام دنیا مانتی تھی، ان کی قابلیت وبلند ہستی وایثار وہمدردی، انصاف اور رحمدلی کے دوست ودشمن قائل تھے۔

قیصر ولیم ثانی والیٔ جرمنی جب روم وشام کی سیاحت کو گیا تو اس نے سلطان کے مزار پر سونے کا تاج چڑھایا اور اس پر یہ عبارت لکھائی کہ

بھائی کی طرف سے بھائی کو تحفہ

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غازی سلطان صلاح الدین ایوبی h کی بہادری کی قدر ان کے سخت سے سخت دشمنوں کے دلوں میں تھی۔ ہم اس اولوالعزم سلطان کی سوانح عمری کا مطالعہ کریں تو ایک ایک واقعہ ہر ایک مسلمان کے دل میں ایمانی زندگی کی لہر پیدا کردے گا اور ہماری ایمانی حرارت میں تقویت پیدا ہوگی اور ہم اپنے فروعی اختلافات دور کرکے متحد ہوجائیں گے اور ان شیطانی طاقتوں کو جو عالم اسلام پر مسلط ہونے کی کوششیں کر رہی ہیں ان کی سازشیوں کو زیر وزبر کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم میں اتحاد وقوت پیدا فرمائے، آمین!

افسوس صد افسوس آج خواص ہوں یا عوام، ہر ایک نے ریاضت ترک کردی ہے، آج ہم علماء اور طلباء اور دانشوران میں کوئی تلوار چلانے والا، لاٹھی اور بندوق چلانے والا مشکل سے ملے گا، آج گھوڑ سواری اور تیر اندازی مفقود ہوچکی اور مدافعت کا حوصلہ نہیں رہا، دشمنوں سے آنکھ ملا کر بات کرنا اور ایمانی حرارت سے اپنی زندگیوں کو مزین کرنا ہم بھول گئے ہیں۔ آج کے حالات میں ضروری ہے کہ ہم میں عسکری صلاحیت پیدا ہو اور ہم میدان میں سینہ دکھانے کے قابل ہوں، پیٹھ دکھا کر بھاگنے والوں میں ہمارا شمار نہ ہو۔ آج اختلافات کو یکسر بھلا کر مسلمان سیسہ پلائی دیوار کے مانند ہوجائیں تو کچھ بات بنے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button