سیاسی و مذہبی مضامین

شہریت ترمیمی قانون دستور ہند کی سنگین خلاف ورزی واپس لینا ضروری

رام پنیانی

ہندوستان فی الوقت کورونا وائرس کی عالمی وباء کے بدترین اثرات کا سامنا کررہا ہے۔ ملک میں تقریباً 4 لاکھ لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ ہمارے ملک میں کووڈ۔ 19 وباء کے دوران اموات و تباہی دراصل مناسب و معقول سہولتوں کے فقدان، اسپتالوں میں بستروں کی قلت اور آکسیجن نہ ملنے کے نتیجہ میں ہوئی، لیکن کورونا وائرس وباء کے نقطہ عروج پر پہنچنے کے دوران بھی #ہندوستانی وزارت اُمورِ داخلہ نے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) پر عمل آوری کا آغاز کیا۔

اس قانون پر #پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ کے باہر بھی کافی احتجاج کیا گیا تھا، لیکن وزارت اُمور داخلہ نے کورونا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس قانون کے تحت #افغانستان، #پاکستان اور #بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم #مہاجرین و پناہ گزینوں سے ہندوستانی شہریت کیلئے درخواستیں طلب کیں۔

حالیہ عرصہ کے دوران وزارت داخلہ نے ایک سرکیولر جاری کیا ، جس کے ذریعہ مذکورہ تینوں ممالک میں ظلم و جبر اور قانونی کارروائی کا سامنا کرچکے وہاں کی اقلیتوں سے کہا کہ وہ ہندوستانی شہریت کیلئے درخواست دیں، یہ لوگ فی الوقت گجرات ، #راجستھان، چھتیس گڑھ ، ہریانہ اور #پنجاب کے 13 اضلاع میں مقیم ہیں، تاہم دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس سرکیولر میں مغربی  #بنگال اور آسام میں رہ رہے پناہ گزینوں کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

یہ ایسی ریاستیں ہیں جہاں اسمبلی انتخابات کے دوران بھی شہریت ترمیمی قانون کا مسئلہ اُٹھایا گیا اور بی جے پی قائدین نے اسے بہت اُچھا لا۔ حکومت نے اگرچہ غیرمسلم پناہ گزینوں سے ہندوستانی شہریت کے حصول کیلئے درخواستیں طلب کرتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون پر عمل آوری کا آغاز کیا ہے، جواب میں انڈین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) جو #کیرالا میں #کانگریس کی حلیف ہے، سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی اور مرکزی حکومت کی جانب سے لئے گئے متنازعہ فیصلے کو چیلنج کیا ۔

انڈین یونین مسلم لیگ نے اپنی درخواست میں عدالت کو بتایا کہ سیکشن 5(1)(a)-(g) جسے شہریت ترمیمی قانون کے سیکشن کے ساتھ پڑھا جائے۔ یہ دفعات مذہبی بنیادوں پر اس طرح کی درجہ بندی کی اجازت نہیں دیتی اور مرکزی وزارت داخلہ نے جو حکم جاری کیا، وہ دراصل قانون شہریت کی دفعہ 5 اور 6 کی مختلف شقوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 5(1)(a)-(g) میں واضح طور پر شہریت کیلئے کون سا شخص درخواست دینے کا اہل ہے، اس تعلق سے تمام تر شرائط و لزومات درج ہیں جبکہ قانون شہریت کا سیکشن 6 کسی بھی شخص کو (وہ غیرقانونی تارک وطن نہ ہو) شہریت کیلئے درخواست دینے کی اجازت دیتا ہے۔

مزید برآں یہ کہ اس میں یہ بھی واضح کردیا گیا کہ اگر اس حکم پر عمل آوری کی گئی اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو شہریت دی گئی اور ایسے میں اگر عدالت نے سی اے اے اور اس پر عمل آوری کو کالعدم قرار دیا تو پھر جس طریقہ سے شہریت منظوری کی گئی ہے اسے واپس لینا بہت مشکل ہوجائے گا۔ حکومت ، شہریت ترمیمی قانون پر عمل آوری میں جس جلد بازی کا مظاہرہ کررہی ہے،

اس سے حکومت کے ارادوں اور نیت کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ معاملہ عدالت کے زیردوراں ہے، لیکن حکومت ایسا لگتا ہے کہ سی اے اے یا شہریت ترمیمی قانون کی آڑ میں مسلم اقلیت کیلئے مشکلات پیدا کرنے کی خواہاں ہے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہندوستانی آئین یا دستور شہریت کی منظوری مذہبی بنیاد پر کرتے ہوئے امتیاز برتنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ ویسے بھی پڑوسی ممالک میں ظلم و جبر کا شکار افراد کو شہریت کی منظوری ایک عالمی قاعدہ ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں کئی مسلم اقلیتی گروپس بھی ظلم و جبر کا شکار ہوئے ہیں۔

یہ بھی بہت حیرت انگیز بات ہے کہ آخر سری لنکا میں ظلم و جبر کا شکار بنے ٹامل ہندوؤں کو سی اے اے کے دائرہ سے باہر کیوں رکھا ہے۔ اسی طرح ایک اور حیرت کی بات یہ ہے کہ میانمار کے روہنگیاؤں کو بھی شہریت ترمیمی قانون سے باہر رکھا گیا ہے، حالانکہ میانمار کے روہنگیائی باشندوں کو بدترین ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے اچھی بات یہ رہی کہ شہریت ترمیمی قانون پر عالمی سطح کی مختلف تنظیموں اور عالمی پلیٹ فارمس پر کافی مباحث ہوئے۔

اقوام متحدہ جیسے ادارہ نے سی اے اے پر شدید تنقید کی۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر مائیکل بیاچلیڈ نے سپریم کورٹ میں مرافعہ مداخلت داخل کرتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون کے دستوری جواز کو چیلنج کیا جس کے جواب میں ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے بیاچلیڈ کی تنقید کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ اس معاملے میں اقوام متحدہ کی تنظیم برائے عالمی پناہ گزینان کا موقف غلط ہے۔

وہ شہریت ترمیمی قانون کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، لیکن سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ اسے دکھائی نہیں دیتا۔ ڈاکٹر ایس جئے شنکر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سی اے اے پر تنقید ہندوستان کے داخلی اُمور میں مداخلت ہے اور ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ پر حملہ ہے۔

جہاں تک ہمارے اقتدار اعلیٰ کا سوال ہے، ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کسی بھی اقتدار اعلیٰ کو عدم امتیاز کے اُصول پر شہریت برقرار رکھنی پڑتی ہے اور اس اصول کا انٹرنیشنل کنویننٹ آن سیول اینڈ پولیٹیکل رائٹس (ICCPR) یا شہری و سیاسی حقوق سے متعلق عالمی قرارداد کی دفعہ 26 میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

ہندوستان نے سی اے اے اور این پی آر کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہروں کا مشاہدہ کیا۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، جے این یو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دوسرے مقامات پر کئے گئے ابتدائی احتجاج پر ریاست کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ پولیس نے کیمپس میں داخل ہوکر طلبہ کو شدید زدوکوب کیا جس کے بعد مسلم خواتین کی جانب سے ملک کا سب سے بڑا انتہائی پرامن وجمہوری انداز میں احتجاج منظم کیا گیا۔

شاہین باغ تحریک نے تو ہندوستانی عوام کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج ملک کے تمام حصوں میں پھیل گیا، لیکن بعد میں اس احتجاج کو انتہائی بدبختانہ انداز میں دبانے کی کوشش کی گئی اور ساری دنیا نے دیکھا کہ دہلی میں فسادات پھوٹ پڑے اور اس دوران بھی اسی احتجاج کو نشانہ بنایا گیا اور پھر یہ تحریک کورونا وائرس کی وباء کے نتیجہ میں اپنے اختتام کو پہنچی۔

اگر دیکھا جائے تو شاہین باغ احتجاج یا مخالف سی اے اے تحریک مسلم طبقہ میں بڑھتی برہمی کا نتیجہ تھا۔ دراصل مسلمانوں کو ایک طرح سے حاشیہ پر لایا گیا۔ حالیہ برسوں کے دوران مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا اور ہزاروں مسلم مرد و خواتین کو بیف کھانے یا لے جانے، لو جہاد، کورونا جہاد کے بہانے ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران مسلم طبقہ کو بدنام کرنے کیلئے نفرت پیدا کرنے کیلئے کورونا جہاد کا الزام عائد کیا گیا۔

شاہین باغ تحریک کے ذریعہ تمام مذہبی اقلیتوں کیلئے مساویانہ شہریت کی جدوجہد کو ایک نئی اور مضبوط آواز ملی اور یہ سی اے اے و این آر سی کے خلاف انتہائی مضبوط جمہوری آواز ثابت ہوئی۔ صرف ہم سی اے اے کو ہی علیحدہ طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ اس طرح کا ٹوئٹ وزیر داخلہ امیت شاہ نے کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پہلے شہریت ترمیمی قانون منظور کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پڑوسی ملکوں کے تمام پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت حاصل ہو۔

اس کے بعد این آر سی بنایا جائے گا اور اس کے ذریعہ ہم ایک ایک درانداز کا پتہ چلا کر اسے اپنے مادر وطن سے نکال باہر کریں گے۔ امیت شاہ کے اس ٹوئٹ سے ان کے ارادے واضح ہوجاتے ہیں۔ آسام میں این آر سی سے متعلق جو تجربہ رہا ہے، حکومت کو اس سے ہوش کے ناخن لینا چاہئے اور خواب غفلت سے بیدار ہونا چاہئے۔ اس ریاست میں این آر سی کا عمل انتہائی تکلیف دہ رہا اور تمام سطحوں پر آسامی عوام کو کئی ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ ایسا عمل ہے جس میں سرکاری عہدیداروں کے ہر اقدام کو قانونی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے جبکہ عوام کی بے بسی و مجبوری بڑھ جاتی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ خاص طور پر آدی واسی اور قبائیلی کئی دہوں سے جنگلات میں رہتے ہیں اور ان کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں، مثال کے طور پر آسام میں 19.5 لاکھ لوگوں کے پاس اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے کوئی مناسب دستاویزات نہیں تھے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان میں 12 لاکھ لوگ ہندو تھے۔ حالانکہ بی جے پی اینڈ کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ آسام میں 50 لاکھ سے زائد لوگ ایسے ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش سے دراندازی کی، تاہم این آر سی کے عمل نے بی جے پی کے دعوے کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ ایک بات ضرور ہے کہ پناہ گزینوں اور ظلم و ستم کا شکار طبقات کو پناہ دینا ضروری ہے اور یہ پناہ انسانی اقدار اور اصولوں کی بنیاد پر دی جانی چاہئے، مذہب کی بنیاد پر نہیں۔

ایک ایسا ملک جو دعویٰ کرتا ہے کہ ہم واسودھائیوا کٹمبکم کے اصول پر جیتے ہیں، وہ اپنی اقلیتوں پر ظلم نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان کی اپنی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنا سکتا ہے۔

مجھے اُمید ہے کہ سپریم کورٹ حساس اقلیتوں کو حکومت کے غلط فیصلوں سے بچانے کیلئے سرگرم رول ادا کرے گی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سی اے اے ایک غیرمنصفانہ قانون ہے اور اسے واپس لینا بہت ضروری ہے۔

(Ram Puniyani is a former professor of biomedical engineering and former senior medical officer affiliated with the Indian Institute of Technology Bombay)

متعلقہ خبریں

Back to top button