مہاراشٹر میں 61 ملزمان پر شکنجہ،6 مقدمات درج
ممبئی/بنگلور، 18 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک کے ہبلی اور مہاراشٹر میں رام نومی کے موقع پر بھڑکنے والے تشدد کے معاملے میں اب دونوں ریاستوں کی حکومتوں نے کارروائی تیز کر دی ہے۔ کرناٹک پولس نے جہاں اے آئی ایم آئی ایم کونسلر کے شوہر سمیت 88 لوگوں کو اس معاملے میں گرفتار کیا ہے وہیں مہاراشٹرا پولس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 6 کیس درج کرکے 61 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔
بتادیں کہ پرانے ہبلی پولیس اسٹیشن پر بھیڑ کی طرف سے پتھراؤ کے بعد علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ اس واقعے میں چار پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کے مطابق ہجوم قابل اعتراض واٹس ایپ پوسٹ کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا تھا جبکہ پولیس نے ملزم کو پہلے ہی گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
لیکن فسادی پولیس کی کارروائی سے مطمئن نہیں تھے اور اسی وجہ سے آدھی رات کے قریب انہوں نے پولیس اسٹیشن پر پتھراؤ کیا اور کئی گاڑیوں کو توڑ دیا۔پولیس کمشنر کے مطابق، اس کے بعد ہجوم نے مقامی اسپتال اور ہنومان مندر پر بھی پتھراؤ کیا۔ جس کے بعد پولیس کو ان پر لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
مانکھرد اور مہاراشٹر کے دیگر مقامات پر رام نومی کی تقریبات کے دوران تشدد بھڑکانے پر مختلف تھانوں میں چھ مقدمات درج ہیں۔ مانخورد میں دو برادریوں کے درمیان تصادم کے واقعے میں 30 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر 61 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔مہاراشٹر کے امراوتی ضلع کے اچل پور قصبے میں پیر کو کرفیو نافذ کر دیا گیا جب دو برادریوں کے افراد نے مذہبی جھنڈے ہٹانے پر ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔



