سرورققومی خبریں

آگرہ: ہندو لڑکی سے رشتے پر مشتعل ہجوم نے مسلم شخص کے گھر کو نذر آتش کیا

آگرہ،16؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آگرہ میں دائیں بازو کے کارکنوں نے ایک ہندو خاتون کو اغوا کرنے کے الزام میں ایک مسلمان شخص کے خاندان کے دو مکاوں کو نذر آتش کر دیا۔ ویسے ایک ویڈیو کلپ میں متعلقہ خاتون نے کہا کہ وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی سے گئی تھی۔ 

پولیس نے اس حملے میں ملوث آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک تنظیم کے ارکان نے کیا۔اس واقعہ کے سلسلے میں ایک پولیس چوکی کے انچارج کو غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا ہے اور مقامی تھانے کے انچارج کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جم کے مالک ساجد جس گھر میں رہتے تھے اسے ہجوم نے نذر آتش کر دیا تھا۔ اس خاندان کے قریبی گھر بھی جل گئے ۔ ہجوم خاتون کو اغوا کرنے کے الزام میں جم کے مالک کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاتون کی عمر 22 سال ہے وہ ابھی اسکول میں زیر تعلیم ہے۔

رنکتا بازار میں بھی دکانیں بند رہیں اور تاجروں نے بھی ساجد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ جم مالک کے گھر پر حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ لڑکی جو کہ گیارہویں کلاس میں پڑھتی تھی، پیر کو لاپتہ ہو گئی تھی۔ دو دن بعد پولیس نے اسے ڈھونڈ نکالا لیکن ساجد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔خاتون کے اہل خانہ نے گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی جس کے بعد پولیس نے اس کی تلاش شروع کردی۔ ان کی شکایت پر آئی پی سی کی دفعہ 366 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button