قومی خبریں

’سماجوادی پارٹی کو 100سیٹ مسلمانوں کی رہین منت‘ کمال فاروقی نے اکھلیش یادوکی خاموشی پرگھیرا،یہی رویہ رہاتوبڑانقصان ہوگا

لکھنؤ17اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش میں اہم اپوزیشن پارٹی سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور اس کے صدر اکھلیش یادو پر مسلم کمیونٹی سے متعلق مسائل پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ایس پی کے سینئر لیڈر اعظم خان کے کچھ حامیوں نے کھل کر ایسے الزامات لگائے ہیں۔

اسی معاملے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے کہاہے کہ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسلم کمیونٹی کے افراد کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا انہوں نے ایسی پارٹیوں کی حمایت کا ٹھیکہ لیا ہے جو مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہیں بولتی ہیں۔

آج مسلم کمیونٹی میں لوگوں کی بڑی تعداد ہے جو اس بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اگر ایس پی کو 100 سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں تو سب سے زیادہ حصہ مسلم کمیونٹی کا ہے۔ اکھلیش یادو کو اندازہ نہیں ہے کہ اگر وہ نہیں بولیں گے تو ان کا سیاسی وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہ موقع پرستی کی زندہ مثال ہے۔

جب الیکشن کا وقت ہوتا ہے تو مسلمانوں کی بات کرتے ہیں لیکن الیکشن کے بعد کچھ نہیں بولتے۔ یعنی اب اگلے الیکشن میں ان کو مسلمان یاد آئیں گے۔ اس کا رویہ بہت موقع پرست ہے۔ ووٹ کی بات چھوڑیں اصول نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں۔ جینت چودھری نے اپنی بات کہی ہے۔ کم از کم انھوں نے ہمت تو دکھائی ہے۔

اکھلیش یادو بالکل خاموش ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ اگر سماج وادی پارٹی کا یہی رویہ رہا تو مسلمان یقیناً کسی اور آپشن کی طرف دیکھیں گے۔ مسلمانوں کو بھی اس بارے میں سوچتے رہنا چاہیے۔ مسلمان اس وقت مشکل میں ہیں اور وہ اس سے ضرور نکلیں گے۔

میرے خیال میں انہیں سیاسی متبادل کے بارے میں سوچتے رہنا چاہیے اور وہ بھی سوچ رہے ہیں۔ اگر اکھلیش یادوکی آنکھ نہیں کھلی تو ان کا برا حال ہوگا۔ مسلمانوں کے پاس کم متبادل ہیں۔ لیکن مجھے اب بھی یقین ہے کہ مسلمان کسی بھی حالت میں فرقہ وارانہ سیاست کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔

اس نے اس الیکشن میں بھی یہی ثابت کیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم نے پوری کوشش کی۔ مسلمان ملک کے بارے میں سوچتے ہیں، اس لیے انہوں نے مذہب کے نام پر ووٹ نہیں دیا۔ مجھے نہیں لگتاہے کہ اویسی صاحب کو مستقبل میں بھی کامیابی ملے گی۔ مسلمانوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ملک کی فلاح کے لیے سیکولر طاقتوں کا ساتھ دیں۔

مسلمانوں کو جذباتی سیاست میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔انھوں نے کہاہے کہ مجھے اب بھی کانگریس جیسی پارٹی سے امید ہے۔ ایک بار جب کوئی بہت نیچے جاتا ہے تو وہ اوپر اٹھتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کانگریس کے لوگ ہوش میں آجائیں، وہ دوبارہ اٹھنے کی پوری کوشش کریں گے۔

لیکن فی الحال کانگریس کو اتر پردیش میں مسلمانوں کے لیے کوئی آپشن نظر نہیں آرہا ہے۔ مزید کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میرے خیال میں وقت آنے پر کوئی نہ کوئی متبادل ضرور ہوگا۔ جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے، مسلمان کبھی خودکشی نہیں کریں گے۔ بی جے پی کا ایجنڈا واضح ہے۔ اس کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ پارٹی کو پولرائزیشن کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے ہیں۔ لہٰذامیری رائے میں مسلمان سیکولر آپشن پر قائم رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button