مسجدکی تعمیر پر اللہ تعالیٰ کا انعام
اسی لئے فرمایا : اِنَّمَا یَعْمُرُمَسٰجِدَاللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ ترجمہ: اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں
حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے زمین کے کچھ حصوں کو فوقیت دی ہے ان میں اہم اورعظمت والی کعبۃ اللہ کی زمین ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُّبَارَکَا وَّھُدًی لِّلْعٰلَمِیْن۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین پرسب سے مہتم بالشان گھربنایا اور سب سے پہلے کعبہ والی زمین بنائی کہ ایک ہلکی سی پپڑی جمی اورپھروہ پھیلتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ ایک بڑا حصہ بن گئی اوراس کواللہ نے ارض یعنی زمین کانام دیا، اللہ نے ارشاد فرمایا وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ کہ ہم نے تمہارے لئے زمین کو بچھا دیا ہے اوردوسری جگہ ارشاد فرمایا: وَالاَرْضَ فَرَشْنٰہاَ اور ہم نے تمہارے لئے زمین کوفرش بنادیا تاکہ تم چل پھر سکو، اللہ تعالیٰ نے کعبۃ اللہ شریف کی زمین کو دنیاکی ساری زمین کے حصوں پرفوقیت دی ہے۔
اس دنیا میں سات براعظم ہیں یعنی زمین کے سات حصے ہیں جن میں ایک خلیج ہے، عرب کا وہ حصہ جس پر کعبۃ اللہ ہے وہ بہت ہی متبرک اوربہت ہی قدیم ہے۔روایت میں ہے کہ یہ زمین کی ناف ہے،کعبۃ اللہ کے بالکل اوپر ساتویں آسمان پربیت المعمورہے جس کوفرشتوں کا کعبہ کہا جاتا ہے اوربیت المعمور کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ اور اس کے اوپر عرش معلی ہے ۔
مسجدیں جنت کی کیاریاں ہیں
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسجدیں جنت کی کیاریاں ہیں، حضرت ابوہریرہؓ ایک مرتبہ بازارگئے اورفرمایا افسوس کہ تم لوگ دوکانداری کررہے ہواور مسجد نبوی میں مسلمانوں کو میراث تقسیم ہورہی ہے ، لوگ دوڑے ہوئے مسجد نبوی پہونچے دیکھا تو وہاں کچھ لوگ ذکراللہ میں مشغول ہیں اورکچھ لوگ تلاوت کلام اللہ میں مشغول ہیں، سارے لوگ واپس ہوئے اورکہا یا ابو ہریرہؓ وہاں توکچھ نہیں ہے؟ ابو ہریرہؓ نے کہا سبحان اللہ وہاں تو لوگ ذکراللہ اور تلاوت کلام اللہ میں مشغول ہیں وہی تو مسلمانوں کی اصل میراث ہے ۔
مسجد کی زمین کی عظمت
حضورﷺ نے ارشاد فرمایاکہ مسجدیں گویا کعبۃ اللہ شریف کا حصہ ہیں، روایت میں ہے کہ دنیا کی ہرمسجدکوکعبۃ اللہ شریف سے نسبت حاصل ہے اور ساری مسجدوں کا مرکز کعبۃ اللہ شریف ہے ، دنیا میں جہاں کہیں بھی مسجد بنائی جائے، وہ کعبۃ اللہ شریف کا ایک حصہ ہے ۔
حضورﷺ نے ارشاد فرمایاجب دنیا فنا ہو گی اورزمین کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے فرشتوں کو حکم فرمائیں گے کہ دنیا کی ساری مسجدوں کی زمینوں کوکعبۃ اللہ کی زمین سے ملادو، یہ ہے مسجدوں کی عظمت اوروقعت کہ قیامت کے دن بھی اس کوتباہ وبرباد نہیں کیا جائے گا بلکہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں اربوں مسجدیں بنی ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ یہ شرف عطافرمائیں گے کہ مساجد کی زمین کوجنت کی زمین میں شامل کردیا جائے گا، گویا دنیا میں مسلمان جس زمین پرنمازپڑھتے ہیں اورجس زمین کومسجد قراردیتے ہیں وہ جنت کی زمین ہے ، تواللہ تعالیٰ نے یہ فخراورسعادت کی چیزبنائی کہ جنت کے ٹکڑے پرمسلمان نمازادا کرتے ہیں۔
اسی لئے فرمایا : اِنَّمَا یَعْمُرُمَسٰجِدَاللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ ترجمہ: اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ یعنی مسجد بنانے کی ان ہی لوگوں کوتوفیق ہوتی ہے جن کواللہ تعالیٰ قبول فرمالیں اورجن پر اللہ کا خصوصی انعام اورخصوصی رحمت ہو، اسی لئے مسئلہ یہ ہے کہ دین کے کاموں میں غیرمسلم سے تعاون لے سکتے ہیں لیکن اگر مسجد بناناہو تو غیرمسلم سے تعاون نہیں لیں گے بلکہ خالص ایمان والے اسے تیارکریں گے ۔
گویا اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے کہ مسجدمیں خالص ایمان والوں کی جان اورمال لگتا ہے، حضور ﷺ نے بنفس نفیس خودمدینہ میں مسجد تعمیر فرمائی اوراس کا تذکرہ بھی اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا: لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التّٰقٰوی اللہ کے رسولﷺ نے جومسجد کی بنیاد رکھی ہے وہ خالص تقویٰ پر رکھی ہے، مسجد نام ونمودکے لئے نہیں بنائی جاتی اورنہ مسجد کسی شان وشوکت کے لئے بنائی جاتی ، اللہ کے رسولﷺ کے عمل نے اوراس آیت شریفہ نے بتادیاکہ مسجد کی بنیاد صرف تقویٰ پررکھی جائے ۔
حضورﷺ نے سب سے پہلے مسجد قبا کی بنیاد رکھی
حضورﷺ نے سب سے پہلے جس مسجد کی بنیاد رکھی اس کا نام مسجد قبا رکھا ، آج مسجد قبا مدینے میں شامل ہے لیکن اس زمانے میں یہ مسجد مدینے سے باہرتھی ، اورآپﷺ نے سب سے پہلے وہاں جمعہ کی نماز پڑھائی ، پھر جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے توصحابہ کے مشورے سے مسجد نبوی کی بنیاد رکھی ، وہ زمین دویتیم بچوں کی تھی آپﷺ نے اس کو خرید کر مسجد کی بنیادرکھی، (آج مسجد نبوی کی وسعت کا ہم تصوربھی نہیں کرسکتے ہیں) آس پاس جو پتھرتھے وہ سب چن چن کرلائے گئے اوردیواریں بنائی گئیں، ساتھ میں مٹی کا گارا بھی استعمال کیا گیا، آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس مسجد کی دیوار تعمیرفرمائی اور صحابہ مستقل آپ ﷺ کے ساتھ لگے رہے ، جب دیوارسرسے اوپر اٹھ گئی تواس کے اوپر کھجور کے تنے اورپتے ڈال دئیے گئے تاکہ سایہ ہوجائے ۔
روایت میں ہے کہ اس وقت مسجد ایسی تھی کہ صرف دھوپ سے نمازیوں کوامان مل جائے، جب بارش ہوتی تومسجد نبوی کی زمین گیلی ہوجاتی ، جب نمازپڑھتے تو پیشانی پرگارا لگ جاتا ۔
ایک بزرگ مدینہ میں مسج دنبوی تلاش کررہے تھے
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضورﷺ نمازپڑھ رہے ہیں ، جب آپ ﷺ نمازسے فارغ ہوئے توآپ کی پیشانی پرگارا لگا ہوا تھا ، دنیا کے سارے انسانوں کا بادشاہ اورسارے نبیوں کا سردار، کائنات کاسب سے بڑا محسن نمازپڑھتا ہے تو پیشانی پرگارالگ جاتا ہے ۔
اللہ اکبر! آپ ﷺ کی برکت سے آج اس مسجد کی یہ حالت ہے کہ آپﷺ کے امتی قالین پرنمازپڑھتے ہیں اورآرام وآسائش کے سارے سامان موجود ہیں، گرمی اور سردی کے لئے الگ الگ پانی موجودہے ، آپ ﷺ نے بالکل سادی مسجد میں نماز ادا فرمائی اورآپﷺ کے امتی عالیشان مساجد میں نمازپڑھ رہے ہیں ۔
ایک بزرگ مسجد نبوی میں حاضر ہوئے ، مسجد نبوی میں اتنی صفائی اورستھرائی ہے کہ شاید دنیا میں کہیں نہیں وہ بزرگ نمازپڑھ کربہت روئے ، مسجد نبوی کے امام صاحب نے پوچھا آپ اتنا کیوں رورہے ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ایک زمانہ تھا کہ جب آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ نمازپڑھتے توان کی پیشانی پرمٹی لگ جاتی اور بارش ہوتی تو کپڑے ترہوجاتے ،میں اسی مسجد کوتلاش کرنے آیا تھا۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آخری زمانے میں ایسی مسجدیں بنائی جائیں گی جومحلات کی طرح ہوں گی اورعمارتیں بڑی عالیشان ہوں گی اوراس میں نقش ونگار خوب ہوں گے ، حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ مسجد سادہ بناؤ۔
سب سے پہلے پختہ مسجد کب بنائی گئی
حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں مسجد کو پختہ بنایا گیا تو بہت سے صحابہ نے اعتراض کیا اور کہا کہ حضورﷺ کی مسجد کو اسی حالت میں رہنے دو جس حالت میں حضور ﷺ کے زمانے میں تھی، وہی کچی دیواریں اور وہی کچی چھت اور کچی زمین، تو حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا کہ میں آپ حضرات کے جذبہ کی قدر کرتا ہوں بہت سارے احباب مسجد کو قدیم حالت پر رکھنا چاہتے ہیں ، حضورﷺ کے زمانے میں غربت زیادہ تھی آج مسلمانوں کی حالت اچھی ہے اورمسلمانوں کے پاس حکومت ہے اورمسلمانوں نے اپنے رہنے کے لئے عظیم الشان مکان بنالئے ہیں ، اگرکسی مسلمان کے دل میں یہ بات آجائے کہ مسجد سے اچھا تومیرا گھر ہی ہے تواللہ ناراض ہوجائے گا، میری رائے ہے کہ اللہ کا گھر بندوں کے گھر سے اچھا رہے تاکہ اللہ کے گھرکی عظمت ہمارے دلوں میں پیدا ہو۔
حضرت عثمان غنیؓ نے سب سے پہلے مسجد کوپختہ بنایا الحمدللہ پوری دنیا میں مسجدیں پختہ ہونے لگیں ، بڑی بڑی عمارتیں تعمیرہونے لگیں ، دنیا میں لاکھوں کروڑوں مساجد تعمیر ہورہی ہیں ان میں نمازپڑھنے والوں کو، امداد کرنے والوں کو اورمحبت بھری نظروں سے دیکھنے والوں کواللہ نے اپنے خاص بندوں میں شامل کرنے کا وعدہ کررکھا ہے ،
اسی لئے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰہِ بَنَی اللّٰہُ لَہٗ بَیْتًا فِیْ الجَنَّۃِ جو لوگ اللہ کے گھرکی تعمیرکریں، مسجدوں کی بنیاد رکھیں تواللہ رب العزت جنت میں عالیشان محل بنائیں گے، دنیا میں آپ مسجد مٹی اور چونے کی بنائیں گے ، اینٹ کی بنائیں گے لیکن اللہ کا احسان دیکھئے کہ جنت میں جو محل ہوگا اس کی اینٹ سونے اور چاندی کی اور گارا مشک وعنبر کا ہوگا اوراس میں جو درخت ہیں اس کے تنے سونے کے ہوں گے، جب ہوا سے اس کے پتے ہلتے ہیں توایک خاص قسم کی سریلی آواز آئے گی جس کوسن کرجنتی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گا۔



