
اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں ، سورہ القمر آیت نمبر ٢٢ ترجمہ ” اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا " کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو آیت کریمہ پکار کر کہہ رہی ہیں ، کوئی ہے جو اللہ کی نصحیت قران سے حاصل کریں حکمت و دانائی سے لبریز اللہ کا کلام زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کر رہا ہے ، تاہم ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان اس نصحیت کو اپنے فہم و ادراک سے پرے کیے ہوئے ہیں ، وجہ خالصتاً دنیا طلبی میں مصروف زندگی ہر ملک ہر شہر، ہر گاؤں میں نظر آتی ہیں ،
نیز اللہ فرماتے ہیں سورہ ھود آیت نمبر ٦ اس آیت کا مفہوم ہے ہر ذی حیات کے لئے زمین پر اس کی تمام ضروریات کا سامان اللہ نے رکھ چھوڑا ہے نیز یہاں تک کہ دیا انسان کہاں چلے گا کہاں ٹھرے گا یہ سب حرکات اللہ نے کتاب مبین میں لکھ دیا ہے، آیت اسی جانب اشارہ کرتی ہے ، ہر ذی حیات کے رزق کا ذمہ اللہ نے ا پنے ذمہ لے رکھا ہے ، اس واضح آیت کے بعد انسان کے پاس کہنے کو کیا باقی رہ جاتا ہے ، اللہ کے دائرہ اختیار میں ہر ذی حیات کا رزق ہے وہ رزق ہر صورت اس تک پہنچ کر رہے گا ، حتیٰ کہ انسان نے کہاں ٹھرنا نیز کہاں روکنا ہے یہ بھی کتاب مبین میں درج ہیں ، اب انسان کے اپنے اختیار میں کیا باقی رہ گیا ؟
اللہ کے دائرہ اختیار میں انسان داخل ہونا چاہتا ہے ، رزق کی تلاش میں انسان پریشاں حال ملک در ملک، شہر در شہر، گاؤں در گاؤں دوڑتا پھیرتا نظر آتا ہے ، نتیجتاً انسان جب کچھ حاصل کر لیتا ہے اللہ کی مرضی و مہربانی سے اس ادنی سی کامیابی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے ، یہ غیر فطری انسانی عمل بارگاہِ خداوندی و بارگاہِ رسالت میں کیسے مقبول ہوسکتا ہے ، اللہ کا کلمہ پڑھنے والے دجالی نظام کے مخالفت میں لب کشائی کیوں نہیں کرتے عشرت و نصرت دنیا طلبی انسانی اعصاب پر سوار ہو کر رہ گئی ہے ،حلال و حرام کی تمیز انسانی وجود سے فارغ ہو چکی۔
بہر کیف سر پرست کی طرح اللہ فرماتے ہیں ” ہیں کوئی نصیحت حاصل کرنے والا” اگر انسانوں نے نصیحت حاصل کی ہوتی تو دنیا کا نقشا دیگر ہوتا، دین مصطفیٰ ﷺ دنیا پر غالب ہوتا ، دجالی سرپرستوں کے ہاتھوں میں دنیا کا نظام نہ جاتا۔
کرہ ارض کا کوئی چھوٹا سا ٹکڑا ایسا موجود نہیں ہیں جہاں دین مصطفیٰ ﷺ اپنے حقیقی انداز میں غالب و موجود ہو، ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان سودی نظام کی ذد میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں ، کاغذی نوٹ کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں ، کیا یہی نصحیتیں اللہ نے رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے انسان کو کی ہے، کیوں نہیں مسلمان رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے مطابق عطاء کردہ دین کی طرف اپنا رخ کر رہے ہیں ؟
دجالی نظام کی دلچسپ اداؤں نے ہمیں دنیا کا طلب گار بنا دیا ہم مظلوم بن کر رہ گئے ظالم ہر بہانے ہم پر ظلم کرتا جا رہا ہے خوف و دہشت نے ہمارے دلوں حتیٰ کہ ہمارے لبوں پر قفل لگادیے، ہم ظلم کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوتے چلے گئے ، انصاف کے لئے عدالتیں اپنی نشست پر روزآنہ بیٹھتی تو ضرور ہے تاہم انصاف شادونادر ہی کہی باقی رہ گیا ، جمہوری طرز زندگی ایک معاشقہ کی طرح ہمارے روبرو رقص کرتی ہے اس کی ہر ادا ہمیں لطف فراہم کرتی ہے اس غیر فطری عشق نے انسانی عقلوں کو مفلوج کر رکھا ہے ۔
ہم دین محمد مصطفیٰ ﷺ کو بالائے طاق رکھ کر دجالی نظام کے پیروکار بن چکے ہیں حالات ایسے تبدیل ہو چکے جو رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ نے دیا اس امانت کو امہ آگے نہیں پہونچا سکی، بت پرستی، شرک کا ملک میں جابجا بول بالا ہے، ملک کی اکثریت سو کروڑ پر مبنی اللہ کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرتے غفلت کے شکار اس کثیر تعداد تک ہم پیغام رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کو ان غافلوں تک نہیں پہنچا سکے کوتاہی ہم سے ہوئ، ہم اپنے ہی رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کا پیغام عام نہ کر پائے، ہر مسلم کو اپنے طور پر اس کے لئے کوشاں ہونے کی ضرورت ہے،
ملک میں کثیر تعداد امہ کی شکل میں موجود ہے اس عظیم طاقت کو یکجا کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے،پیغام رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کو غفلت کے شکار انسانوں تک پہچانا ہماری ترجیحات میں شامل رکھنا چاہیے یہی واحد راستہ ہے جو ہمیں بلندی پر گامزن کرنے کی ضمانت دیتا ہے، روز محشر ہم سے جب سوال ہوگا اس ضمن میں کیا جواب ہم اللہ کو پیش کریں گے؟
وماعالینا الاالبلاغ المبین



