
الہ آباد ہائی کورٹ کی ہم جنس جوڑے کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت
"شادی کی قانونی منظوری نہ ہونا بالغ شہریوں کی عزت اور جسمانی تحفظ پر حملے کا جواز نہیں بن سکتا۔"
پریاگ راج:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش پولیس کو ایک بین المذاہب ہم جنس جوڑے کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بالغ شہریوں کو اپنی مرضی سے پُرامن زندگی گزارنے کے حق سے محض اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے تعلق کو ازدواجی حیثیت حاصل نہیں ہے۔
جسٹس گوتم چودھری نے اپنے حکم میں کہا کہ دونوں خواتین بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کر چکی ہیں، اس لیے انہیں خاندان کے افراد یا کسی دوسرے شخص کی مداخلت کے بغیر پُرامن طور پر ساتھ رہنے کی آزادی حاصل ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر جوڑے کے ساتھ رہنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے تو پولیس، دونوں کی عمر بالغ ہونے اور ان کے اپنی رضامندی سے ایک ساتھ رہنے کی تصدیق کے بعد، انہیں فوری طور پر ضروری سکیورٹی فراہم کرے۔
درخواست گزار جوڑے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دونوں خواتین کو اپنے خاندان کے افراد کی جانب سے جان کو خطرہ لاحق ہے اور انہیں فوری پولیس تحفظ درکار ہے۔
دوسری جانب ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ہم جنس تعلقات معاشرے کے قدرتی اور روایتی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں اور انہیں سماجی طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔
عدالت نے دونوں خواتین سے بات چیت کے بعد مشاہدہ کیا کہ وہ بالغ ہیں اور کسی دباؤ، خوف یا غیر ضروری اثر و رسوخ کے بغیر اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔
ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کی جانب سے طے کیے گئے قانونی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو بالغ شہریوں کا اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہنا ان کے بنیادی حقوق سے متعلق معاملہ ہے۔ عدالت کے مطابق خاندان کے افراد، رشتہ دار یا معاشرے کا کوئی بھی طبقہ ان کی جسمانی آزادی میں مداخلت یا اسے متاثر کرنے کا قانونی حق نہیں رکھتا۔
14 ستمبر کو جاری کیے گئے حکم میں عدالت نے مزید کہا کہ کسی تعلق کو شادی کی قانونی حیثیت حاصل نہ ہونے کی صورت میں بھی کسی کو بالغ شہریوں کی عزت، وقار اور جسمانی تحفظ پر حملہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہو جاتا۔



