
صرف ناجائز تعلقات کے الزام سے بیوہ کا قانونی درجہ ختم نہیں ہو سکتا: الہ آباد ہائی کورٹ
شوہر کی وفات کے بعد مبینہ ناجائز تعلقات کا الزام بیوہ کی قانونی حیثیت یا وراثتی حقوق ختم کرنے کے لیے کافی نہیں، ثبوت ضروری
نئی دہلی، 8 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) الہ آباد ہائی کورٹ نے خاندانی جائیداد اور وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی خاتون کے بیوہ ہونے کی قانونی حیثیت محض اس الزام سے ختم نہیں کی جا سکتی کہ شوہر کی وفات کے بعد اس کے کسی دوسرے شخص سے ناجائز تعلقات تھے۔ عدالت نے کہا کہ جب شادی اور شوہر کی وفات کے حقائق تسلیم شدہ ہوں تو بیوہ کا قانونی درجہ خود قائم ہو جاتا ہے اور بعد کے مبینہ تعلقات کی بنیاد پر اس حیثیت یا اس سے وابستہ قانونی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی شخص کو قانونی اولاد یا وارث کے درجے سے محروم کرنے کے لیے محض زبانی دعوے کافی نہیں ہیں۔ اس مقصد کے لیے قانون کے مقررہ معیار کے مطابق قابل اعتماد، ٹھوس اور آزادانہ شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔ جسٹس انیل کمار کی سنگل بینچ نے یہ حکم بلیا ضلع سے متعلق ایک پرانے دیوانی تنازع کی پہلی اپیل منظور کرتے ہوئے دیا، جو تقریباً دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے عدالت کے سامنے زیر سماعت تھا۔
یہ معاملہ بلیا ضلع کے ایک خاندان کی جائیداد اور وراثتی حقوق سے متعلق تھا۔ مقدمے کے مطابق، آنجہانی شری پتی پانڈے کے تین بیٹے رام اوادھ پانڈے، وندھیانچل پانڈے اور جگت نارائن پانڈے تھے۔ وندھیانچل پانڈے کی شادی راجیشوری دیوی سے ہوئی تھی۔ ان کا انتقال 1938 میں بغیر کسی اولاد کے ہوا تھا۔
رام اوادھ پانڈے کے بیٹے ہری شنکر پانڈے نے 1988 میں دیوانی مقدمہ دائر کیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ راجیشوری دیوی کو وندھیانچل پانڈے کی بیوہ قرار نہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے شیوشاگر اور شیو کمار کے بارے میں بھی دعویٰ کیا کہ وہ رام اوادھ پانڈے کی قانونی اولاد یا وارث نہیں بلکہ راجیشوری دیوی اور رام اوادھ پانڈے کے مبینہ تعلق سے پیدا ہوئے تھے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ راجیشوری دیوی ایک برہمن بیوہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ شادی نہیں کر سکتی تھیں اور مبینہ طور پر کسی دوسرے شخص کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے بعد انہوں نے اپنے پہلے شوہر کی بیوہ ہونے کی قانونی حیثیت اور اس سے وابستہ حقوق کھو دیے تھے۔
بلیا کی دوسری ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت نے 2000 میں درخواست گزار کے دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ ماتحت عدالت نے اپنے فیصلے میں 1963 کے ایک پرانے معاملے کا بھی سہارا لیا تھا، جو اس وقت ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 488 کے تحت نان و نفقہ سے متعلق کارروائی کے دوران سامنے آیا تھا۔ اس کارروائی میں مبینہ ناجائز تعلقات کے حوالے سے کچھ تبصرے درج تھے۔
ماتحت عدالت کے فیصلے کو راجیشوری دیوی اور دیگر فریقین نے 2001 میں الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے ریکارڈ پر موجود شواہد، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ قانونی دفعات کا جائزہ لینے کے بعد ماتحت عدالت کے فیصلے کو قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانونی حیثیت کسی شخص کے ایسے ذاتی قانونی مرتبے کو ظاہر کرتی ہے جسے قانون تسلیم کرتا ہے۔ اس معاملے میں خود درخواست گزار نے اپنے مقدمے میں راجیشوری دیوی کی وندھیانچل پانڈے سے شادی اور 1938 میں ان کے شوہر کی موت کے حقائق تسلیم کیے تھے۔ عدالت کے مطابق، جب شادی اور شوہر کی وفات دونوں حقائق تسلیم شدہ ہوں تو خاتون کے بیوہ ہونے کا قانونی نتیجہ بھی قائم ہو جاتا ہے۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ بعد میں پیش آنے والے کسی مبینہ تعلق کو بنیاد بنا کر پہلے سے قائم قانونی حیثیت کو ختم کرنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا، خاص طور پر اس وقت جب الزام کے حق میں قابل اعتماد ثبوت موجود نہ ہوں۔
عدالت نے بھارتی شہادت قانون کی دفعات 50 اور 112 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اس معاملے میں ایسا ٹھوس اور براہ راست ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا جس سے 1960 کے مبینہ تعلقات کو قابل اعتماد انداز میں ثابت کیا جا سکے۔ عدالت کے مطابق گواہوں کے بیانات میں ایسا کوئی مخصوص ذاتی علم سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر اتنے اہم دعوے کو درست مانا جا سکے۔
عدالت نے کہا کہ محض ایک ہی بات کو زبانی طور پر دہراتے رہنے سے وہ اعلیٰ معیارِ ثبوت پورا نہیں ہوتا جو کسی شخص کی قانونی حیثیت، ازدواجی رشتے یا اولاد کی قانونی حیثیت کو متاثر کرنے کے لیے ضروری ہے۔
ہائی کورٹ نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 488 کے تحت 1963 میں دیے گئے نان و نفقہ کے حکم پر ماتحت عدالت کے انحصار کو بھی قانونی طور پر غلط قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایسی کارروائی کا مقصد فوری اور مختصر طریقہ کار کے ذریعے نان و نفقہ سے متعلق راحت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اسے جائیداد کی ملکیت، وراثتی حق یا کسی شخص کی مستقل دیوانی قانونی حیثیت طے کرنے کے لیے حتمی ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اس بنیاد پر الہ آباد ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے راجیشوری دیوی اور دیگر اپیل کنندگان کے حق میں فیصلہ سنایا اور واضح کیا کہ محض الزامات کی بنیاد پر کسی خاتون کی بیوہ کی قانونی حیثیت یا کسی شخص کے قانونی وارث ہونے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔



