سیاسی و مذہبی مضامین

امی جان کہتی تھیں کوئی دھندا چھوٹا نہیں ہوتا✍️محمد مصطفی علی سروری

محمد نذیر ایک فوڈ ڈیلیوری کمپنی میں ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کرتا تھا اور رات بارہ بجے بھی وہ کھانے کی ڈیلیوری کے لیے جارہا تھا کہ راستے میں یہ حادثہ پیش آیا جس کے دوران اس کی جان چلی گئی۔

دسمبر کا مہینہ شہریانِ حیدرآباد کے لیے سردیوں کا موسم ہوتا ہے۔ اس برس بھی اس مہینے کے دوران خاصی سردی پڑ رہی تھی۔ 25؍ دسمبر اتوار کی رات بارہ بجے کا وقت تھا۔ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم تھی۔ جتنے لوگ بھی سڑکوں پرنظر آرہے تھے زیادہ تر لوگ گرم کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے۔ شہر حیدرآباد کے نانک رام گوڑہ، گچی بائولی کا وہ علاقہ ہے جہاں رات کے اوقات میں آئی ٹی آفسوں میں کام کاج ہوتا رہتا ہے اور بہت سارے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ویپرو ٹریفک سگنل کے پاس بارہ بجے کے قریب ایک سڑک حادثہ پیش آتا ہے جس میں ٹریفک سگنل کو توڑ کر ایک ٹرک چار کاروں اور دو موٹر سائیکلوں کو کچل دیتا ہے۔

اس حادثہ میں ایک نوجوان ہلاک اور دیگر 10 لوگ زخمی ہوجاتے ہیں۔ 26؍ دسمبر کے اخبارات نے ٹریفک کے اس حادثہ کی خبر شائع کرتے ہوئے اس حادثہ میں مرنے والے نوجوان کی شناخت محمد نذیر کی حیثیت سے کرتے ہیں جبکہ خبروں میں یہ بھی بتلایا گیا کہ محمد نذیر ایک فوڈ ڈیلیوری کمپنی میں ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کرتا تھا اور رات بارہ بجے بھی وہ کھانے کی ڈیلیوری کے لیے جارہا تھا کہ راستے میں یہ حادثہ پیش آیا جس کے دوران اس کی جان چلی گئی۔

قارئین کرام محمد نذیر ان ہزاروں نوجوانوں میں سے ایک تھا جو اپنے وطن میں ہی محنت کر کے حلال طریقے سے روٹی روزی کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ فوڈ ڈیلیوری کرکے کیا حاصل ہونے والا ہے جو نوجوان ایسا سونچتے ہیں۔ وہ حقیقت سے آنکھ موندنا چاہتے ہیں۔

شیخ عبدالستار کا تعلق وشاکھا پٹنم، آندھرا پردیش سے ہے۔ بہت سارے نوجوان کی طرح اس کا تعلق بھی ایسے گھرانے سے ہے جہاں گھر میں کمانے والا ایک فرد اور کھانے والے بہت سارے لوگ تھے۔ یہی نہیں دوسروں کی طرح عبدالستار کے والد بھی قرضوں کے دلدل میں پھنسے تھے۔ اس ساری صورت حال کے پس منظر میں عبدالستار نے بارہویں تک انٹرمیڈیٹ کی تعلیم تو حاصل کرلی ۔ اس کے بعد آگے کی تعلیم بظاہر ممکن نظر نہیں آرہی تھی۔ تب عبدالستار نے فوڈ ڈیلیوری کا کام شروع کیا۔ اس کے والد ایک کنٹراکٹ مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔ صرف ایک جگہ نہیں بلکہ عبدالستار نے اولا، زوماٹو سے لے کر سویگی غرض ہر کمپنی کے لیے کام کیا۔

عبدالستار نے اس طرح پارٹ ٹائم کر کے کونسا تیر مار لیا۔ تو قارئین جان لیجئے کہ آندھرا کے اس نوجوان نے ایک جانب تو اپنی آگے کی تعلیم کے لیے اخراجات خود جمع کرلیے، دوسری جانب گھر والوں کی بھی مدد کرنا شروع کردی۔ عبدالستار کے مطابق فوڈ ڈیلیوری کے کام سے اس نے نہ صرف کمانا شروع کیا بلکہ اپنی کمیونکیشن کی صلاحیتوں کو بھی نکھارنے کا کام کیا۔

اب شیخ عبدالستار دن کے وقت میں پڑھنے اور لکھنے کا کام کیا کرتا اور شام 6 بجے سے رات 12 بجے تک ڈیلیوری کا کام کرتا۔ کسی دوست نے اس کو کوڈنگ سیکھنے کا مشورہ دیا۔ محنت کے عادی اس نوجوان نے باضابطہ طور پر ایک انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیا جہاں وہ دن میں سیکھنے جاتا اور شام میں ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کرتا۔ یوں پھر وہ مرحلہ بھی آیا جب شیخ عبدالستار نے باضابطہ طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بطور سافٹ ویئر انجینئر ملازمت اختیار کرلی اور اپنی اس نئی ملازمت سے ملنے والی نئی تنخواہ سے سب سے پہلے اپنے والدین کے قرضے کو چکتا کردیا۔

قارئین کرام یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں ہے۔ سوشیل میڈیا پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شیخ عبدالستار نے بتلایا کہ اس نے کوڈنگ کا کورس نومبر 2021 میں سیکھنا شروع کیا تھا۔ اخبار ہندوستان ٹائمز نے عبدالستار کی جدو جہد پر 29؍ مئی 2022ء کو ایک اسٹوری بھی شائع کی۔

ہمارے ملک اور معاشرے ہی میں نہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر پھیلنے والی ایک بیماری ہے جس میں متاثرہ لوگ محنت کر کے کمانے اور آگے بڑھنے کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ جو لوگ ترقی یافتہ دولت مند ہیں ان ہی کو دیکھتے ہیں۔ انہی کی نقل کرنا چاہتے ہیں۔

بلی کین Billy Cane کا تعلق ملیشیاء سے ہے 14؍ دسمبر 2022ء کو اپنے ایک سوشیل میڈیا پوسٹ میں وہ لکھتے ہیں لوگ فوڈ ڈیلیوری کرنے والوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں۔اس نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی چیز چھوٹی ہوتی ہے اور خراب ہوتی ہے تو وہ چھوٹی سونچ ہے۔

کین نے بتلایا کہ وہ ملیشیاء کے رہنے والے ہیں اور فی الحال سنگاپور میں کام کر رہے ہیں۔ سنگاپور میں انہوں نے دو دنوں تک فوڈ ڈیلیوری کا کام کرتے ہوئے 865 سنگاپوری ڈالر کمائے ہیں۔
ان کے مطابق 10؍ دسمبر کو ہفتہ اور 11؍دسمبر 2022 کو اتوار کا دن تھا ان دو دنوں کے دوران انہوں نے فوڈ ڈیلیوری کا کام کیا اور ایک دن میں اوسطاً 432.66 ڈالر کمائے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 865 ڈالر کی رقم کوئی معمولی رقم نہیں ہے۔ کیونکہ میں ملیشیاء کا رہنے والا ہوں اور اس رقم کو ملیشیاء کی کرنسی میں تبدیل کروں تو یہ 2800 ملیشین کرنسی بنتی ہے۔یہ میرے لیے خاصی آمدنی بنتی ہے۔

کین لکھتے ہیں کہ فوڈ ڈیلیوری کا کام بالکلیہ ایمانداری کا ہے۔ جہاں پر انہیں کسی کو دھوکہ دینے کی ضرورت نہیں پڑتی اور وہ محنت کر کے کمائی کرسکتے ہیں۔کین کے مطابق لوگوں کو فوڈ ڈیلیوری کا کام کرنے کا تجربہ حاصل کرنا چاہیے تاکہ اپنے لیے کمائی اور سیکھنے کا تجربہ حاصل کرسکیں۔

ملیشیاء کے اس نوجوان کی کمائی کے متعلق جب لوگوں نے سوالات کیے تو کین نے باضابطہ طور پر تفصیل سے وضاحت کی کہ انہوں نے دو دنوں میں کتنے آڈرس ڈیلیور کیے اور کیسے رقم کمائی۔ اس ملیشیائی نوجوان کا ایک ہی اصرار تھا کہ فوڈ ڈیلیوری محنت کا کام ہے۔ اس کے ذریعہ بھی روزی کمائی جاسکتی ہے۔ اس لیے اس کام کو تحقیر آمیز نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

شہر حیدرآباد میں موسم کی سردی کا بہانہ کرنے والے نوجوان موزوں موسم کے منتظر رہتے ہیں اور محنت کرنے والے آدھی رات کو بھی فوڈ ڈیلیوری کر کے اپنے لیے حلال روزی تلاش کرلیتے ہیں۔

جہاں تک محنت کا سوال ہے تو بہت سارے احباب بیماریوں کو بھی محنت کے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ کیا یہ سچ ہے کہ آیئے وی پرکاشن کی کہانی پڑھتے ہیں جو کیرالا کا رہنے والے ہیں۔

اخبار نیو انڈین ایکسپریس نے 25؍ دسمبر 2022ء کو اس حوالے سے ایک خبر شائع کی ہے۔

وی پرکاشن کیرالا کا رہنے والا شخص ہے۔ وہ 8 برس پہلے تک بھی بس کلینر کے طور پر کام کرتا تھا۔ پھر اچانک اس کو گردوں کے امراض نے آگھیرا۔ ڈاکٹرس نے بتلایا کہ اس کے گردے خراب ہوچکے ہیں اور اس خرابی کا ایک ہی علاج ہے کہ ڈائیلاسس کروایا جائے۔ اس بس کلینر کو ایک ہفتے کے دوران تین مرتبہ ڈائیلاسس کروانا پڑ رہا ہے۔ گردوں کی اس بیماری کے سبب پرکاشن بس کلینر کی جاب نہیں کرسکتا تھا۔ مجبوراً وہ بے روزگار ہوگیا۔ لیکن پرکاشن کے لیے مریض بن کر گھر بیٹھے رہنا گوارہ نہیں ہوا۔ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس نے اپنے اپنی سہولت کے مطابق کام تلاش کرنا شروع کردیا۔

پرکاشن کو اپنی زندگی میں شروع سے ہی پینٹنگ کرنے کا شوق تھا لیکن سوال یہ تھا کہ پرکاشن اب کس چیز کی پینٹنگ کرتا؟ ایک دن اس کو خیال آیا کہ وہ تو کیرالا میں بسوں پر کی جانے والی پینٹنگ تو کرسکتا ہے۔ پرکاشن کی اس خواہش کا اس کے دوستوں نے بھی احترام کیا اور اس کو کام دینا شروع کیا۔ یوں پرکاشن کے لیے آمدنی کے راستے بحال ہوئے۔ مگر یہ کام آسان نہ تھا۔ پرکاشن کو بسوں کی ونڈ شیلڈ پر پینٹنگ کرنا تھا۔

آج پرکاشن کو اوسطاً 140 بسوں کی ونڈ شیلڈ پر فیبرک پینٹنگ کر رہا ہے۔ عام طور پرایک بس کی ونڈ شیلڈ پر ہر دو ہفتوں کے بعد نئی پینٹنگ کی مانگ ہوتی ہے اور پرکاشن بس ڈرائیور کی اس ڈیمانڈ کو پورا کر رہا ہے۔ بعض بس مالکان دیوی دیوتا کی تصاویر اتارنا پسند کرتے ہیں بعض بس کے مالکان حالات حاضرہ اور عوامی پسند کا خیال کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں فٹ بال کا شوق سر چڑھ کر بول رہا تھا تو اکثر بس والوں نے فٹ بال کے کھلاڑیوں میسی، رونالڈو اور نئے مار کی تصاویر بنوائی۔

بظاہر بڑا آسان نظر آنے والا کام کیا واقعی آسان ہے؟ پرکاشن کے لیے اصل چیالنج تو یہ تھا کہ جب بس ایک ٹرپ مکمل کر کے واپس آتی تو دوسری ٹرپ کے لیے 10 تا 15منٹ کا وقفہ ہوتا اور اسی دوران بس ڈرائیور کی فرمائش پر اس کو اپنی پینٹنگ پوری کرنی ہوتی تھی۔

بعض ڈرائیور ایک مرتبہ پینٹنگ کے صرف 100 ادا کرتے اور جب کبھی ان کاروبار خوب چلتا تو 200 روپئے بھی مل جاتے۔ دراصل وہ لوگ بھی ایک ایسے شخص کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو کل تک صحت مند تھا تو انہیں کے ساتھ کام کرتا تھا اور آج اپنی بیماری کی وجہ سے پہلے کی طرح کام کرنے سے قاصر ہے۔

پرکاشن نے اخبار نیو انڈین ایکسپریس کے نمائندے کو بتلایا کہ اس کو اپنے ڈائیلاسس کے لیے ہر ہفتہ تین دن دواخانہ جانا پڑتا ہے تو وہ ان دنوں میں کام نہیں کرسکتا تھا۔

پرکاشن کے دو بچے ہیں ۔ بچہ ابھی پڑھائی کر رہا ہے۔ بچی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے۔ اپنی زندگی کے حالات سے کیا پرکاشن مایوس ہے؟ قارئین اس سوال کا جواب بھی نفی میں ملے گا۔ کیونکہ پرکاشن کہتا ہے میری طبیعت خراب ہونے کے بعد میری نوکری چلی گئی تھی لیکن شکر ہے کہ مجھے اپنی پسند کا یعنی پینٹنگ کا کام مل گیا ہے۔ میں اپنے کام کو پسند کر رہا ہوں۔ اس کے علاوہ مجھے خوشی اس بات کی بھی ہے کہ جن کے ساتھ میں کام کرتا تھا ان لوگوں نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا اور مجھے کام دلانے میں مدد کی۔

کیا پرکاشن کو زندگی سے شکوہ ہے؟ قارئین اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ رہا ہے میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا۔ میرا لڑکا تو ابھی اسٹوڈنٹ ہے۔ مجھے ہی ایسی بیماری کیوں لگی۔

اخباری رپورٹ کے مطابق پرکاشن کہتا ہے کہ بیماریاں دنیا میں بہت سارے لوگوں کو آتی ہیں۔ بدقسمتی سے مجھے بھی بیماری لگی ہے۔ لیکن اس دنیا میں اور بھی لوگ ہیں جو مجھ سے زیادہ پریشان ہیں۔ شکر تو اس بات کا ہے کہ میں اپنی بیماری کی وجہ سے زندگی کے سفر میں رکا نہیں ہوں۔ آگے بڑھ رہا ہوں۔بس اور کیا چاہیے۔

فلم رئیس میں فلم اسٹار شاہ رخ خان کا ایک مشہور ڈائیلاگ ہے جو نوجوانوں میں کافی مقبول ہے۔ کاش کے ہم اور ہمارے نوجوان عملی طور پر محنت کے راستے پر چلیں۔فلم میں شاہ رخ خان کہتا ہے۔

’’امی جان کہتی تھیں کوئی بھی دھندا چھوٹا نہیں اور دھندے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔ ‘

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سبھی کے لیے محنت کے راستے پر چل کر حلال روزی کمانا آسان فرمائے اور ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائے۔ (آمین یارب العالمین)

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button