پورٹ بلیر: ، 15/اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دو سینئر آئی اے ایس افسران پر اجتماعی عصمت دری کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ 21 سالہ خاتون کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔یہ معاملہ انڈمان اور نکوبار جزائر کا ہے۔ پولیس نے اس کے لیے ایک ایس آئی ٹی بھی تشکیل دی ہے۔جن دو بیوروکریٹس پر اجتماعی زیادتی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ ان میں سے ایک 1990 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور انڈمان اور نکوبار جزائر کے چیف سکریٹری کے طور پر تعینات تھے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق انڈمان اور نکوبار جزائر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو 22 اگست2022 کو اس سلسلے میں ایک شکایت موصول ہوئی اور یکم اکتوبر 2022 کو پورٹ بلیئر کے ایبرڈین پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی گئی۔
پولیس نے ان کے الزامات کی جانچ کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی(SIT) تشکیل دی ہے۔ایس آئی ٹی کی سربراہی ایک سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کر رہے ہیں اور خاتون کو پولیس تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ متاثرہ نے جن دو اہلکاروں پر عصمت دری کا الزام لگایا ہے اور ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے، وہ ہیں:جتیندر نارائن Jitendra Narain ، جو مبینہ واقعے سے تین ماہ قبل تک انڈمان اور نکوبار جزائر کے چیف سکریٹری تھے۔ وہیں دوسرے آر ایل رشی ہیں جو کہ انڈمان اور نکوبار کے چیف سیکریٹری تھے۔بتا دیں کہ جتیندرنارائن اس وقت دہلی فنانشل کارپوریشن کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ان بے ہودہ الزامات پر کوئی تبصرہ کرنا پسند نہیں کریں گے۔
جب کہ رشی چھٹی پر ہیں۔ایف آئی آر (نمبر 165/2022) میں متاثرہ نے کہا ہے کہ نارائن کے گھر سے سی سی ٹی وی فوٹیج اکٹھی کی جائے اور وہ اس کے ملازمین کی شناخت کرے گی جن سے پوچھ گچھ کی جانی چاہئے۔انڈین ایکسپریس کے ذریعے حاصل کی گئی خاتون کی شکایت کے مطابق اپریل اور مئی میں پورٹ بلیئر میں نارائن کی سرکاری رہائش گاہ پر رات کے وقت دو مواقع پر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ نوکری کی تلاش میں ایک ہوٹل والے کے ذریعے لیبر کمشنر سے ملی اور کمشنر اسے چیف سیکرٹری کی رہائش گاہ لے گیا۔ وہاں اسے شراب کی پیشکش کی گئی اور اسے سرکاری نوکری کا یقین دلایا گیا۔ جسے اس نے ٹھکرا دیا۔
اس کے بعدمتاثرہ نیالزام لگایا ہے کہ دونوں نے ان کیساتھ جنسی زیادتی کی۔ متاثرہ کی شکایت کے مطابق دو ہفتے بعد اسے رات 9 بجے دوبارہ چیف سکریٹری کی رہائش گاہ پر بلایا گیا اور وہاں یہ زیادتی انجام دی گئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ سرکاری نوکری کا وعدہ کرنے کے بجائے اسے دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے اس معاملے کے بارے میں کسی سے بات کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔



