سیاسی و مذہبی مضامین

تکبر ایک بد ترین گناہ

سرفراز احمد مغل

اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ ا لسلام کی تخلیق یعنی پیدائش کے بعدتمام فرشتوں اور ابلیس کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ، مگر ابلیس نے انکار کر دیا اور تکبر کر کے کافروں میں شامل ہو گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے اس کے انکار کا سبب دریافت فرمایا تو)کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا اس سے ابلیس کی مراد یہ تھی کہ اگر حضرت آدم علیہ السلام آگ سے پیدا کیے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے ، جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا ابلیس کی اس سرکشی نافرمانی اور تکبر پر اللہ رب العزت نے ابلیس کو اپنی بارگاہ سے دھتکارتے ہوئے ارشاد فرمایا ؛تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا گیا اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے ، قیامت تک ۔ ( کنزالایمان )

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح تکبر کے باعث ابلیس یعنی شیطان کو اپنے ایمان سے ہاتھ دھوانے پڑے ۔ شیطان جس کا پہلے نام عزازیل تھا، ابتدا ہی سے سرکش و نافرمان نہ تھا بلکہ اس نے ہزاروں سال عبادت کی ، یہ جن تھا مگر اپنی عبادت و ریاضت اور علمیت کے سبب معلم اللکوت یعنی فرشتوں کا استاد بن گیا، مگر چند گھڑیوں کے تکبر نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا ، اس کی برسوں کی عبادتیں اکارت یعنی بے کار اور ہزاروں سال کی ریاضت پامال ہو گئی ، ذلت و رسوائی اس کا مقدر بنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت کا طوق اس کے گلے پڑ گیا او ر وہ جہنم کے عذاب کا مستحق ٹھہرا۔

نمرود جس نے بظاہر پوری دنیا پر حکومت کی ، وہ بھی تکبر کی اسی قسم کا شکار ہوا ۔ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی طرف بھیجا تو اس نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا حتیٰ کے اللہ عزوجل پر تکبر کرتے ہوئے کہنے لگا میں آسمان کے رب کو قتل کر دوں گا۔معاذ اللہ عزوجل اور اس ارادے سے آسمان کی طرف تیر برسائے ، جب تیر خون آلود ہو کر واپس زمین پر آ گرے تو اس نے اپنی جہالت، بغض وعدات اور کفر کی شامت کی وجہ سے گمان کیا کہ آسمان کے رب کو قتل کر دیا،معاذ اللہ رب تعالیٰ نے نمرود کی طرف ایک مچھر کو بھیجا جو ناک کے ذریعے اس کے دماغ میں گھس گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مغرور کو ایک مچھر کے ذریعے ہلاک فرما دیا۔

البتہ انسان کو تکبر پر ابھارنے والے اسباب معتدد ہیں ، جب کہ فی زمانہ عموما ان اسباب کی بنا پر تکبر کیا جاتا ہے جس کے نظارے عا م ہیں ۔ علم ، عبادت ، مال و دولت، حسب و نسب ، حسن و جمال ، کامیابیاں ، طاقت ، و قوت اور عہدہ و منصب ۔ رب تعالیٰ کا کبریائی کو اپنی چادر فرمانا ہمیں سمجھانے کے لیے ہے ۔ کہ جیسے ایک چادر کو دو بندے اوڑھ نہیں سکتے ، یوں ہی عظمت و کبریائی سوائے میرے دوسرے کے لیے نہیں ہو سکتی ۔

انسان کی پیدائش بدبودارنطفے(یعنی گندے قطرے) سے ہوتی ہے ، انجام کار سڑا ہوا مردہ ہے اور یہ اس قدر بے بس ہے کہ اپنی بھوک پیاس نیند ،خوشی ،غمی ،یاداشت ،بیماری یا موت پر اسے کچھ اختیار نہیں اس لیے اسے چاہیے کہ اپنی اصلیت ، حیثیت اور اوقات کو کبھی فراموش نہ کرے، وہ اس دنیا میں ترقیوں کی منزلیں طے کرتا ہوا کتنے ہی بڑے مقام و مرتبے پر کیوں نہ پہنچ جائے ، خالق کون و مکاں عزوجل کے سامنے اسکی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے ، صاحب عقل انسان تواضع اور عاجزی کا چلن اختیار کرتا ہے اور یہی چلن اسے دنیا میں بڑائی عطا کرتا ہے ، ورنہ اس دنیا میں جب بھی کسی انسان نے فرعونیت ،قارونیت اور نمرودیت والی راہ پکڑی ہے بسا اوقات اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں اسے ایسا ذلیل و خوار کیا ہے کہ اس کا نام مقام تعریف میں نہیں بلکہ بطور مذمت لیا جاتا ہے ، لہذ ا عقل و فہم کا تقاضا یہ ہے کہ اس دنیا میں اونچی پرواز کے لیے انسان جیتے جی پیوند زمین ہو جائے اور عاجزی و انکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔

حضرت سید نا حزیفہ رضی اللہ عنہ ارشد فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے بد ترین بد ترین بندے کے بارے میں نہ بتاوں ؟ وہ بد اخلاق اور متکبر ہے ،کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے سب سے بہترین بندے کے بارے میں نہ بتاوں ؟

وہ کمزور اور ضعیف سمجھا جانے والا بوسیدہ لباس پہنے والا شخص ہے ، لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عزو جل کی قسم اٹھا لے تو اللہ اس کی قسم ضرور پوری فرمائے ۔ذرا سوچیے کی اس تکبر کا کیا حاصل ۔ محض لزت نفس ، وہ بھی چند لمحوں کے لیے جبکہ اس کے نتیجے میں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی ، مخلوق کی بے زاری ، میدان حشر میں ذلت و رسوائی اللہ کی رحمت اور انعامات جنت سے محرومی اور جہنم کا رہائشی بننے جیسے بڑے بڑے نقصانات کا سامنا ہے ۔

اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ چند لمحوں کی لذت چاہیے یا ذلت یا ہمیشہ کے لیے جنت میدان محشر میں عزت چاہیے یا ذلت یقینا ہم خسارے میں نہیں رہنا چاہیں گے تو ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر اس مرض تکبر کی موجودگی کا پتہ چلائیں اور اس کے علاج کے لیے کوشاں ہو جائیں ۔ ہر باطنہ مرض کی کچھ نہ کچھ علامات ہوتی ہیں ،آئیے سب سے پہلے ہم تکبر کی علامات بارے جانتے ہیں پھر سنجیدگی سے اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر یاد رہے ، تکبر کی معلومات حاصل کرنے کا مقصد اپنی اصلاح ہو نہ کہ دیگر مسلمانوں کے عیوب جاننے کی جستجو ، اپنی ناقص معلومات کی بناء پر کسی بھی مسلمان پر خوامخواہ متکبر ہونے کا الزام نہ لگایئے ، کیونکہ لاکھوں مسائل و احکام نیت کے فرق سے تبدیل ہو جاتے ہیں ۔

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ان علامات کو مخص ایک مرتبہ پڑھنا اور سرسری طور پر اپنا جائزہ لے لینا ہی کافی نہیں کیوں کے نفس و شیطان کبھی نہیں چاہیں گے کے ہم ان علامات کو اپنے اندر تلاش کر کے تکبر کا علاج کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، لہذا علامات تکبر کو بار بار پڑھ کر خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں ، پھر اپنا مسلسل محاسبہ جاری رکھیے تو انشا اللہ اللہ کامیابی کی راہ ہموار کریں گے۔

تکبر ایسا مہلک مرض ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ کئی برائیوں کو لاتا ہے اور کئی اچھائیوں سے آدمی کو محروم کر دیتا ہے ، متکبر شخص جو کچھ اپنے لیے پسند کرتا ہے اپنے مسلمان بھائی کے لیے پسند نہیں کر سکتا ایسا شخص عاجزی پر بھی قادر نہیں ہوتا جو تقوی و پرہیز گاری کی جڑ ہے کینہ بھی نہیں ۔ اپنی عزت بچانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑتا سکتا حسد سے نہیں بچ سکتا کسی کی خیر خواہی نہیں کر سکتا اور دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے۔

لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے عرض متکبر آدمی اپنا بھرم رکھنے کے لیے ہر برائی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اور ہر اچھے کام سے عاجز ہو جاتا ہے اپنے دل سے تکبر کی گندگی کو صاف کرنے کے لیے تواضع و عاجزی کا پانی استعمال کرنا بے حد مفید ہے چناں چہ حضرت سید نا حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ؛ تواضع یہ ہے کہ تم جب بھی اپنے گھر سے نکلو تو جس مسلمان سے بھی ملوتو ، اسے اپنے سے افضل جانو ۔۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button