
بنگلورو28مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک میں ایسا لگتا ہے کہ نفرت کی فیکٹری تیارکی جارہی ہے۔اب کرناٹک میں دائیں بازو کا ایک ہندوگروپ حلال گوشت کی خریداری کے خلاف مہم شروع کرنے جا رہاہے۔ ہندو جنجاگرتی سمیتی نے پیر کو کہا ہے کہ اسلامی طریقوں کے تحت کاٹا جانے والا گوشت دوسرے دیوتاؤں کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔
تنظیم کے ترجمان موہن گوڑا نے کہاہے کہ اوگادی کے دوران گوشت کی بہت زیادہ خرید و فروخت ہوتی ہے اور ہم حلال گوشت کے خلاف مہم شروع کر رہے ہیں، اسلام کے مطابق حلال گوشت پہلے اللہ کو پیش کیا جاتا ہے نہ کہ ہندو دیوتاؤں کو۔
| Join Urdu Duniya WhatsApp Group. https://chat.whatsapp.com/DYz0EGs75mn1TVvHtOaRiJ |
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کرناٹک میں حجاب پر پابندی کو لے کر پہلے ہی تنازعہ چل رہا ہے۔
بسواراج بومائی کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر جنوبی ریاست میں پولرائزیشن کو فروغ دینے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
گوڑا نے کہاہے کہ جب بھی مسلمان کسی جانور کو کاٹتے ہیں تو اس کا چہرہ مکہ کی طرف موڑ کر دعاء پڑھی جاتی ہے۔ وہی گوشت ہندو دیوتاؤں کو نہیں چڑھایا جا سکتا۔ ہندو مذہب میں ہم جانور کو اذیت دیتے ہیں۔ ایسا کرنے میں یقین نہیں رکھتے اور اسے مار دیا جاتا ہے۔



