اَذان بنام ہنومان چالیسا تنازع: مساجد کے سامنے ہنومان چالیسا پڑھاگیاتو ہم مندروں کے سامنے تلاوت کریں گے : روبینہ خانم
علی گڑھ ، 18اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) لاؤڈ اسپیکر پر اذان اور ہنومان چالیسا کا تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ میڈیا کے مطابق علی گڑھ میں ایس پی خاتون لیڈر روبینہ خانم نے کہا کہ مسلمانوں کو تنگ کرنے کی کوئی فسطائی کوشش نہ کی جائے۔ اگر مسجدوں کے سامنے ہنومان چالیسہ پڑھا جائے گا تو ہم مندروں کے سامنے بیٹھ کر بھی قرآن کی تلاوت کریں گے، ہم خواتین اس محاذ کو سنبھالیں گی۔
روبینہ نے کہا کہ مسجدوں اور مندروں میں طویل عرصے سے لاؤڈ اسپیکر نصب ہیں۔ رَمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہمیں اپنی مذہبی سرگرمیاں اداکرنے دیا جائے ، اس میں مداخلت سراسر غلط ہے ۔قابل ذکر ہے کہ علی گڑھ میں ہندو تنظیموں نے 21 چوراہوں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہنومان چالیسا کے’’پاٹھ‘‘ کا اعلان کیا ہے۔
اس سے پہلے وارانسی میں بھی اذان کے دوران لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہنومان چالیسا پڑھنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ایس پی مہیلا سبھا میٹروپولیٹن کی صدر روبینہ خانم نے خبردار کیا کہ اگر ہندوؤں نے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی کوشش کی تو سینکڑوں خواتین اس کے خلاف احتجاج کریں گی۔
روبینہ خانم نے کہا کہ اگر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا کام کیا جائے تو سینکڑوں مسلمان خواتین مندروں کے سامنے بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کریںگی، ہم یہ کام پرامن طریقے سے کریں گے،ہمارا رویہ تمہارے جیسا نہیں ہے۔
روبینہ نے کہا کہ ہر شخص اپنے مذہب کی پیروی کریں، سب کے ایمان کا احترام کریں۔روبینہ خانم نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ، یہ غلط ہے، جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت مسلمانوں اور ہندوؤں کو لڑانا چاہتی ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جو اپنا مقصد بھول کراپنے طرز عمل سے بھٹک گئی ہے ۔



