بیچلرس کی طرز زندگی عرب ممالک میں
اشتیاق احمد،کویت
عرب ممالک میں دو قسم کے بیچلرس ہو تے ہیں۔ایک وہ جو غیر شادی شدہ ہوتے ہیں اور دوسرے شادی شدہ رہنے کے باوجود بیچلرس کہلاتے ہیں کیوں کہ انکے اہل خانہ آپنے آپنے ملکوں میں رہتے ہیں۔
عموماً غیر شادی شدہ لوگوں کو بیچلر کہا جاتا ہے، لیکن عرب ممالک میں بیچلر ان لوگوں کو بھی کہا جاتا ہے جو آپنے وطن سے دور ذریعہ معاش کی تلاش میں عرب ممالک کا رخ کرتے ہیں اور تنہا زندگی بسر کرتے ہیں۔ آپنے گھر کے معاشی حالات بہتر بنانے کے ارادے سے جو حضرات آپنے وطن اوراپنے گھر والوں سے دور عرب ممالک میں بس جاتے ہیں اور اس انکی زندگی ایک سخت آزمائش بن جاتی ہے۔۔
روز مرہ کے سارے کام ساری ذمہ داریاں اکیلے ہی سرانجام دینے ہوتے ہیں صبح اٹھتے ہی چایے ناشتہ بھی خود بناؤ دوپہر اور شام کا کھانا بناؤ یہ پھر ٹفن کا انتظام کرو، دفتر کی ذمہ داریوں کو بھی آچھے سے نبھاؤ ، کفایت شعاری بھی آچھے سے کرو تا کہ گھر والوں کی ساری ضرورتیں اور ساری خواہشیں پوری کر سکیں اور ساتھ ساتھ خود کی صحت کا بھی خیال لازماً رکھنا ہی ہوتا ہے۔۔۔
یہ حضرات ہر کام خود کرتے اور ہر مشکل کا سامنا خود اکیلے کرتے کرتے ماہر ہو جاتے ہیں کہ آپنی مشکل اور پریشانی کسی اور پر تو کیا آپنے کھر والوں پر بھی ظاہر نہیں کرتے ۔
اپنے دوستوں کے ساتھ خوشحال ذندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں شاید اسلیے جو حضرات آپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہیں وہ ان بیچلرس کو غیر ذمدار یہ کم ذمدار سمجھ لیتے ہیں تو کچھ لوگ ہمدردی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن بیچلرس ایسے لوگوں کو کچھ کہنے کا کم ہی موقع دیتے ہیں۔
گذشتہ دور میں چار پانچ برسوں میں بھی لوگ اتنا کما لیتے تھے کہ واپس آپنے وطن آ کے کچھ کاروبار یہ کچھ نہ کچھ ذریعہ معاش بنا لیتے تھے ۔
ان میں سے کچھ کامیاب ہو جاتے کچھ نا کام بھی ہوتے کیونکہ ملازمت کرنے والوں میں کاروبار کی صلاحیت اور تجربہ کی کمی ہوتی ہے جسکا فایدہ دوسرے لوگ اٹھا کر دھوکا دیتے ہیں ۔دھوکا کھانے والے لوگ پھر سے عرب ممالک کا رخ کردیتے اور پھر سے وہی آزمائشوں سے گزرتے نظر آتے ہیں۔۔
دور حاضر میں تو عرب ممالک کیے حالات بھی ایسے نہیں ہیں کہ کم وقت میں زیادہ پیسہ کما کر واپس آجائیں ۔ ساری دنیا میں دیکھا جائے تو ہندوستانی لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہیے جو ایسی بیچلرس کی ذندگی عرب ممالک میں اور دنیا کے دوسرے ممالک میں گزار رہے ہیں ۔ ایسی ذندگیاں قربانیوں سے بھری پڑی ہیں جسے گنوانا آسان نہیں۔۔
اب لوگوں کو چاہیے کہ آپنی سوچ بدلیں اور طرز عمل بھی بدلیں اور آپنی نیی نسلوں کو بچپن سے ہی یہ تربیت دیں کہ وہ اپنے وطن آپنے شہر اور آپنے گھر کی اہمیت سمجھیں آپنے لیے ایسا ذریعہ معاش چنیں جسکے لیے انہیں آپنا وطن، شہر اور گھر اور اسکے سکون کی قربانی نہ دینی پڑے یہی اصل کامیابی ہے۔۔




