قومی خبریں

شاہ بانو اور ’شیطانی آیات‘ پر پابندی،ووٹ بینک کی سیاست تھی : عارف محمد خان

دہلی، 14اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)نیویارک میں 12 اگست 2022 کوبدنام زمانہ ملعون مصنف سلمان رشدی پر حملے کے بعد ان کی متنازع کتاب دی سیٹینک ورسیس ایک بار پھر سرخیوں میں آگئی ہے۔ اس کتاب پر اس وقت کی راجیو گاندھی کی حکومت نے 1988 میں بھارت میں پابندی لگا دی تھی۔ یہ وہی حکومت تھی جس نے شاہ بانو کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کوپلٹ دیا۔ احتجاجاً کیرالہ کے موجودہ گورنر عارف محمد خان نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

انہوں نے اسے ووٹ بینک کے لیے لیا گیا فیصلہ قرار دیا۔ دراصل 1980 کی دہائی میں پیش آنے والے یہ واقعات آپس میں جڑے ہوئے بتائے جاتے ہیں ۔راجیو گاندھی حکومت کا پارلیمنٹ میں قانون لا کر شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹنے کا فیصلہ اور رشدی کی کتاب پر پابندی۔ اس سوال پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے عارف محمد خان نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اس کتاب پر پابندی عائد کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگلے دن پاکستان میں مارچ کیا گیا اور ہندوستان کی جانب سے کارروائی کی بنیاد پر احتجاج کیا گیا، لیکن پاکستان کی مسلم حکومت نے اس کتاب پر پابندی نہیں لگائی۔

بعد میں کئی ممالک نے اس پر ایکشن لیا اور ایران کا فتویٰ آگیا۔کیرالہ کے گورنر نے اس وقت کی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ تقریباً تین ماہ بعد پارلیمنٹ میں میرے سوال کے جواب میں، حکومت نے جواب دیا تھاکہ پابندی کے بعد کتاب کی ایک کاپی بھی ضبط نہیں کی گئی۔ درحقیقت پابندی کے بعد کتاب کی ریکارڈ فروخت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ شاہ بانو کے فیصلے کو بدلنے میں جو سید شہاب الدین کا کردار تھا وہی شخص تھے جس نے راجیو گاندھی کو خط لکھ کر پابندی کا مطالبہ کیا تھا اور وہ مان گئے تھے۔

عارف محمدخان نے بتایا کہ بعد میں شہاب الدین نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے خود کتاب نہیں پڑھی اور کچھ خبروں کی بنیاد پر پابندی کی درخواست کی گئی۔ 2015 میں کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم،جو شیطانی آیات پر پابندی کے وقت وزیر مملکت برائے داخلہ تھے، نے کہا کہ پابندی کا فیصلہ غلط تھا۔ تو راجیو گاندھی کو یہ فیصلہ لینے کے لیے کس چیز نے متاثر کیا؟

عارف محمد نے کہا کہ 2015 کے آس پاس، کانگریس کے کئی سینئر لیڈروں نے بھی شاہ بانو کے بارے میں فیصلہ غلط پایا تھا۔ لیکن 2017 میں یہ کانگریس قائدین ہی تھے جنہوں نے دوبارہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حمایت کی اور راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ پر پابندی کے قانون کو منظور نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام فیصلے خالصتاً ووٹ بینک کے لیے کیے گئے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button