
شرف الدین شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ : حضرت سعدی فرماتے ہیں۔ میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ بچھو کی پیدائش عام جانوروں کی طرح نہیں ہوتی ، اپنی ماں کے پیٹ میں جب یہ کچھ بڑا ہوجاتا ہے تو اندر سے پیٹ کو کاٹنا شروع کردیتا ہے ، اور یوں سوراخ کرکے باہر آجاتا ہے ۔سعدی فرماتے ہیں : میں نے یہ بات ایک مرد دانا کے سامنے بیان کی توانہوں نے فرمایا : میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات درست ہی ہوگی ۔ بلکہ اسے درست ہونا چاہئے ، بچھو کی فطرت اور عادت پر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے پہلے دن سے برائی ہی کی ہوگی۔
یہی باعث ہے کہ ہر شخص اس سے نفرت کرتا ہے اور دیکھتے ہی مارڈالتا ہے ۔ جو شخص اپنوں سے دفا نہیں کرتا، وہ کبھی غیر کا بھی نہیں ہوتا، عقل مند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کی فطرت ہی میں برائی کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ ایسے ضرررساں لوگ بغیر کسی مقصد کے دوسروں کو نقصان ہی پہنچاتے رہتے ہیں ۔ حضرت سعدی نے اس حکایت میں بچھو کی پیدائش کی مثال دے کر بدفطرت لوگوں سے علیحدہ رہنے کی تلقین کی ہے ۔ انسان کی نفسیات کا مسئلہ بے حد الجھا ہوا ہے ۔ یہ بات آسانی سے سمجھ میں نہیں آسکتی کہ کوئی شخص شریف اور کوئی بدفطرت وبدخصلت کیوں ہے ، لیکن اس بات سے کسی طرح بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسانوں میں یہ فرق موجود ہے ، اور اہل عقل کے لیے لازم ہے کہ اس فرق کو ہر معاملے میں ملحوظ رکھیں ۔
غرور کرکے اپنے تمام اعمال برباد کردئیے
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک سرکش اور فاسق وفاجر شخص مخلوق خدا کے لئے باعث عذاب تھا۔ اس شخص کا تمام وقت لہودلعب میں اور لوگوں کو تنگ کرنے میں گزرتا تھا۔ہوش سنبھالنے سے لے کر بڑھاپے تک اس نے کوئی بھی نیکی کاکام نہیں کیاتھا۔ اس کے ان گناہوں اوربدکاریوں کے باعث لوگ اس کی جانب دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ اگر وہ کہیں نظر آبھی جاتا تو اس کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں خوف آتا تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل سے بستی کی جانب آئے تو اس زمانے کاایک عابد وزاہد شخص اپنے بالاخانے سے اتر کرآپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور نہایت عقیدت کے ساتھ آپ علیہ السلام کے پاؤں چومے۔ وہ فاجر شخص یہ سب دیکھ رہاتھا اس نے ایک عابد وزاہد شخص کو ایسی عقیدت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاؤں چومتے دیکھا تو یہ احساس اس کے دل میں نشتر کی ماندد چبھا کہ ایک میں ہوں جس کا نام لینا کوئی گوارا نہیں کرتا اور ایک یہ اللہ کا نیک بندہ ہے کہ بڑے بڑے عابدو زاہد اس کے پاؤں چوم رہے ہیں۔
وہ فاجر شخص اس خیال کے آتے ہی رونے لگااور روتے روتے اس پر رقت طاری ہوگئی۔ اس نے اللہ عزوجل کی بارہ گاہ میں اپنے گناہوں کی صدق دل سے معافی مانگی اور پھر جب اس عابد وزاہد شخص نے اس کو یوں گریہ کرتے دیکھا تو غصہ میں کہا کہ یہ مردودیہاں کہاں سے آگیا؟ اس کا یہاں کیاکام؟ یہ دوزخ کا ایندھن بنے گا یہ توبدکار ہے اور ایسا بدکار ہے کہ دوزخ بھی اس سے پنا مانگتی ہوگی۔ اس عابدوزاہد نے یہ خیال کرتے ہوئے دعا مانگی کہ اے اللہ ! میرا انجام اس مردود کے ساتھ نہ کرنا۔
جس وقت وہ عابد وزاہد دعامانگ رہاتھا عزوجل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی کی کہ وہ گناہ گار اپنے گناہوں پر نادم ہونے کی وجہ سے بخش دیاگیا اور جنت کاحقدار ہوگیا۔ جو ہمارے دروازے پرعاجز بن کر آئے ہم اسے مایوس نہیں کرتے ہم نے دونوں کی دعاقبول کرلی اور اس عابدوزاہد نے دعامانگی تھی کہ اس کاحشراس کے ساتھ نہ ہواس لئے اس کامقام جنت کی بجائے دوزخ ہے اس نے غرور کرکے اپنے تمام اعمال برباد کردئیے۔
مقصود بیان:
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل کی ذات سے کچھ بعید نہیں کہ وہ کس وقت ایک گناہ گار کو توبہ کی توفیق عطافرما دے اور کسی متقی وپرہیز گار کواپنی بارگاہ میں ذلیل وخوار کردے۔ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ہمیشہ استقامت کی دعاکرنی چاہئے اور ہمیشہ اس کی رحمت کا امید وار رہنا چاہئے۔ اگر کوئی گناہ گار نظر آئے تو اس کے گناہوں کی بجائے خود پر نظر دوڑانی چاہئے اور اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ کہیں باطن میں وہ اس سے زیادہ گناہ گار تو نہیں اور متکبروں کو اللہ عزوجل پسند نہیں کرتا۔



