قومی خبریں

بنگال بجٹ 2026-27: اقلیتی بہبود اور مدارس کے فنڈز میں آدھے سے زیادہ کمی، شوبھندو حکومت نے 3,548 کروڑ روپے کی کٹوتی کر دی

بنگال حکومت نے اقلیتی بہبود اور مدارس کے بجٹ میں 3,548 کروڑ روپے کی کٹوتی کر دی

کولکاتا 22 جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بنگال کی بی جے پی حکومت نے اپنے پہلے مکمل بجٹ میں اقلیتی بہبود اور مدرسہ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص فنڈز میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے اس محکمہ کو 2,165.42 کروڑ روپے دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جبکہ فروری میں سابق ٹی ایم سی حکومت نے اپنے عبوری بجٹ میں اسی شعبے کے لیے 5,713 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔

اس طرح اقلیتی بہبود اور مدارس کے بجٹ میں 3,548 کروڑ روپے کی کٹوتی کی گئی ہے، جو گزشتہ مختص رقم کے مقابلے میں آدھے سے زیادہ کمی سمجھی جا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 614 سرکاری طور پر تسلیم شدہ مدارس موجود ہیں، جہاں لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

دوسری جانب وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے اسمبلی میں ریاست کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ فلاحی اسکیموں کو بھی جاری رکھے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ریاستی سرکاری ملازمین کے مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔ اس اضافے کے بعد مجموعی ڈی اے 38 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

بجٹ میں روزگار کے شعبے کے لیے بھی اعلانات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے ایک لاکھ سرکاری اسامیوں کو مرحلہ وار پُر کرنے کا وعدہ کیا ہے، جن میں ایک تہائی عہدے خواتین کے لیے مخصوص ہوں گے۔ اس کے علاوہ تمام موجودہ سماجی بہبود کی اسکیموں کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے اناپورنا یوجنا کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا، جبکہ خواتین کے لیے مفت بس سفر کی سہولت برقرار رکھنے کی خاطر 550 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی "پنک کارڈ” نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button