
اہانت رسولؐ کا معاملہ: بھاجپا نے مذہبی جذبات کو زک پہنچانے والے 27 رہنماؤں کو جاری کی ہدایات
نئی دہلی،7جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پیغمبر اسلامؐ پر گستاخانہ اور متنازعہ تبصرہ کرنے والے بی جے پی لیڈران نپور شرما اور نوین کمار پر کارروائی کے بعد پارٹی ایکشن میں نظر آ رہی ہے۔ خبر کے مطابق آئی ٹی ماہرین کی مدد سے بی جے پی نے گزشتہ 8 سالوں کے دوران یعنی ستمبر 2014 سے 3 مئی 2022 تک اپنے رہنماؤں کے بیانات کی جانچ پڑتال کی ہے۔پارٹی کی جانچ میں لیڈران کے تقریباً 5200 بیانات غیر ضروری پائے گئے۔
ان میں سے 2700 بیانات کے الفاظ حساس پائے گئے اور 38 رہنماؤں کے بیانات کو مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے بی جے پی نے اپنے 27 رہنماؤں کو ہدایت جاری کی ہے۔ خبر کے مطابق جو بی جے پی رہنما نفرت انگیز بیان دیتے ہیں ان میں اننت کمار ہیگڑے، شوبھا کرندلاجے، گری راج سنگھ، تتھاگتا رائے، پرتاپ سنہا، ونے کٹیار، مہیش شرما، ٹی راجہ سنگھ، وکرم سنگھ سینی، ساکشی مہاراج، سنگیت سوم وغیرہ شامل ہیں۔پیغمبر اسلامؐ کے تعلق سے متنازعہ تبصرے کے بعد عرب ممالک میں سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ انڈیا‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ دریں اثنا کویت میں کچھ سپر اسٹورز نے ہندوستان میں بنی مصنوعات کی فروخت کرنا بند کر دیا ہے۔
کویت حکومت نے کہا ہے کہ ہندوستان میں برسراقتدار پارٹی کے رہنماؤں نے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے ، اورمسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور انہوں نے اس کے لیے معافی مانگنے کا مطالبہ ہے۔کویت کے علاوہ کئی عرب ممالک بشمول ایران ، پاکستان ، لیبیا ، جارڈن ، افغانستان نے بھی نوپور شرما اور نوین کمارجندل کے بیان کی سخت لفظوں میں مذمت کی ہے۔



